حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی تازہ تصنیف ’’آسان علم کلام‘‘-تعارف وتبصرہ
محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
علم کلام اسلام کے نظام عقائد کوبیان کرتاہے،اس علم کو’’ علم توحید‘‘،’’علم اصول دین‘‘ اور’’فقہ اکبر‘‘ بھی کہا گیا ہے،انگریزی میں ہم اسے لغوی طور پر Science of Discourse اور اصطلاح میں Islamic Theology کہہ سکتے ہیں،ایمانیات کے اس علم میں جہاں عقائد کا بیان ہوتا ہے وہیں عقل ونقل کی روشنی میں ان پر ہونے والے اعتراضات کا جواب بھی دیا جاتا ہے،اسلام کی فکری سرحدوں کی حفاظت میں اس علم کا بڑا نمایاں حصہ رہا ہے،جس طرح اصول فقہ کے میدان میں انسانی اعمال سے متعلق مسائل کے اصول وضوابط کی تشریح وتوضیح میں تاریخ انسانی کی بہترین صلاحیتیں صرف ہوئیں، ویسے ہی اعتقادی اور فکری مسائل میں صواب وناصواب کی تحدید،فلاسفۂ یونان وروما اور جدید یورپ کے مفکرین،اور مستشرقین کی جانب سے کئے جانے والے اعتراضات سے اسلام کا دفاع کرنے میں فکر ودانش اور عقل واستدلال کے اعلی ترین ماہرین کا فکری سرمایہ اس علم کے کام آیا، ان دونوں علوم سے اسلام کا منہج بحث ونظر تیار ہوا۔
متکلمین اسلام سے ایسی کوئی فکر مخفی نہ رہنے پائی جس سے فکر اسلامی میں انحراف کا دروازہ کھلتا ہو،علماء نے اس کو افضل ترین علم قرار دیا،؛ چونکہ اس کا تعلق خود صانع عالم اللہ رب العزت کی ذات وصفات ،اس کی معرفت اور قدرت سے ہے،اسی علم سے دین اسلام کے بنیادی اصول ثابت ہوتے ہیں،نبی کی نبوت،جنت وجہنم ،تقدیر،بعث بعد الموت اور احوال آخرت کو ثابت کیا جاتا ہے،اس علم کا مقصد مسلمانوں میں ایسا ملکہ پیدا کرنا تھا جس کے ذریعہ وہ اپنے عقائد کوثابت کرنے کے ساتھ ساتھ شبہات واعتراضات کا جواب دے سکیں،اور عقلی اعتبار سے بھی اسلام کی حقانیت، اس کی ضرورت،اورہر دور میں اس کے قابل عمل ہونے کوثابت کرسکیں، اس سے ان کو عقل کا نور اور دل کی روشنی دونوں حاصل ہوں،اور ان شکوک وشبہات کاازالہ کیا جاسکے جن کا جال ہمیشہ اسلامی معاشرہ کے اندر اور باہراسلامی تعلیمات ومسلمات کے خلاف بنا جاتا رہا ہے۔
تقدیر،جبر وختیار،امامت اور خلق قرآن وغیرہ کے مباحث سے علم کلام کا آغاز ہوا تھا،بعد میں بیرونی فلسفوں کے عقلی سوالات،یونانی علوم کے عربی تراجم،اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں میں بہت سے غیر اسلامی افکار وخیالات بھی در آئے،اسی وقت سے علم کلام پر باضابطہ کام کا آغاز ہوا، مسلمان علماء معقولات کی طرف متوجہ ہوئے،عقائد پر عقلی بحث ومباحثہ شروع ہوا،اور ہر دور میں پایہ کی تصنیفات اس موضوع پر آتی رہیں،موجودہ دور میں جب سے سائنس معقولات کے دائرہ سے نکل کر مشاہدات وتجربات کی ایک دنیا آباد کرچکی ہے،اب عمرانیات اور سوشیالوجی کے مسائل بھی اس سے مربوط ہوچکے ہیں،اورگزشتہ تین صدیوں میں فکر ونظر میں حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہوچکی ہیں،ایسے میں علم کلام کو جدید قالب میں ڈھالنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے،علامہ شبلی نے بھی اپنی دوکتابوں علم الکلام اور الکلام میں قرآن مجید کے چشمۂ صافی کو علم کلام کی بنیاد بنانے اورجدید طرز استدلال کو اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی،موجودہ دور میں تجدد پسندی،لبرلزم،ماڈرن ازم، اورنظریۂ علم انسانی(Epistemology)کے راستے الحادوتحریف کے نئے نئے خیالات نے علم کلام کے ’’شراب کہن‘‘کو فکر اسلامی کے’’ساغر نو‘‘ میں پیش کرنے کی شدید ضرورت پیدا کردی ہے۔
زیرنظر کتاب’’آسان علم کلام‘‘مشہوراسلامی اسکالراوردیدہ ور مصنف فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی تازہ تصنیف ہے،المعہد العالی الاسلامی حیدرآبادکے زیر اہتمام ٢٢٤صفحات کے متوسط حجم میں کتب خانہ نعیمیہ دیوبندسے شائع ہوئی ہے،کتاب حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری صاحب شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل کے وقیع مقدمہ سے آراستہ ہے،یہ کتاب ایک نصابی ضرورت کے تحت لکھی گئی ہے،اس کتاب کی پیشانی پر اس کی تصنیف کی غرض وغایت مختصر طور پر اس طرح درج ہے: ’’دینی مدارس کے لیے نصابی نقطۂ نظر سے لکھی گئی ایک مختصر، آسان اور جامع کتاب، جس میں علم کلام کا تعارف بھی ہے، تاریخ بھی ہے، فرق ضالہ کا بھی تذکرہ ہے، اور اہل سنت والجماعت کے اعتقادی مسالک کا بھی، نیز اہل سنت والجماعت کے عقائد کو بھی نقلی وعقلی دلائل سے واضح کیا گیا ہے‘‘،اور اس کی تصدیق اس کتاب کے ابواب پر ایک سرسری ڈالنے سے ہوجاتی ہے، اس کتاب میں چھ ابواب ہیں:(١)علم کلام-تعارف اور اہمیت۔(٢)علم کلام-آغاز وارتقا۔(٣)چندفرق ضالہ۔(٤)علم کلام-چھٹی صدی ہجری سے دور حاضر تک۔(٥)اہل سنت کے اعتقادی مسالک۔(٦)اہل سنت والجماعت کے عقائد۔
مولانانے اس کتاب میں خاص طور سے درج ذیل باتوں کا لحاظ کیا ہے:(١)فرق باطلہ میںبنیادی پانچ فرقوںاسماعیلیہ،اثناعشریہ،معتزلہ،زیدیہ اورخوارج کا تعارف کرایا گیا ہے،معتزلہ کے تعارف میں خاص طور سے یہ بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ فرقہ تو ختم ہوگیا؛ لیکن ان کے افکاراب بھی کسی نہ کسی شکل میں باقی ہیں،ان کی بھی تردیدکردی جائے،ایمان وکفر سے متعلق معتزلہ کے مشہورعقائد کے علاوہ بھی ان کے بہت سے عقائد کی توضیح اس کتاب میں آگئی ہے ۔(٢)اسی طرح اہل سنت والجماعت کے تین مکاتب فکر:اشاعرہ،ماتریدیہ اور حنابلہ کے درمیان کن نکات پر اختلاف ہے،ہمارے یہاں عقائد کی جو کتابیں ہیں ان میں عموماً واضح طور پر ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے،حنابلہ کا ایک گروہ غالی ہے،اور ایک معتدل، ان دونوں گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیاہے،ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آج کل جو لوگ سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک میں خود کو حنبلی العقیدہ کہتے ہیں،ان پر یہی رنگ غالب ہے،ورنہ حنابلہ کے جو ابتدائی علماء میں تھے ان میں اعتدال نظر آتا ہے،ہمارے یہاں مروجہ درسی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں مل پاتا۔(٣) اہلسنت والجماعت کے عقائد کے ذکرمیں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ اس زمانہ میں جو فرق ضالہ ہیں جیسے قادیانی،منکرین حدیث اورمہدویت کا بے جا طور پر دعوی کرنے والے لوگوں کا رد ہوجائے۔(٤)خود مسلمانوں میں اہل سنت کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے لوگ حضورﷺکے بارے میں جو حد اعتدال سے نکل کر غلو سے کام لیتے ہیں جس سے خود حضور اکرمﷺنے منع فرمایا ہے،اس کی بھی تردید کی گئی ہے۔(٥)عقائد میں مغرب کی طرف سے جو سوالات اٹھائے جاتے ہیں، مثبت انداز میں ان کا جواب بھی دیا گیا ہے جیسے وجود باری،توحید ، قیامت ونبوت کا امکان،نبوت محمدیﷺکی دلیل اورقرآن مجید کا اعجازی پہلو وغیرہ،ان پر بھی گفتگو کی گئی ہے،اوران مباحث میں موجودہ دور کے مادیت پر مبنی افکار کو بھی سامنے رکھاگیا ہے۔(٦) اسی طرح دوسرے مذاہب کے عقائد جیسے عیسائیت کے عقیدۂ تثلیث اور ہندؤوں کے یہاں اوتار واد کے تصورکہ خدا انسان کے اندر حلول کرجاتا ہے،کہیں نام لے کر کہیں نام لیے بغیر ان چیزوں کا بھی اس میں ردکردیا گیا ہے۔(٧) بعض اہل سنت سے تعلق رکھنے والے مصنفین کے یہاں صحابہ کا دفاع کرتے ہوئے بسا اوقات اہل بیت کے تذکرہ میں سرد مہری پائی جاتی ہے، اس کتاب میںصحابہ اور اہل بیت کے تذکرہ میں توازن سے کام لیا گیاہے۔
میرے نزدیک اس کتاب کے نمایاں امتیازات یہ ہیں: (١) یہ کتاب مدارس اسلامیہ میں علم کلام کی منتہی کتابوں سے پہلے اردو زبان میں ایک متوسط درجہ کی کتاب کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔(٢) اس میں علم کلام کے مسائل کی تشریح وتوضیح کے ساتھ ساتھ علم کلام کی تاریخ،اہم متکلمین اسلام اور ان کی تصنیفات کا بھی ذکر آگیا ہے۔(٣) اس موضوع پر قدیم وجدیدمراجع سے اہم کلامی مباحث کا عطر کشید کرلیا گیا ہے۔(٤) مختلف مسائل میں جدیددور کے اعتراضات کا جواب عصری اسلوب کے مطابق دینے کی کوشش کی گئی ہے۔(٥)مشکل ترین مباحث کو آسان ترین اسلوب میں پیش کیا گیا ہے، مولانا نے اپنی تفسیر، قاموس الفقہ اور دیگر فکری تحریروں میں بھی بعض کلامی مسائل اور باطل نظریات کی بڑے آسان علمی انداز میں تردید کی ہے، جن میں نصوص سے گہرے ربط وتعلق کے ساتھ زمانہ شناسی اور عہد حاضر کے چیلنجوں کا بھرپور ادراک جھلکتا ہے، اس کتاب کا بھی یہ ایک نمایاں امتیاز ہے،مثلاًمسئلۂ تقدیرکی بحث کو پورے اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں مشکل ترین شمار کیاجاتا ہے،مولانا نے کس آسانی کے ساتھ سہل ترین مثالوں سے اس کی تفہیم کردی ہے، فرماتے ہیں:
’’تقدیر کی وجہ سے انسان کسی عمل پر مجبور نہیں ہوجاتا،اس کو سمجھنے کے لیے تین نکات کو سامنے رکھنا چاہئے : (1) علم الہی: یعنی اللہ تعالی کو یہ بات معلوم ہے کہ کیا چیزکیسی ہوگی ؟ جیسے ایک استاد اپنے شاگرد کے بارے میں اندازہ کرتا ہے کہ یہ کامیاب نہیں ہو گا ، ڈاکٹر مریض کے بارے میں اندازہ کرتا ہے کہ یہ صحتیاب نہیں ہو سکے گا ، فرق یہ ہے کہ اللہ تعالی کاعلم کامل ہے؛ اس لیے اس کے خلاف پیش نہیں آسکتا ، اور انسان کا علم ناقص ہے ؛ اس لیے اس کے اندازے غلط ثابت ہو سکتے ہیں ، پس ، جیسے : اس ناکام ہونے والے طالب علم کے ناکام ہونے اور اس مرجانے والے مریض کے مر جانے کا ذمہ دار ڈاکٹرکوقرارنہیں دیا جاسکتا ؛ اسی طرح انسان کے گناہ کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خدا نے اس کو گناہ پر مجبور کر دیا ہے ۔(٢)ارادہ وکسب : اللہ تعالی نے انسان کو ارادہ کرنے کی آزادی عطافرمائی ہے ، انسان نیکی کا بھی ارادہ کر سکتا ہے اور بدی کا بھی ، انسان کوثواب و عذاب دراصل اسی قوت ارادہ کے صحیح و غلط استعمال کی وجہ سے دیا جاتا ہے ، اس کو قرآن مجید میں ’’کسب‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے :’’لہا ماکسبت وعلیہا ما اکتسبت‘‘(بقرہ:٢٨٦)۔(٣) اللہ تعالی کی مشیت : اگر چہ انسان کو ارادہ کی قوت عطا فرمائی گئی ہے؛ لیکن صرف انسان کے ارادہ سے کوئی چیز وجود میں نہیں آتی ، جب تک کہ اللہ تعالی کی مشیت اس کے ساتھ نہ ہو ؛ چوں کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے ؛ اس لیے جب انسان اچھی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالی کی مشیت اس میں ممدو معاون ہو جاتی ہے ، اور جب انسان گناہ پر کمرکس لیتا ہے تو اللہ تعالی کی مشیت اس میں بھی مددگار ہو جاتی ہے ، جیسا کہ ارشاد ہے :’’تو جس نے اللہ کے راستہ میں مال دیااور ڈرتا رہا،اور بھلی بات کو سچ جانا،تو ہم اس کو آسان راستہ کی توفیق دیں گے،اور جس نے بخل کیا اور بے پروائی برتی اور اچھی بات کو جھٹلایا،تو ہم اس کے لیے مشکل راستہ کو آسان کردیں گے‘‘(اللیل:٥-١٠)پس یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ انسان مجبور ہے ، وہ تکوینی چیزوں میں تو مجبور ہے،جیسے شکل وصورت، رنگ وروپ وغیرہ؛ لیکن اپنے عمل میں مجبور نہیں ہے، اس کوا را دہ و اختیارکی آزادی دی گئی ہے، اور اسی کی وجہ سے اس سے ثواب وعقاب متعلق ہوگا‘‘(آسان علم کلام:ص:٢٢٢)۔
تسہیل نصاب کا کام عالم عرب میں بھی ہوا، اور بر صغیر میں بھی، فرق یہ ہے کہ یہاں یہ کام اداروں اور اکیڈمیز سے زیادہ شخصیات نے انفرادی طورپرانجام دیا، عارف باللہ قاری صدیق احمد باندوی نے تسہیل کے عنوان سے کئی کتابیں تصنیف فرمائیں،اور بھی بعض علماء نے یہ کام کیا، مولانا رحمانی نے اس’’سہل‘‘کو بھی’’ آسان‘‘ کردیا،پہلے’’آسان اصول فقہ‘‘اور’’آسان اصول حدیث‘‘ تصنیف فرمائیں، پھر تفسیر قرآن مجید کی سعادت حاصل ہوئی تو اس کا نام بھی بجا طور پر’’آسان تفسیر قرآن مجید‘‘رکھا، اور اسی کام کے دوران’’آسان اصول تفسیر‘‘بھی تیار کردی، اور اب حضرت قاری صدیق صاحب کے ایما پراپنے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے قرنطینہ کے ایام اسیری میں اس کتاب’’آسان علم کلام‘‘ بھی تکمیل فرمادی، اس طرح یہ مشکل کو آسان کرنے کا سلسلہ جاری ہے؛چونکہ مولاناان معدودے چند اہل قلم میں ایک ہیں جو آسان لکھنے کی دشواریوں سے واقف ہیں۔
یہ کتاب دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے ساتھ ہی عصری تعلیم یافتہ حضرات، زمانہ آگاہ دانشوران، اور مطالعہ کا ذوق رکھنے والے عام مسلمانوں کے لیے بھی یکساں طور پر مفید معلوم ہوتی ہے،اس کتاب کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جیسے زمانہ آگاہ عالم دین کے قلم سے ہے، جن کو اللہ تعالی نے علوم اسلامی میں دسترس کے ساتھ ایک دھڑکتا ہوا دل، سلجھا ہوا دماغ، پیچیدہ مسائل کے فہم وتفہیم کی صلاحیت، عدل واعتدال، خوب سے خوب تر پیش کش، سنجیدہ لب ولہجہ، ادبی زبان وبیان جیسی عظیم صلاحیتوں سے نوازا ہے، بنیادی طور پر ان کا میدان اختصاص اور دائر ۂ کار فقہ اسلامی ہے؛لیکن ان کے علمی کارنامے شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے علم کو ایک کائی جان کر کام کیا ہے،وہ فقہ اسلامی کو ایک زندہ ومتحرک، شاداب اور نمو پذیر علم کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ زندگی سے اس کا رشتہ کٹنے نہیں دیتے، وہ اجتماعی اجتہاد کے اولین داعی اور اس کے کامیاب سفیر ہیں، وہ فقہ اسلامی کوپوری دنیا اور بالخصوص اقلیتی ممالک کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کا بھر پور ملکہ رکھتے ہیں، اسلامی معاشیات کے خط وخال کو واضح کرنے میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں، قرآنی تعلیمات کی عصری تطبیقات اور سیرت نبوی کی عالمگیریت کو اس بہتر انداز سے پیش کرتے ہیں کہ اس سے بہتر کا تصور دشوار ہوتا ہے۔
وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، ملی کونسل، دینی مدارس بورڈ تلنگانہ وآندھرا پردیش اور بے شمار دینی و ملی تنظیموں، انجمنوں اور تعلیمی ومعاشی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہونے ، ان سے ذمہ دارانہ تعلق رکھنے اوران کی مختلف سرگرمیوں میں ایک مدبر منتظم کی حیثیت سے شریک رہنے کے باوجود اپنی تصنیفی سرگرمیوں کو متاثر نہیں ہونے دیتے، مجھے ان کے ساتھ دس بارہ برس کی رفاقت کا شرف حاصل ہے، میں نے اپنی زندگی میں ایک دینی ادارہ کا ایسا فعال علمی اشتغال رکھنے والا ذمہ دار نہیں دیکھا، جس کو اپنے علمی کاموں سے جنون کی حد سے آگے عشق اور والہانہ تعلق ہے، جس کا اوڑھنا بچھونا تصنیف وتالیف ہے، خانگی مسائل ہوں یا اجتماعی، ان کو بہتر طور پر حل کرنے میں اپنا وقت استعمال کرتے ہوئے بھی کسی طور پر خود کو قلم وقرطاس سے الگ نہیں ہونے دیتے، وہ اپنے اس ’’مبارک پیشہ‘‘ کے لیے انجمن میں بھی خلوت ڈھونڈ لیتے ہیں، مجھے تو لگتا ہے مولانا کو اگر صرف دو کاموں کی اجازت ملے، توفرائض وواجبات کی ادائیگی کے بعد وہ قلم اور کاغذ مانگ لیں گے، پھر ان کو زمانہ کی ہر لذت سے محروم کردیا جائے ان کو محرومی کا احساس نہ ہوگا،یہ کوئی’’مدلل مداحی‘‘ نہیں،اظہار واقعہ ہے، جو کچھ دیکھا اور پایا اس کے اظہار کے لیے بر محل یا بے محل الفاظ کا محتاج تھا، ورنہ دلی احساس یہی ہے کہ مولانا کی تصنیفی دھن اورلگن کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں،یہی وجہ ہے کہ مولانا کی تصنیفات کی تعداد تیسرے ہندسہ کو عبور کرچکی ہے،ان شاء اللہ ان کی دیگر تصنیفات کی طرح یہ کتاب بھی شوق کے ہاتھوں لی جائے گی، اور ذوق کی نگاہوں سے پڑھی جائے گی،میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے اس زریں کتاب کے تعارف کا موقع ملا:
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
Comments are closed.