مظلوم صحافت کی آواز بنئے
از: ابوالحسنات ندوی
جمہور کی نگرانی اور نظر جب کسی خاص فرد اور ادارہ پر ہو تو آزادی بے راہ روی میں نہیں بدلتی ہے اسی لئے اسلام نے ہر باشعور فرد کو اپنے ماتحت کا مسئول و ذمہ دار بنایا ہے، اور اس ذمہ داری سے اعراض پر آخرت میں مؤاخذہ اور پکڑ کی دھمکی بھی دی ہے، بدیہی طور پر یہ بات اچھی طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ ہر وہ سماجی برائی جو شناعت کی حامل ہو اسے خلوت میں اور جمہور کی نظروں سے اوجھل ہوکر انجام دینے کی کوشش کی جاتی ہے
ہم جمہور کا تذکرہ اس لئے کر رہے ہیں کہ کسی جمہوری ملک میں جہاں حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے وہاں پر ضروری ہے کہ ملک کا ہر چھوٹا بڑا واقعہ جمہور کی نظروں کے سامنے ہو کسی بھی واقعہ کو چھپانا یا دبانا جمہوریت کی روح کے منافی اور خلاف ہے اور یہ بات تو طے شدہ ہے کہ صحافت جمہوریت کے شامیانے کے چار کھمبوں میں سے ایک کھمبا ہے اگر یہ کھمبا کمزور ہوا تو لامحالہ شامیانہ ایک طرف لڑھک جائے گا
آج وطن عزیز کا ہر فرد بادل نخواستہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ صحافت دم توڑ رہی ہے، اس کے کچھ افراد اور ادارے نے اپنے آپ کو بہت پہلے سے گروی رکھ دیا ہے انہیں آزاد رپورٹر بننے کے بجائے ایک مخصوص خیال و فکر کا بھونپو بننے میں زیادہ مزہ ہے، اور یہی وہ لوگ ہیں جو جمہوریت کے یمراج ہیں ، جبکہ انہیں میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو انتہائی غیور و جسور ہے حق لکھنا اور حق بولنا جس کا شعار ہے حالانکہ اس طبقہ کے افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے
مگر یہی ہیں جن کی وجہ سے ارباب حکومت کی نیند خراب رہتی ہے اس لئے اب صحافیوں کی گرفتاری اور دھر پکڑ شروع کردی گئی ہے تاکہ جمہور کی نظر اور نگرانی سے بچ کر سب خواہشیں پوری کرلی جائیں نیز شماتت و جگ ہنسائی سے بھی بچ جائیں
مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب میدان صحافت کے افراد حق کے مطالبہ کیلئے سڑک پر ہیں لہذا انہیں مضبوط کرنے کیلئے جمہوریت کے محبین کو ان کے ساتھ آنا چاہئے
Comments are closed.