یوم جمہوریہ: فقط رسوماتِ جشن یا ایفائے عہد وپیماں کے احتساب کا دن؟!
ڈاکٹر آصف لئیق ندوی
گیسٹ لیکچرار، مانو و مدیر رابطہ خیر امت، انڈیا
asiflaiquenadwi@gmail.com
یوم جمہوریہ کے دن ہمارا ملک انگریزوں کے غاصبانہ، ظالمانہ نظام حکومت کی خطرناکیوں اور کالے قوانین کی ہولناکیوں سے اس طور پر مکمل آزاد ہوا کہ 26 جنوری 1950ء کو سات رکنی دستور ساز کمیٹی جس کے چیرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر تھے، جنہوں نے آزاد بھارت کو آمرانہ اور عیارانہ فرنگی طرزحکومت اور گھٹا ٹوپ اندھیرے والے قوانین کے بجائے ایک متفقہ دستور وآئین کا نفاذ عمل میں لایا جس میں وطن، برادران وطن اور ارباب اقتدار کے واسطے وہ جمہوری اصول و ضوابط منضبط ہیں، جس سے قوم وملک کی فلاح و بہبود اور تعمیر وترقی مربوط ہے، اسی دن سے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو اس دستور کا پابند بنایاگیا اور اس آئینی کتاب پر ہاتھ رکھ کر یہ قسم دلوائی گئی کہ ہم ہر طبقہ، ہر ذات اور ہر مذہب کے لوگوں کے حقوق و تحفظات کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے حکمرانی کریں گے! مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ عدل و مساوات کا معاملہ جاری رکھیں گے! نئے جمہوری نظام کے مطابق تمام شہریوں بشمول صحافت و میڈیا اور اقلیتوں کے مختلف قسم کے حقوق کی پاسداری کرتے رہیں گے اور سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے اصول پر قائم و دائم رہیں گے اور اظہار رائے کی آزادی کا حق سب کو فراہم کریں گے، سیاسی اور فکری آزادی کا مکمل پاس و لحاظ کرتے ہوئے دستور و آئین سے ہرگز چھیڑ چھاڑ نہیں کرین گے!! مگر افسوس۔۔۔۔۔۔
26:جنوری 1950ء کے دن ہمارا ملک دنیا کا سب سے بڑا خوبصورت جمہوری ملک بن کر ابھرا، ملک کوشاندار اور مثالی جمہوریت کا دستور وآئین نصیب ہوا، اس کے نفاذ کا جشن ۶۲ /جنوری کے دن ملک کے چپے چپے اور کونے کونے میں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے،بالخصوص مدارس ومکاتب،سرکاری اداروں، محکموں، کالجوں، اسکولوں اور ملک کے صدر مقام دہلی میں بڑے خوبصورت انداز میں منایا جاتا ہے، ہندو مسلم سب مل کر اس کا جشن مناتے ہیں اور رسوماتِ جشن کی ادائیگی میں ارباب اقتدار بھی کوئی کمی اور کسر نہیں چھوڑتے! مگرافسوس اس دن کے پیغام سے آج کے ارباب اقتداربالکل غافل نظر آرہے ہیں!ایفائے عہد و پیماں اور اسکے احتساب سے چشم پوشی کئے ہوئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام ہندوستانیوں کے لئے یوم جمہوریہ بڑی اہمیت کا حامل اور آزاد بھارت کے لیے ایک عظیم پیغام والادن ہے، کیونکہ نہیں؟ یوم جمہوریہ کے دن ہمیں رنگ و نسل کے بھید بھاؤ، فرقہ پرستی کی آگ، مذہب و ملت کے جھگڑوں،زبان و تہذیب کی کشمکش اور فرنگیوں کے مکر وفریب سے بالاتر اصول وقوانین دستیاب ہوئے اوراسی دن ہمارے پرکھوں کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا، جس کے لیے انہوں نے بے لوث قربانیاں پیش کیں، لاکھوں مسلمان شہید ہوئے اور بے شمار ہندوستانیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اورکتنے پھانسی کی صعوبت اور اذیت کی تاب نہ لاکر ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے! پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن۔۔۔ یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں۔۔ ہمارے لیے یہ دن اسطور پربڑی فرحت و انبساط اور جشن و شادمانی کادن ہے، جس میں ہم سب کیلئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے گئے، انسانیت کی خیرخواہی کے راستے ہموار ہوئے، تعلیمی و تربیتی، ملی وسماجی، معاشی واقتصادی سیاسی واخلاقی، دینی و مذہبی اور لسانی و ثقافتی اصول وحقوق کو پائیداری اور مکمل آزادی حاصل نصیب ہوئی،اس دن سے حق تلفی،قتل و غارت گری، غلط پالیسی، پروپیگنڈے، سازش و حربے کے تمام سونتے اور دروازے بند کردئے گیے، کسی اعلی سے اعلی وزیر و جج کو بھی اس بات کا اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ دستور سے کھلواڑ کریں! کسی بڑی سے بڑی پارٹی اور تنظیم کو یہ پاور نہیں دیا گیا کہ وہ آئین کا کھلم کھلا مذاق اڑائے، کوئی ظالم و جابر مظلوموں، بے سہاروں اور بے زبانوں کے حقوق کو غصب کرے، ان کے خلاف ظلم و زیادتی کو رواج دے، ناحق ان کا خون بہائے، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے ملک کی زمین کو وسعت کے باوجود تنگ کرے، انکے خلاف غیر آئینی قوانین بنائے، ان کی مساجد و مدارس کو ویران کرے، ان کے کاروبار کو تہس نہس کرے، انکی خوراک و پوشاک پر پابندیاں لگائے، ان کی عبادت و ریاضت اور دین و شریعت کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے بے جا استعمال کرے، مسجد کو مندر کی شکل قرار دے دے، انکے خلاف نفرت و عداوت اور بھید بھاؤ کا رویہ اپنائے، ملک میں یکجہتی و یگانگت، اخوت و مودت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بجائے اختلاف و انتشار، ذات پات اور فرقہ پرستی کا بیج بوئے اور جمہوریت کے اصولوں کو ہندو راشٹریہ کی تشکیل کے لئے بلی کا بکرا بنانا شروع کردے۔ مگر افسوس فی الحال ملک کا منظر نامہ کچھ اور ہی بتا رہا ہے۔
ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ہر شخص یہ اندازہ لگا سکتا ہے اور برملا یہ کہہ سکتا ہے کہ زبان پر آزادی اور جمہوریت کے نغمے تو ضرور ہیں مگر دل منافقت و عداوت سے بھرا پڑا ہے! کینہ پروری، بغض و حسد، تنگ نظری اور مسلمانوں اور مظلوموں کے تئیں منفی جذبات و خیالات پنپتے جارہے ہیں! پھر بھی یہی لوگ رسماً آزادی اور یوم جمہوریہ کا جشن مناتے ہیں! دستور وآئین کی روح کا کچھ بھی پاس و لحاظ نہیں کرتے!اسکی پاسداری کی قسمیں تو کھاتے ہیں!مگر اقلیتوں، مظلوموں اور بے سہاروں کے حقوق کی پامالیاں ملک میں عام ہیں! حریت کی تاریخ کچھ کہہ رہی ہے اور اس کا منظرنامہ کچھ اور ہے!حلف اور شبدھ اور اسکے احتساب سے ارباب اقتدار چشم پوشی کیے ہوئے ہیں! یہی وہ لوگ ہیں جونہ صرف اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ملک کی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورتی کو قربان کرتے جارہے ہیں! بلکہ ملک کے دستور و آئین سے مذاق بھی کرتے نظر آرہے ہیں؟ اِدھر ملک کا سینہ چھلنی چھلنی ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔ اُدھر ظاہرا آزادی اور جمہوریت کے جشن کا ڈھول خوب پیٹاجا رہا ہے! ایک طرف خون کی ہولیاں کھیلی جارہی ہیں! اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں، کسانوں، کمزوروں اور مزدوروں کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں! حتی کہ ان پر لاٹھیاں اورگولیاں بھی چلائی جارہی ہیں! دوسری طرف فسطائی طاقتیں یہ کھیل تماشہ دیکھ کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے جا رہے ہیں اور اسطرح وہ ملک کا تانہ بانہ بکھیررہے ہیں، ملک کی قدیم رواداری والی روایات کو مسمار کرکے رکھ دینا چاہتی ہیں، ایسے ذہن کے لوگ خواہ آزادی کے ہزار گیت گا لیں!ملک کا اس سے کچھ بھلا ہونے والا نہیں ہے، وہ اپنی ناپاک کوششوں اور حربوں سے آخرکب بازآئیں گے؟! اور کب تک صرف جمہوریت کا ڈھنڈھورا پیٹتے رہیں گے!اور اپنی غلط پالیسیوں سے ملک کو تباہ و برباد کرتے رہیں گے! وہ لوگ کچھ ایسے بھی کام کرنے لگے ہیں،جو بالکل دستوروآئین مخالف ہیں! جن سے مسلمانوں کی عزت و غیرت کو للکارا جارہا ہے، یہانتک کے ان خلاف غیر آئینی کالے قانون نافذ کیے جارہے ہیں! جو کام انگریزوں کے دور اقتدار میں بھی نہیں ہوا وہ کام اس جمہوری اور آزاد ملک میں موجودہ ارباب اقتدار کی سرپرستی میں بعض نام نہاد تنظیمیں انجام دے رہی ہیں!جو سراسر ملک مخالف، جمہوریت مخالف، دستور مخالف اور مسلم مخالف کارنامے ہیں۔ اور مسلمان جوکہ امن پسند، دین پسند، جمہوریت پسند، محب وطن ہیں انکو ظلم و زیادتی کا مشق ستم بنائے ہوئے ہیں۔ہائے افسوس۔۔۔کیا جمہوریت میں کسی ایک خاص طبقے کے خلاف کرنے کی کہیں بھی اجازت ہے؟ ہر گز نہیں! ہر گز نہیں!!
سچی بات یہی ہے کہ جمہوری اقدار اور دستور و آئین کی بقا وتحفظ کی قسم کھانے والے ہی اب اس ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ بن گئے ہیں! اقلیتوں کے حقوق و تحفظات کے رکشک ہی ان کے حقوق غصب کرنے لگے ہیں! محبتوں کے پیغام کو عام کرنے کے بجائے وہ نفرتیں پھیلا رہے ہیں! مجاہدین آزادی کی بے لوث قربانیوں اور سرفروشان وطن کی انتھک کوششوں کو یاد کرکے انہیں سچا خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے یہی لوگ ان سے اپنی منافقت کا اظہار کر رہے ہیں اور دستور و آئین کی معاہدہ شکنی کا انہیں نذرانہ پیش کررہے ہیں! اور ان کی روح کو اپنے کالے کرتوتوں سے تکلیف (زک) پہنچا رہے ہیں! مذہب وملت اور ذات پات کے نام پر امتیازی اور نارواسلوک کو فروغ دے کرملک کے ماتھے پر بدنما داغ بنتے جا رہے ہیں! ہندو مسلم اور مسجد مندر کے نام پر عوام کو لڑاکراپنے سیاسی مفادات حاصل کر رہے ہیں اور ان کے درمیان اشتعال انگیزی پیدا کر کے جمہوریت، انسانیت اور فکری و اسلامی آزادی کا گلا گھوٹ رہے ہیں! یہی افراد اپنی خطرناک پالیسیوں کیوجہ سے ملک کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں! ”ایک بنیں گے، نیک بنیں گے” کا نعرہ لگا لگا کر اپنی انانیت، خود پسندی، ہٹ دھڑمی، مطلق العنانی اورناجائز طاقت و قوت کے نشے میں چُور اپنے غرور و تکبر سے ملک کا شیرازہ بکھیر رہے ہیں اور اپنی بدنیتی سے ملک کی معیشت وترقی اور تعلیم و تربیت کا ستیاناس کرتے جارہے ہیں!! سچی بات یہی ہے۔ کہ جیسی نیت۔ویسی برکت!۔۔۔۔ ملک کی جو درگت دیکھنے کو مل رہی ہے یہ انہیں کی غلط پالیسیوں کا برا انجام ہے۔جنکے نتائج پورے ملک کی عوام بھگت رہی ہے! اللہ امن پسند وں کی ہر طرف سے مدد و اعانت فرمائے!
الغرض اسوقت پورا ملک حیران و پریشان ہے اورمختلف پریشانیوں کا ہر شخص سامنا کررہا ہے! ایک عجیب کشمکش ہے جس میں تمام لوگ مبتلا ہوتے نظر آرہے ہیں! احتجاج و مظاہرہ کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے! کسان اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے محاذ پر ڈٹے ہیں، ملک میں کہیں وباؤں کا حملہ ہے! تو کہیں بھوک و پیاس کا خوف وڈر ہے!کہیں تعلیم و تربیت کا بحران ہے تو کہیں اسکی وجہ سے حکم عدولیاں اور نافرمانیاں ہیں! تو کہیں ظلم و زیادتی کی کثرت ہے! کہیں مسلم فسادات سے ملک کا سر جھک رہا ہے! پھر بھی شرپسندوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے! کہیں اقلیتوں سے بے توجہی اور بے اعتنائی کی خونی داستانیں ہیں! مگر انکی حفاظت و بندوبست کا کوئی معقول انتظام وبندوبست نہیں ہورہا ہے! پھر تو یہی کہا جانا مناسب ہوگا کہ دستور و آئین کواس حکومت کے ذریعے خطرہ لاحق ہو گیاہے! ظالموں کو اپنے مفادات کے حصول کی فکر دامن گیر ہے! اسی لیے زبردستی کے غیر آئینی قانون بنائے جارہے ہیں! متعدد حربے اختیار کئے جارہے ہیں! خفیہ ایجنڈے ہیں! پروپیگنڈے ہیں! تین طلاق اور کشمیر کے خصوصی درجہ کی منسوخی کا معاملہ ہے! تشدد و زیادتی کی ریل پیل ہے! شہریت قانون، متنازعہ زرعی قوانین ہیں! نئی تعلیمی پالیسی کی خطرناکیاں ہیں! کسانوں کا یوم جمہوریہ کے موقع سے تازہ احتجاج اور جھڑپوں کا معاملہ ہے! مقننہ اور انتظامیہ کا ان پر ظلم و زیادتی اور طاقت کابے جا استعمال ہے، کچھ مہینے قبل شاہین باغ میں شاہینوں کا احتجاجی ریکارڈ ہے!! بہت افسوس کی بات ہے۔۔۔۔۔۔ پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔۔۔ہم وفادار نہیں تو بھی دل دار نہیں! کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں تو اور کیاہے؟!جمہوریت کی بدنامی نہیں اور کیا ہے؟! کہ جمہوریت کا نعرہ ہے اور دل اور نظر تنگ نظری کا شکار ہے۔
کیا2021ء کے یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کی خوشیاں اور رسومات کی ادائیگی کے یہی اقدامات اور سوغات ہیں؟ جنہیں حکومت اپنی کامیابی کے طور پر پیش کررہی ہے؟ کیا اسی خون آشام جمہوریت کا جشن منانے ہم لوگ یوم جمہوریہ کے دن اکٹھا ہوئے ہیں؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جشن منائیں تو کس بات پر منائیں؟ آزاد بھارت کہیں تو کس ملک کو کہیں؟ پھر تو انگریزوں کازمانہ ہی کسی قدر غنیمت تھا؟ جس میں کم از کم تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگ توتھے!!جو مل جل کر جینا مرنا جانتے تھے، دوسروں کے دکھ درد میں ہندومسلم ایکدوسرے کا کام آتے تھے۔! ألیس منکم رجل رشید۔۔۔۔
پھر بھی ہمیں تاریکی سے تاریکی کی نہیں بلکہ اپنی نئی نسلوں اور امن پسند جیالوں کی فکر و نظر سے سحر فردا کی قوی امید ہے۔ مکمل آزادی کا پختہ یقین ہے۔کیونکہ ان مع العسر یسرا۔ وان اللہ مع الصابرین۔نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دنیا آپ بنائیں، اپنے وقت و صحت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک علمی وانسانی انقلاب پیدا کریں۔
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے
Comments are closed.