ڈَکیت پر ڈِکیت بازی مار گئے
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
دیش میں اس وقت ڈَکیت اور ڈِکیت کے درمیان گرما گرمی جاری ہے، یہ ملک ڈَکیتوں کی زد میں ہے، جن کا سرغنہ گجرات سے لیکر دہلی فسادات تک سرعام دکھائی دیتا ہے، ان دنوں زرعی قوانین اور احتجاجات کے سلسلہ میں ان پر بے چینی چھائی ہوئی ہے، ٩/مراحل کی گفتگو بھی ناکام ہوچکی ہے، ایسے میں اب وہ صحیح معنوں میں اپنی اصل فطرت اور حقیقی چہرے کے ساتھ رونما ہیں، ٢٦/جنوری ٢٠٢١ کے بعد تو ان کی سرگرمی میں مزید گرمی پیدا ہوگئی، متعدد گرفتاریاں، کیسز، دیش دروہ کے قوانین اور کارروائیوں کے ساتھ پوری زرخرید غلام میڈیا ان کی گود میں ہے، انٹرنیٹ کی سہولت معطل کردی گئی ہے، آنے جانے والوں کے راستے روکے جارہے ہیں، نیز غازی پور بارڈر سے کسانوں کو ہٹانے کیلئے جو کچھ کیا جانا تھا وہ سب کچھ کیا گیا، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈَکیت کی ڈکیتی کام نہیں آرہی ہے، سارے ہتھکنڈے پھیل ہوتے دکھائی دیتے ہیں، ٢٠٢١ بجٹ سیشن کے افتتاح میں بھی ایک ہلچل دیکھی گئی تھی، چہار جانب سنّاٹا تھا، اگرچہ صدر جمہوریہ نے اس میں کوئی کمی نہ کی کہ سرکار پر لگا ہر داغ دُھل جائے؛ لیکن کسان ہیں کہ ماننے کو تیار نہیں، چنانچہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی تقریر کے بعد میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ الگ الگ کمروں میں لگاتار کئی میٹنگ کی گئی ہیں، یہ مشورے غیر معمول بہ تھے، چہرے صاف بتارہے تھے کہ ان پر کسان کا ہَل چل گیا ہے، اور کھیت کی جگہ ان کے ارمان جُوت دئے گئے ہیں، ان کے ہاؤ بھاؤ سے بھی محسوس ہوتا تھا کہ کسانوں کی جفاکشی نے چٹیل میدان میں پھاوڑے چلا دئے ہیں، اور زمین کو یوں نرم و ملائم کردیا ہے کہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے؛ کہ شادابی سے رُخ پھیریں، ڈَکیت کے اندرونی اختلافات اور بے چینیاں بھی واضح تھیں، کسانوں کا زور، یوگی کی سیاست اور پھر عالمی دباؤ ان سب نے ان کے دل بٹھا دئے ہیں، عموماً پارلیمانی سیشن کی شروعات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی جاتی ہے؛ مگر اس دفعہ کسی عام نیتا کے ذریعہ پیغام بھیج دیا گیا، اس میں بھی بڑے والے ڈَکیت کا پیغام تھا جس میں کسانوں سے بات کرنے پر زور دیا گیا تھا، معصومیت کا شہد ٹپک رہا تھا، اپنی مرضی اور دیش کیلئے اپنی قربانی؛ بالخصوص کسانوں کیلئے سرکاری مراعات کا تذکرہ بڑے پیمانے پر کیا جارہا تھا، لیکن ان سب کے باوجود کوئی مثبت پہلو سامنے نہیں آیا، مزید حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ڈَکیت نے اب تک پریس کانفرنس کر کے یا کسی بھی معتبر ذرائع سے اپنی بات نہیں رکھی، ٢٦/ جنوری کے بعد چونکہ سارا معاملہ اپنے ہاتھ میں آگیا تھا تو شاید انہیں لگا کہ اب کسی سے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں، بس کارروائی کردی جائے اور اپنا اصل ہنر دکھاتے ہوئے انارکی عام کردی جائے، افسوس کہ ڈَکیت اپنی جارحیت میں جذبات کی قوت اور طاقت کو بھول گئے، نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی ساری چانکیا نِیتی اور سیاسی چالیں دھری کی دھری رہ گئیں، اور کسان آندولن ایک نئے جوش کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا.
اس ڈَکیت کے سر پر ناچنے والا اور اسے لوہے کے چنے چبوا دینے والا بھی ایک ڈِکیت ہے، راکیش ڈِکیت ان کی پیدائش اترپردیش کے اندر ٤/جون ١٩٦٩ میں ہوئی ہے، کہتے ہیں کہ انہوں نے MA اور وکالت کیا ہے، بی بی سی نے ان پر مستقل تعارفی ڈاکومنٹری بنائی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک عظیم باپ کے بیٹے ہیں، ان کے والد کا نام مہندر سنگھ ڈِکیت تھا، جن کو لوگ بابا ڈکیت اور مہاتما ڈکیت بھی کہتے ہیں، جنہوں نے پوری زندگی کسانوں کے حقوق کی بازیابی اور ان کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کھپا دی، انہیں سب سے زیادہ شہرت ١٩٨٥ میں ہوئی جب انہوں نے ایک کسان آندولن کی قیادت کی تھی، اور یہ قیادت ایسی تھی کہ اس وقت حکومت بھی ان سے پناہ مانگتی تھی، وہ ہمیشہ سیاست سے دور رہے، بلکہ سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتے تھے، سادہ زندگی، سادہ فکر مگر بلند نگاہ کے مالک تھے، ان کے چار بیٹے تھے، نَریش، راکیش، نریندر اور سریندر ڈکیت- ان میں سب سے زیادہ شہرت راکیش ڈکیت کو ہوئی، ان کے گھرانے میں یہ پہلے فرد بھی تھے جنہوں نے سیاست میں قدم رکھا، ٢٠٠٧ میں بڈھانہ سے آزاد امیدوار تھے؛ لیکن شکست ہوگئی، ٢٠١٤ میں امروہہ سے چناؤ لڑے وہاں بھی ہار گئے، کہتے ہیں کہ نیتا چودھری چرن سنگھ سے ان کے خاص تعلقات رہے ہیں، راشٹر لوک دَل سے بھی گہرا ناطہ رہا ہے، اس وقت کسان کھاپ نامی سنگٹھن کی قیادت کرتے ہیں، بی جے پی کے وہ قریبی رہے ہیں، شاید اسی لئے کسان آندولن میں شمولیت اور شروع میں ان کا بھاشن مشکوک سمجھا جاتا تھا، انہوں نے تو خود یہ قبول کیا ہے اور روتے روتے تسلیم کیا ہے؛ کہ وہ کبھی بی جے پی کے حامی رہے ہیں، ٢٠١٩ میں انہیں کو ؤوٹ بھی دیا تھا؛ لیکن اب سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ حکومت کسی کا بھلا نہیں چاہتی، خاص طور پر کسانوں کو مسل دینا چاہتی ہے، جو بھی ہو اتنا طے ہے کہ ڈَکیت پر ڈِکیت نے اپنے چند آنسوؤں سے فوقیت پالی ہے، آگے کی راہیں کیسے کھلیں گی اور کیا ہوگا اس پر سٹیک تبصرہ کرنا محال ہے، مگر اتنا طے ہے کہ جو لوگ ڈِکیت کو خاص طور پر ان کے بھائی نریش ڈِکیت جو کبھی مسلم مخالف بیانات کیلئے پہچانے جاتے تھے، یا پھر خود راکیش کی ڈِکیت کی بعض متنازع بیانات کو عام کیا جارہا ہے، اور انہیں اس وقت نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ دراصل جمہوریت کی نزاکت اور وقت کی ضرورت کو نہیں سمجھتے، ہمیں اولاً یہ بات ذہن میں بٹھا لینا چاہیے کہ جہاں بات مسلمان کی ہو تو سبھی ایک ہی تھالی کے چٹّے بٹّے ہیں؛ لیکن اس وقت ملک کی جمہوریت کا مسئلہ ہے، اور ہوسکتا ہے کہ یہی موقع دوٹوک، فیصلہ کن ثابت ہوجائے، اس لئے حکمت و دانائی کا دامن نہ چھوڑیں اور ڈِکیت و ڈَکیت کے درمیان فرق سمجھتے اس آندولن کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں.
Comments are closed.