ايک چراغ اور بجھا نامور محقق ومصنف ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری كى وفات
عبید اللہ شمیم قاسمی
ممتاز محقق، بر صغیر پاک و ہند میں ابو الکلامیات کے ماہر ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری طویل علالت کے بعد اکیاسی سال کی عمر میں كراچى كے اسپتال میں آج 2/فرورى 2021ءبروز منگل اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔
ممتاز محقق ونامور مصنف ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری كى وفات ملت اسلاميہ كے ليے بہت بڑا علمى خساره ہے، يوں تو جو بھى اس دنيا ميں آيا ہے اسے ايک نہ ايک دن مرنا ہے، موت برحق ہے اور ايسى حقيقت ہے جس كا آج تک كسى نے انكار نہيں كيا اور اور اس سے كسى كو مفر نہيں؛ مگر بعض ايسى شخصيت جو اس دنيا سے رخصت ہوتى ہيں جو اپنى ذات ميں اپنے نماياں كارناموں كى وجہ سے ايک انجمن اور اكيڈمى كى حيثيت ركھتى ہيں، تو ان كى وفات پر رنج وغم كا ہونا ايک فطرى امر ہے۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہا نپوری بھى انہيں خوش نصيب افراد ميں تھے جنهوں نے تن تنہا ايک اكيڈمى كى طرح كام كيا اور رہتى دنيا تک ان كے علمى كارنامے ان كے نام كو زنده وجاويد ركھے گى اور يہ كارنامے ان كے ليے ذخيرۂ آخرت هوں گے، ان شاء الله تعالى۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری 30 جنوری 1940ء کو شاہجہانپور، یوپی (متحدہ ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام تصدق حسین خان تھا۔ ابتدائی تعلیم شاہ جہان پور میں حاصل کی۔ مدرسہ سعیدیہ شاہ جہان پوراور مدرسہ شاہی مراد آباد سے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی اور وہیں ابتدائی عربی اور فارسی کے درس لیے۔آپ شروع ہی سے اپنے چچا مولانا عبدالہادی خان جو مفتی کفایت اللہ دہلوی کے شاگرد ِرشید تھے، کی زیر تربیت رہے۔ تقسیم کے بعد 1950ء میں والدین کے ہمراہ بھارت سے پاکستان ہجرت کی اور آگ و خون کا دریا عبور کر کے لٹے پٹے پاکستان پہنچ کر کراچی میں آباد ہو گئے ۔ اور اپنی باقی تعلیم جاری رکھی۔ 1970ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم۔اے(اُردو)اور 1980ء میں سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کا موضوعِ تحقیق’”تذکرہ خانوادہ ولی اللٰہی از سر سید احمد خان، ترتیب و تالیف و تدوین‘‘تھا۔ لیکن دراصل آپ کے اصل ذوق کی تسکین کا سامان ابو الکلام آزادؔ کے فکرو فن میں موجود تھا اس لیے آپ نے اپنی باقی زندگی ابو الکلامیات اور آزاد شناسی کے سپرد کر دی۔
تعليم سے فراغت كے بعددرس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے اور باقی اوقات مطالعہ وتحقیق میں صرف کیے۔ مدرسہ تعلیم القرآن، ہولی قرآن سوسائٹی سے ملازمت کا آغاز کیا ۔
بعد ازاں نیشنل کالج کراچی سے وابستہ ہوئے اور 2000ءمیں ریٹائرڈ ہوئے، اس دوران انہوں نے انجمن ترقی اردو، شعبہ قاموس الکتب اور سہ ماہی اردو میں بھی خدمات انجام دیں۔
1957 ء تا 1974ء ابو سلمان کے سیکڑوں مضامین مختلف رسائل میں شائع ہوئے اور بعض پرچوں میں فرضی ناموں سے بھی مضامین لکھے۔ ہندوستان میں معارف اعظم گڑھ، برہان (دہلی)، اردو ادب (علی گڑھ)، ہماری زبان (علی گڑھ)، مدینہ (بجنور) الجمعیت (دہلی) سب رس (حیدرآباد، دکن) وغیرہ، جب کہ یہاں ہفت روزہ ’چٹان‘، سہ ماہی اردو، قومی زبان، اردو نامہ، افکار، اخبار اردو ، الفتح، الحق، فنون اور’پاکستان ہسٹاریکل جرنل‘ وغیرہ میں لکھتے رہے۔
2016ء سے ضعف اور اعذار کی بنا پر انہوں نے لکھنا پڑھنا ترک کر دیا تھا۔ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے میں ڈیڑھ سو سے زائد تحقیقی کتابیں اور لاتعداد تحقیقی مقالات اور تحاریر اہل علم کی نذر کیں۔ان کی سب سے بڑی تحقیقی شاہکار "شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کی سیاسی ڈائری” ہے، جس کی ضخامت 7 ہزار صفحات ہے، جو 8 جلدوں پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہانپوری نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی، دینی، دعوتی اور ادبی خدمات پر داد تحقیق دینے کا التزام کیا اور ان شخصیات کی علمی و عملی زندگی کے کئی گوشوں پر تحقیقات پیش کیں۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری کااصل موضوع تحقیق مولانا آزادؔ کی شخصیت ،اُن کے افکار اور ان کے علمی اور ادبی کارنامے ہیں۔آپ نے گزشتہ نصف صدی اور موجودہ صدی کی پہلی دہائی میں دنیائے ادب و سیاست کے نابغہ روزگار شخصیت مولانا ابوالکلام آزادؔ(1888ء-1958ء)کی زندگی، فکر، فلسفے ،سیاست اور ادب پراتنا دقیع کام کیا جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔موصوف نے اپنی دیگر ہمہ جہت علمی اور ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ابولکلامیات کے دائرے میں 150سے زیادہ تصانیف کی تدوین اور تالیف کے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔آپ نے پاکستان میں آزاد شناسی کی بنیاد اُس وقت رکھی جب ابوالکلام آزادؔ کے ادبی اور علمی آثار سیاسی تعصب کی دبیز تہوں کے نیچے دب چکے تھے۔ انہوں نے وقت اور حالات کی پروا کیے بغیر انتہائی دلیری سے مولانا ابو الکلام آزادؔ کے علمی، ادبی، مذہبی اور سیاسی آثارو نقوش کی ترتیب و تدوین کا اہم کا م شروع کیا ۔
انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی، تفسیری، حدیثی، صحافتی اور ادبی خدمات پر کام کیا اور لاتعداد مقالات تحریر کیے۔ اس سلسلے میں ان کا سب سے اہم کارنامہ مولانا آزاد کے زیر ادارت مختلف ادوار میں نکلنے والے اخبارات وجرائد ”الہلال“ اور ”پیغام“ کی تمام فائلوں کی تحقیقی عرق ریزی سے یک جا بازیابی ہے۔
علاوہ ازیں مولانا آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن پر ان کا 40 سے زاید صفحات پر مشتمل بسیط مقدمہ، مولانا کے شعری کلام کی تدوین (کلیات آزاد، ارمغان آزاد، دیوان ابوالکلام وغیرہ کی شکل میں) ان کے گراں قدر علمی وادبی مضامین ومقالات کی ترتیب وتہذیب پر ان کا کام بطور خاص قابل لحاظ ہے۔
وہ گزشتہ کئی سالوں سے علیل تھے۔ گزشتہ دن طبعیت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ الله تعالى ان كے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس ان كا مسكن فرمائے۔
*ان كى كچھ تصانيف كے نام حسب ذيل ہيں:*
1۔ آثار ونقوش :۔یہ کتاب ڈاکٹر ابوسلمان کا ایک شاندار تحقیقی کارنامہ ہے۔یہ مولاناابولکلام آزاد کے اُن تاریخی وسیاسی خطوط اور احکام و ہدایات کا مجموعہ ہے جو نیشنل آرکائیوزآف انڈیانئی دہلی میں محفوظ ہیں یہ تمام تحریریں مولانا کے زمانہ وزارت کی ہیں۔ جو آئی سی سی آر کی فائلوں اور دیگر ذرائع سے ماخوذ ہیں۔
2۔جامع الشواہد فی د خول غیر المسلمین فی المساجد:۔اسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے طویل مقدمے کے ساتھ1997ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب سب سے پہلے 1919ء میں شائع ہوئی جس میں مولانا آزادؔ نے شرعی دلائل سے ثابت کیاتھا کہ غیر مسلموں کا مسجدوں میں داخل ہونا اور وہاں منعقد ہونے والی مجلسوں میں شمولیت کرنا جائز ہے۔
3۔ انڈیاونسزفریڈم: یہ مولانا آزاد کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک طویل مقدمے کے ساتھ اسے شائع کیا اور ساتھ ہی وہ تیس صفحات بھی شامل کر دیے جن کے متعلق فیصلہ ہوا تھا کہ انہیں مولانا آزاد کی وفات کے تیس سال بعد شائع کیا جائے۔
4۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے چند بزرگ دوست اور عقیدت مند
5۔ کلیات آزاد
6۔ ابوالنصرآہ کا کلام
7۔ مولاناابوالکلام آزاد ایک نابغہ روزگار شخصیت:۔
8۔ ابوالکلامؒ و عبدالماجد۔۔۔۔ادبی معرکہ
9۔ اردو کا ادیب اعظم
10۔ ارمغان آزادؒ(ابتدائی دور کے مضامین و کلام)
11۔ اِفادات آزادؒ(مذہبی و ادبی سوالات کے جوابات)
12۔ امام الہند مولانا آزادؒ،تعمیرافکار
13۔ پیغام کلکتہ 1921ء کی عکسی اشاعت
14۔ لسان الصدق کلکتہ 1903ء کی عکسی اشاعت
15۔ مولانا ابواکلام آزادؔ آثار و افکار
16۔ مولانا ابواکلام آزادؔ اور ان کے معاصرین
17۔ مولانا ابوالکلام آزادؔایک مطالعہ
18۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ کی صحافت
19۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ شخصیت ،سیرت اور کارنامے
20۔ ہندوستان میں ابن تیمیہؒ
21۔ اُردو کی ترقی میں مولانا آزادؔکا حصہ
22۔ مولاناآزاد ؔایک سیاسی مطالعہ
23۔ انجمن خدام کعبہ(تاریخ و مقاصد و خدمات )
24۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن
Comments are closed.