ازدواجی زندگی کا بحران اور نسل نو کا مستقل 

 

عمر فراہی

 

کسی نے لکھا ہے کہ عورت نافرمانبرداری کرنے لگے تو کیا کریں؟۔۔۔۔

عورت کی نافرمانبرداری میں زیادہ قصوروار وہ مرد ہی ہوتے ہیں جو شروع شروع میں تو اپنی نئی نویلی دلہن کو خوب منھ لگا کر نہ صرف سر پر بٹھا لیتے ہیں گھر کے سارے فیصلے یہاں تک کہ خود کو بھی اسی کے سپرد کردیتے ہیں۔ بعد میں جب شوہر کے بہت زیادہ لاڈ پیار سے بیوی خود شوہر بن کرنافرمانبرداری پر آمادہ ہوتی ہے تو مردوں کو برا لگنے لگتا ہے ۔ قدرت نے مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے اس لئے اسے اس کے مقام پر رکھ کر اس کے حق کی پاسبانی کی جاۓ تو تنازعے اور نافرمانبرداری کا اندیشہ بہت کم رہ جاتا ہے ۔جدید فیمنسٹ انقلاب سے پہلے انسان اپنے اس اصول پر قائم تھا تو شوہر اور بیوی کے تنازعے کا مسئلہ نہ کے برابر تھا ۔یا اگر ایسا ہو بھی جاتا تو یہ تنازعہ آپس میں حل کر لیا جاتا ۔آج عورت اور مرد کے تنازعے نہ صرف عدالتوں اور پارلیمنٹون کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں ماضی کی بنسبت طلاق کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔سوال یہ نہیں ہے کہ اس مسئلے کیلئے مرد ذمدار ہے یا عورت جیسا کہ ہم میں سے اکثر مرد و خواتین حضرات مخالف جنس پر ناانصافی کا الزام عاید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔اس مسئلے کا ذمدار ہمارا وہ سیکولر اور لبرل مادہ پرستانہ سیاسی معاشی اور تعلیمی نظام ہے جس کی بنیاد ہی ریاکاری مفاد مسابقت گلیمر اور روشن خیالی کے نظریے پر قائم ہے ۔ اور اس جدید معاشرے کا انتخاب بھی ہم نے خود کیا ہے ۔جدید معاشرے میں ہر مرد کو خوبصورت تعلیم یافتہ اور برسر روزگار عورت چاہئے تو عورت بھی پیچھے کیوں رہے ۔اسے بھی ایسے مرد کی تلاش ہوتی ہے جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دولت اور شہرت کا بھی مالک ہو۔

اقبال کی نظر اس مادہ پرست نسوانیت زدہ معاشرے کی خرابی پر اسی وقت پڑ چکی تھی جب انہوں نے برطانیہ جاکر اسے بہت ہی قریب سے دیکھا اور کہا کہ

 

تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

 

افسوس نہ ہمارا ذہن اس معاشرے کو تبدیل کرنے کی طرف گیا اور نہ ہم اصل بیماری کی تشخیص ہی کر پارہے ہیں اور آدم کی دونوں جنس ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوۓ قانونی اور جبری طریقے سے اپنا حق حاصل کرنے کیلئے متصادم ہیں ۔قرآن کی سورہ اعراف میں اللہ نے اسی فتنے سے آگاہ کیا ہے کہ اۓ بنی آدم کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہاری شرم گاہوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھول دے ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کبھی عورت کیلئے اس کے بال کا کھل جانا محال تھا اب کس طرح طاغوتی طاقتوں نے تفریح کے نام پر باقاعدہ فلم انڈسٹری کے ذریعے اس کی زینت کو ہی کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے ۔بدن کے ایسے حصوں کا مظاہرہ کروایا جارہا جو کسی زمانے میں کسی مرد کے سامنےکھل جانا قیامت سے کم نہیں تھا ۔

خیر عورت اور مرد کی ازدواجی زندگی کا فیصلہ نہ تو زور زبردستی اور سختی سے کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی آج کے انسان ساختہ لبرل آئین اور قانون سے ہی ممکن ہے ۔کچھ رشتے ریاستی قانون اور آئین کے حدود سے بالاتر ہوکر دل کا فیصلہ چاہتے ہیں ۔دل کا فیصلہ دلیلوں اور ثبوتوں کی بنیاد سے ہٹ کر محبت قربانی ایثار دوستی اور رحم کی بنیاد پرہوتا ہے۔اگر مرد اپنی نافرمانبردار بیویوں کو طاقت اور طلاق کے ذریعے درست کرنے کو حل سمجھتے ہیں تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ عورت صرف بیوی نہیں ہوتی ۔عورت بیٹی اور بہن بھی ہوتی ہے ۔اگر آپ اپنی بیوی کو طاقت اور طلاق سے سیدھا کرنا چاہتے ہیں تو کہیں یہ عورت آپ کی بہن اور ماں بھی ہے ۔کیا اس رشتے کی نسبت سے آپ اپنے باپ اور بہنوئی سے بھی اسی رویے کی امید کرتے ہیں ۔عورت اگر آپ کی بیٹی بھی ہے تو کیا آپ اپنے داماد سے بھی اسی سلوک کا مطالبہ کرتے ہیں ۔اس لئے ایک خوشحال ازدواجی زندگی اور خوشحال خاندان کالطف حاصل کرنے کیلئے عورت اور مرد دونوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ اللہ نے اس دنیا کو دونوں ہی کی امانت میں الگ الگ حیثیت اور مقام دیکر سونپا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزرتے ہوئے دوستانہ ماحول میں نسلوں کی تربیت کریں تاکہ بچوں کے درمیان بھی محبت اور دوستی کی فضا قائم رہے ۔اگر یہ ماحول پیدا ہوتا ہے تو یہی مزاج اور جذبہ ان کی اولادوں کی اولادوں میں بھی منتقل ہوتا رہے گا اور ایک خوشحال معاشرے کا وجود عمل میں آئے گا ۔بدقسمتی سے سرمایہ دارانہ تہذیب نے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا فریق بنا کر ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کردیا ہے ۔اور اب دونوں کے درمیان یہی فرق تیزی کے ساتھ تکرار اور فساد کا سبب بنتا جارہا ہے ۔کچھ رشتے مصالحت کی بنیاد پر قائم تو رہ جاتے ہیں لیکن نفرت اور تفریق کے ماحول میں پرورش پانے والی ایسی نسلوں کا مستقبل تابناک نہیں ہو پاتا ۔بعد میں جب اولادیں والدین کی نافرمانبردای کرتی ہیں تو ہم ان کی نالائقی اور نااہلی کا رونا روتے ہیں ۔

Comments are closed.