آئین بچاؤ ملک بچاؤ

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
صدر: نوجوانان آب حیات ایجوکیشنل،سوشل ویلفیئر کمیٹی بی ایچ ای ایل بھوپال، ایم پی 9826268925
26 جنوری ہر سال آتی ہے اور ہر سال آتی رہے گی رسمی طور پر ہم جشن آزادی اور جشن جمہوریہ مناتے رہیں گے۔ ان تاریخوں پر معدود چند حضرات مجاہدین کے کارناموں کا تذکرہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ کیا جاتا ہے مسلم مجاہدین جنگ آزادی میں صرف ایک نام مولانا ابوالکلام آزاد کا نہ جانے کیسے زبان زد ہوگیا ہے۔ جو کبھی کبھی یاد آجاتا ہے اب تو ایک دو سالوں سے ان کو بھی فراموش کر دیا گیا ہے اور ان کی تصویر اتار کر نہ جانے کہاں چھپا دیاگیا ۔ جس طرح منصوبہ بندی کے ساتھ تحریک آزادی کے مجاہدین میں مسلمانوں کے ناموں کو نکالا گیا اسی طرح قانون بنانے میں جن مسلمانوں نے حصہ لیا تاریخ کے اوراق سے ان کا نام بھی بالکل غائب کر دیا گیا۔ بھارت کے قانون بنانے میں تقریبا 35 مسلمانوں نے حصہ لیا اور انہوں نے آئین کو مؤثر اور قابل عمل بنانے کےلئے بے لاگ اور منصفانہ تجزیے کئے، مگر ہم نے ان محسنوں کے ساتھ بھی دیانت داری سے کام نہیں لیا۔ بھارت کے سمیدھان میں یہ صاف صاف درج ہے کہ مسلمان اپنے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہے لہٰذا کوئی یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا احسان ہے بلکہ سمیدھان نے ہم کو یہ حق دیا ہے۔ آزاد ملک کے دستور کو سیکولر بنانے میں جن لوگوں نے حصہ لیا ہے ان میں مسلمانوں کا اہم رول رہاہے اور انہوں نے اپنی زبردست علمی مہارت، بےلاگ اور منصفانہ تجزیوں اور دلائل و براہین سے دستور ہند کو سجایا اور سنوارا ہے۔ مجاہدین کی انتھک قربانیوں کے بعد فرنگیوں نے یہاں سے تو اپنا بوریہ بستر باندھ لیا لیکن افسوس فسطائی طاقتوں پر ہے جو گوروں کے اثرات بد کو قبول کر کے بھارت کو مذہب علاقے، برادری، غریبی، امیری اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں لگی ہوئی ہیں ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے دستور ہند کی روشنی میں ان کی ظالمانہ کوششوں کو ناکام بنائیں۔ ان دنوں جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اس کے نام پر ہندو راشٹر لانے کی تیاریاں زوروں پر چل رہی ہیں اس کی تازہ مثال زرعی قانون کے خلاف کسانوں کے احتجاج اور سی اے اے قانون کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کو نظر انداز کرنا ہے ۔ کس طرح لوگوں کی قدروں کو پامال کیا جارہاہے اور جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اس کے نام پر ڈکٹیٹرشپ والی اقتدار کو مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی رہی ہے۔ ایسے میں ملک کے تمام باشندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریہ ہند کو ایک مثالی جمہوری ملک بنائے رکھنے میں مثبت فکر کے ساتھ پوری کوشش کریں ۔ ہمارے ملک کی شاندار مثالی جمہوریت گزشتہ چند برسوں سے بری طرح پامال ہورہی ہےاور ملک کی جمہوریت کو یہاں کی فرقہ پرست طاقتیں برباد کرنے کے درپے ہیں۔ جس کے باعث یہاں کے سیکولر اور امن پسند لوگوں کی تشویش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ آپ کو یاد ہویا نہ ہو مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ جب بی جے پی کے وزیر مملکت انندکمار ہیگڑے نے اسی آئین کاحلف لے کر پارلیمنٹ میں کہا تھا ’’دراصل بی جے پی کی حکومت ملک کا آئین بدلنے کے لیے اقتدار میں آئی ہے اور مستقبل قریب میں اس پر عمل کیا جائے گا۔ ‘‘ جس آئین کا حلف لیکر پارلیمنٹ میں آنجناب داخل ہوئے اور وزیر بنے اسی آئین کو بدلنے کی سر عام بات کرتے ہیں ۔دراصل آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اس آئین کے خلاف ہیں اور اس آئین کو کلعدم کرنے کے ایجنڈے پر نہایت منظم اور منصوبہ بند طریقے سے مسلسل کام کر رہی ہیں ۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ملک کے سیکولر مزاج لوگ پوری طاقت سے سامنے آئیں اور ملک کی جمہوریت اور اس کے آئین کو فرقہ پرستوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ ہمارا ملک اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے اسے صحیح راہ کی طرف موڑنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔اگر فرقہ واریت اور منافرت کی راہ پر اگر یہ ملک مڑ گیا تو ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں گے اور اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے جتنی قربانیاں دے کر ہمارے بزرگوں نے حاصل کیا اور جمہوریت قائم کی ہے، یہ سب ختم ہو جائے گا۔ اس لئے آج کے یوم جمہوریہ پر ہم عزم مصمم کریں کہ ملک کی بقا اور اس کی سالمیت کے لئے ہر قیمت پر ہم جمہوریت کی حفاظت کریں گے۔ پورے ملک میں بد امنی اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے کچھ لوگوں کو یہاں کا میل جول ہندو مسلم اتحاد بالکل پسند نہیں ہے حالانکہ یہاں مختلف افکار و خیالات اور تہذیب و تمدن کے لوگ بستے ہیں اور یہی تنوع اور رنگارنگی یہاں کی پہچان ہے۔ چند فرقہ پرست عناصر ہیں جنھیں ملک کی یکتائی اور اس کا سیکولر نظام بالکل پسند نہیں ہے وہ ساری اقلیتوں کو اپنے اندر جذب کرنے یا بالکلیہ ان کا صفایا کرنے یا ملک کے جمہوری ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ ملک کی جمہوریت اور سالمیت خطرے میں ہے اب ملک کو ہندو راشٹر بنانے اور اسے خاص رنگ میں رنگنے کی بھرپور کوشش جاری ہے ایسے پرخطر حالات میں تمام امن پسند جمہوریت کے پاسبانوں کو اس ملک کی جمہوری بقا کے لیے ایک نئی جدو جہد کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارا پیارا ملک نفرت کی آگ میں جھلس جائے گااور فرقہ پرستی کی لہراسے تباہ و برباد کر دے گی۔ جن لوگوں نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے اپنی جانیں قربان کی تھیں اور اپنا تن من دھن لٹایا تھا انہوں نے اس ملک کے روشن مستقبل کا حسین خواب دیکھا تھا ایک ایسا بھارت جس میں گھر گھرخوشحالی ہوگی، جس میں ہر شخص کو انصاف ملے گا۔ علم کے چراغ جلائے جائیں گے۔ امن و آشتی کا ماحول ہوگا، اخوت و بھائی چارہ کے پھول ہر سو مہکینگے، نفرت، ظلم و ناانصافی کے لئے کوئی جگہ نہ رہے گی، راجہ اور پرجا کا امتیاز نہ ہوگا۔ مگر افسوس کے70/ 72 سال کا عرصہ بھی نہ گزرا کہ اب ہم دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔فرقہ پرست فسطائی طاقتیں ملک کو جوڑنے کے بجائے توڑ رہی ہیں جس کے باعث پورا ملک مذہبی جنون کی لپیٹ میں ہے۔
اس وقت اس ملک کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے خصوصاً مسلم نوجوانوں کی کیوں کہ کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں اس کے نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے زندہ قومیں اپنے نوجوانوں پر جیتی ہیں اور کسی قوم کی مستقبل کی حفاظت اس کے نوجوان ہی کر سکتے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ شباب زندگی کا وہ دور ہے کہ جب رگوں میں خون نہیں بجلیاں دوڑتی ہیں زندگی کی تمام صلاحیتیں اپنے پورے عروج پر ہوتی ہیں اور جب بھی کسی قوم میں انقلاب برپا ہوا ہے،خواہ مثبت ہو یا منفی تعمیری ہو یا تخریبی، اس کا روح رواں نوجوان طبقہ ہی رہا ہے، زندگی کے میدان میں ترقی کرنے، کچھ کر دکھانے کا جذبہ نوجوانوں سے زیادہ کسی میں نہیں ہوتا یہ میدان عزم و جزم کے شہسوار ہوتے ہیں لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں مذہبی و سیاسی بصیرت کابہت فقدان نظر آتاہے۔ ہمارا نوجوان طبقہ سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکال کر مطمئن ہو جاتاہے ۔ نوجوانوں کو یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر فرقہ پرست طاقتوں کو گالی دے کر ہم ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکتے۔ حالیہ چند برسوں میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کا ذمہ دار بہت حد تک سوشل میڈیا ہی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے سماج کے ایسے سنجیدہ طبقہ کو متحد ہوکر آ گے آنا ہوگا جو مصلحت اندیشی اور مضبوط لائحہ عمل کے ساتھ فرقہ پرستوں کے عزائم کو مٹی میں ملا سکے۔ ہمیں آپسی اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آنالابدی وضروری ہی نہیں بلکہ وقت کا اہم تقاضابھی ہے۔ ورنہ ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔۔ جمہوریت کا ایک نہایت اہم اور مضبوط ستون ’’میڈیا‘‘ سرکاری گود میں بیٹھا ہے، گودی میڈیا کی وجہ سے جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اس سر زمین ھند میں ایک ایسی تنظیم ہے جس کا مقصد ہی اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ موجودہ حالات پر نگاہ ڈالیں تو یہ ملک ہندوراشٹر بن چکا ہے۔اب بس تحریری طور پر یہ آنا باقی ہے۔
جنگ آزادی میں ہمارے اسلاف نے جو قربانیاں دی ہیں اور اس ملک کے تئیں جو وفاداریاں نبھائیں ہیں ان وفاداریوں کا صلہ اور احسان تو یہ تھا کہ برادران وطن ان سپوتوں کی عظیم قربانیوں کو یاد کرکے ان سے سبق لیتے لیکن غیروں سے کیا گلہ اپنوں نے بھی اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کردیا۔ ملک کی آزادی کے بعد جو شورشرابا قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا مسلمانوں میں مایوسی وسراسیمگی کی جو کیفیت طاری تھی اس موقع پر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نےدھارس بندھاتے ہوئے قوم سے خطاب فرمایا تھا۔ ’’اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی اس کو اپنے خون سے سینچنے کا عزم رکھو۔ یہی ملک کی حقیقی وفاداری ہے۔ اس ملک پر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتناکسی دوسرے باشندہ کا اور اس کی خدمت کی ذمہ داری تم پر بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح کسی دوسرے شخص پر عائد ہوسکتی ہے۔‘‘ وطن کا سچا وفادار اورحب الوطن موجودہ ہندی مسلمانوں کے سواکون سی قوم ہوسکتی ہے کہ جنہوں نے برطانوی حکومت کے تحفے کو قبول کرنے سے صاف انکارکردیاہو۔ جمعیۃ علماء ہند کے رہنماتو آخری آخری لمحہ تک چیختے رہے کہ تقسیم منظور کرکے ملک کو تباہی کے جہنم میں مت جھونکو۔ لیکن ہندوستان کا وہ کونسا وفادار تھا جس نے جمعیۃ علماء کی آواز کو سنا۔ آزادی حاصل تو ہوئی اور ہمارا ملک دنیا کاسب سے بڑا جمہوری ملک بھی بنا اس پر ہمیں فخر ہے لیکن آزادی کا صحیح پھل اور اس کی حقیقی میٹھاس سے آج بھی لوگ محروم ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے ملک نے ہمہ جہت ترقیات کی منزلیں طے کی ہیں۔ لیکن دوسری جانب غربت و افلاس میں ڈوبی ہوئی بہت سی آبادیوں کے باشندے نان شبینہ کے محتاج ہیں آزادی کا پھل اور جمہوریت کی افادیت سے ہماری عوام کب لطف اندوز ہو گی۔۔۔۔۔؟

Comments are closed.