میانمار میں آنگ سانگ سوکی پر فوجی کارروائی –

 

صابر حسین ندوی
کہتے ہیں حکومت ظلم کے ساتھ کبھی ٹِک  نہیں سکتی، دیر سَویر اس کا انجام عبرتناک ہو کر ہی رہتا ہے، کیونکہ ظلم ایک بیج ہے جس کا نتیجہ نکل کر رہے گا، اور وہ کڑوا کسیلا ثمرہ بن کر دوبارہ اسی پر لوٹ کر آئے گا، میانمار میں بھی گزشتہ اور اس سے پیوستہ سالوں میں ظلم کی وہ خوفناک داستانیں دکھائی اور سنائی دی گئیں جس سے روح کانپ جائے، اقلیتوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے گئے، بالخصوص روہنگیا مسلمانوں کو سمندروں کے حوالے کردیا گیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی، انہیں بیوا اور بچوں کو یتیم کیا گیا، کمزور و ناچار لوگوں پر زندگی تنگ کردی گئی، ایسا لگتا تھا کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان پر لپیٹ دی گئی ہے، بودھ مذہب کے شانتی پسند لوگوں نے وہ شر پھیلایا کہ ان کی ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ شرمسار ہوجائے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ یہ سلسلہ موجودہ دہائی بھر سے قائم ڈیموکریسی میں ہی ہو رہا ہو؛ بلکہ جب پچاس سالہ مارشل لا رہا تب بھی انیس/ بیس کے ساتھ کچھ یہی عالم پایا جاتا تھا، اب دوبارہ ملک میں ایک سال کیلئے ایمرجنسی لاگو ہوگئی ہے، آج علی الصباح جب گزشتہ سال نومبر میں منتخب پارٹی اور آنگ سان سوچی کی قیادت میں ایک نئی سرکار کا پارلیمانی سیشن شروع ہونے جارہا تھا، تبھی انہیں ستَّہ سے بے دخل کردیا گیا، بی بی سی اور الجزیرہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ میانمار کی فوج نے اسٹیٹ کونسیلر آنگ سان سو کی اور اور صدر ون منٹ اور برسراقتدار پارٹی کے دیگر اراکین کو پیر کے دن حراست میں لینے کے بعد ایک سال کیلئے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا، میڈیا رپورٹوں کی مانیں تو پہلے نائب صدر یو منٹ سوے کے ذریعہ دستخط کردہ مفاہمت نامہ میں فوج کے باضابطہ مائیواڈی ٹی وی پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا؛ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اب میانمار کے ایگزیکیوٹو صدر کے طورپر کون اپنی خدمات انجام دیں گے۔ اعلان کے مطابق فوج کے کمانڈر ان چیف من آنگ ہلنگ ملک کے اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں لینے جارہے ہیں، بڑے شہروں میں کئی مقامات پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہے، سرکاری ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ وہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے بند ہے؛ تاہم دارالحکومت کے ساتھ رابطے منقطع ہیں اور اس لئے وہاں اب بھی صورتحال غیر واضح ہے، مقامی ذرائع ابلاغ کے علاوہ بی بی سی ورلڈ سروس اور کئی غیر ملکی چینلز کی نشریات روک دی گئی ہیں، عوام تشویش میں ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ شہروں میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کیلئے قطاروں میں کھڑے انتظار کر رہے ہیں۔ میانمار بینکس ایسوی ایشن کے مطابق مالیاتی سہولیات عارضی طور پر بند ہیں، میانمار کی راجدھانی نیپیڈا میں فوجی مارچ کا خوف ہے، ہر طرف فوج ہی فوج دکھائی دے رہی ہے، ایسا مانا جاتا ہے کہ پچھلے سال انتخابات میں دھاندلی کو لیکر فوج پہلے سے ہی حرکت میں تھی؛ لیکن آنگ سانگ سوکی جیسی سفاک نے کبھی نہ سوچا ہوگا کہ اس کی بربریت کے باوجود اس کے اپنے ہی لوگ اسے گدی سے کھینچ کر اتار دیں گے.*
*آنگ سان سوچی کون ہیں؟ ایک زمانہ تھا کہ انہیں نوبل پرائز دیا گیا تھا، مگر اب وہ ظلم کی تصویر بن کر رہ گئی ہے، آنگ سان سوچی میانمار کی آزادی کے ہیرو جنرل آنگ سان کی بیٹی ہیں۔ سنہ ١٩٤٨ میں میانمار کے برطانوی نوآبادیاتی حکومت سے آزادی حاصل کرنے سے عین قبل، جب وہ صرف دو سال کی تھیں، تو ان کے والد کو قتل کر دیا گیا تھا؛ ایک وقت تھا جب سوچی کو انسانی حقوق کی ایک روشنی کے طور پر دیکھا جاتا تھا، ایک اصولی کارکن جو کئی دہائیوں تک میانمار پر حکمرانی کرنے والے بے رحم فوجی جرنیلوں کو چیلنج کرنے کیلئے اپنی آزادی سے دستبردار ہو گئیں۔ سوچی نے سنہ ١٩٨٩ اور ٢٠١٠ کے درمیان تقریباً ١٥/ برس نظربندی میں گزارے اور فوجی آمریت کے خلاف عزم و استقلال کی علامت کے طور پر پہنچانی گئیں۔ سنہ ١٩٩١ میں انھیں نظر بندی کے دوران نوبیل امن انعام سے نوازا گیا، نومبر ٢٠١٥ میں ان کی زیر قیادت ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے ملکی تاریخ کے ٢٥/ سال میں کھلے عام طور پر لڑے جانے والے انتخابات میں زبردست فتح حاصل کی تھی، میانمار کے آئین نے انھیں صدر بننے سے روک دیا کیونکہ ان کے بچے غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجود سوچی کو ہی ملک کا حقیقی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ میانمار کی سٹیٹ کونسلر بننے کے بعد سے ہی ان کی قیادت کو ملک کی مسلمان روہنگیا اقلیت کے ساتھ سلوک پر پرکھا جاتا ہے، سنہ ٢٠١٧ میں فوج کے کریک ڈاؤن میں میانمار میں بسنے والے ہزاروں روہنگیا مسلمان ہلاک ہوئے؛ جبکہ سات لاکھ سے زائد ہمسایہ ملک بنگلہ دیش چلے گئے۔ سوچی کے سابقہ ​​بین الاقوامی حامیوں نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے روہنگیا مسلمانوں کی عصمت دری، قتل اور نسل کشی کو روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا؛ بلکہ ایک آواز یہ تھی کہ انہیں ملنے والا نوبل پرائز واپس لیا جائے، مگر ایسا نہیں کیا گیا، ابتدائی طور پر کچھ لوگوں نے استدلال کیا کہ وہ ایک عملی سیاستدان تھیں جو ایک پیچیدہ تاریخ والے کثیر النسل ملک پر حکومت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں؛ لیکن سنہ ٢٠١٩ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی سماعت کے دوران سوچی کی جانب سے فوج کے اقدامات کے دفاع نے ان کی بین الاقوامی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔ سوچی میانمار میں بدھ مت کی اکثریت میں اب بھی بہت زیادہ مقبول ہے جو روہنگیا برادری کیلئے بہت کم ہمدردی رکھتے ہیں؛ ان کی یہی بے دردی ان کیلئے درد ثابت ہورہی ہے، اور دیکھتے جائیے! ظلم کا یہ پود کیا کیا گل کھلاتا ہے؟

Mshusainnadwi@gmail.com

01/02/2021

Comments are closed.