ڈگریاں شعور و آگہی کی علامت ہے ضمانت نہیں!

 

عبد الرحیم

قلمی نام :تابش سحر

پروشوتم نائیڈو’ گورنمنٹ ڈگری کالج سے کیمسٹری کے معاون پروفیسر ہیں، ان کی اہلیہ پدمجا نے ایم ایس سی ریاضی میں سنہرا تمغہ حاصل کیا ہے وہ شہر کی ایک معروف دانش گاہ میں ملازمت کرتی ہے، دو تعلیم یافتہ بیٹیاں بھی تھیں، الیکھیا جو سینٹرل فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ میں نوکری کرتی تھی دوسری بیٹی اے آر رحمن میوزک انسٹی ٹیوٹ میں تربیت حاصل کررہی تھی۔ اسی گھرانے کے متعلق پڑوسیوں نے پولس کو خبر دی اور جب پولس نے آکر احوال کا جائزہ لیا تو منظر دل دہلانے والا تھا، دونوں بیٹیوں کی خون میں لت پت لاشیں پڑی ہوی تھیں، ترشول اور ڈمبیلس سے بار بار حملے کیے گئے تھے، پولس مزید تحقیقات میں جٹ گئیں تبھی والدین نمودار ہوے اور انہوں نے پولس کو مطلع کیا کہ ان دیکھی مخلوقات کی رہنمائی نے انہیں اپنی بیٹیوں کے قتل پر ابھارا، ان کے پاس ایسی شکتیاں ہیں جن کے زور پر بیٹیاں دوبارہ زندہ ہوجائے گی، توہّم پرست والدین کو پولس نے گرفتار کرلیا ہے، پڑوسیوں نے یہ بھی بتایا کہ قاتل جوڑا کئی دنوں سے پراسرار پوجا میں محو و مگن تھا، والدین کے ساتھ ساتھ دونوں بیٹیاں بھی مذہبی عصبیت کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی بالخصوص الیکھیا کے اسلام مخالف مراسلے سوشل میڈیا پر اب بھی موجود ہیں۔ انسانی روح کو سکون اسی وقت ملتا ہے جب اس کا دل ایمان کی دولت سے مالا مال ہو، وہ راہِ حق کا پیروکار ہو اور اس دولت کے بغیر وہ ہر چیز سمیٹ کر بھی محروم رہتا ہے، سکون سے کوسوں دور، بےچین اور مضطرب، کسی کروٹ اسی چین نصیب نہیں ہوتا، دنیا بھی ہاتھ سے جاتی ہے اور آخرت بھی اور یہ بہت بڑا خسارہ ہے، قابلِ مبارکباد ہیں وہ لوگ جو اندھیروں میں زندگی گزارنے والوں کو روشنی کی طرف بلاتے ہیں۔
نوٹ: – ڈگریاں بتانے کا مقصد یہی ہے کہ ڈگریاں! شعور و آگہی کی علامت ہے ضمانت نہیں۔۔۔۔

Comments are closed.