” بچوں کی تربیت کرنے کے بہترین طریقے
از قلم کرن امجد ( ظفروال)
والدین کیلئے بچے ایک بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ یہ بچے اللہ کی طرف سے دیا ہوا تحفہ ہوتے ہے۔ انہی بچوں نے آگے اپنے والدین کا نام روشن کرنا ہوتا ہے ان کی نسل کو بڑھانا ہوتا ہےاس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ کل کو ایک اچھے شہری اور اچھے انسان بن سکے ۔والدین کا سب سے پہلا حقوق یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی حفاظت کرے ان کو تحفظ مہیا کرے کیونکہ پہلے زمانے میں عرب کے لوگ اپنی بیٹیوں کو قتل کر دیتے تھے اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کرے بلکہ ان کی پرورش کرکے ان کو بہتر بنائے۔ حفاظت کے بعد دوسرا مرحلہ ان کی تربیت کا آتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کیلئے ان کو دنیاوی اور اخروی تعلیم دلوائیں انہیں سب سے پہلے قرآن پاک کی تعلیم دلوانے کی کوشش کریں اس کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی جاری رکھی جائیں۔ کیونکہ دنیا میں اور آخرت میں کامیابی کے لیے دونوں تعلیموں کا ہونا ضروری ہے آج کل ماں باپ اپنی اولاد کو دنیا میں تعلیم تو دلوارہے ہے لیکن آخروی تعلیم نہیں دلواتے ہیں یہاں تک کہ ماں باپ جب مر جاتے ہیں تو اولاد کو ان کو غسل دینا بھی نہیں آتا ان کی نماز جنازہ پڑھانا بھی نہیں آتا۔ اس لیے ماں باپ کو اپنی اولاد کی اتنی تربیت کرنی چاہیے کہ ان کی اولاد ان کو غسل دے سکے اور ان کی نماز جنازہ پڑھا سکے والدین کو اپنی اولاد کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا چاہیے کسی کے ساتھ بھی کمی بیشی نہیں کرنی چاہیے ۔ کسی بچے کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اگر وہ ایک بچے سے زیادہ پیار کریں گے دوسرے سے کم کریں گے تو اس طرح اختلافات پیدا ہو سکتے ہے اولاد کے دلوں میں ماں باپ کے لیے نفرت پیدا ہو سکتی ہے ۔والدین کو چاہیے کہ اپنے آپ کو ایک اچھے نمونے کے طور پر پیش کریں کیونکہ بچے ہمیشہ والدین سے زیادہ سیکھتے ہیں ان کا زیادہ تر ٹائم بچپن میں والدین کے ساتھ گزرتا ہے تو ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اس لیے یہ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے سامنے دوسروں کی برائی نہ کریں اچھے کام کریں ۔ان کے سامنے اپنا اچھا کردار پیش کریں تاکہ وہ ان سے سیکھ سکیں کیونکہ اکثر گھروں میں ایسا ہوتا ہے کہ والدین اولاد کے سامنے لڑ رہے ہوتے ہیں جس سے بچے بچپن سے ہی لڑائی جھگڑا کرنا سیکھ جاتے ہیں بد تمیزی کرنا سیکھ جاتے ہیں وہ ذہنی طور پر مریض بن جاتے ہیں گھروں کی لڑائیوں سے بچے چڑ چڑا پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر غصہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ۔ والدین کو چاہیے کہ اولاد کے سامنے ہمیشہ پوزیٹیو بات کریں منفی بات نہ کرے کیونکہ منفی بات کرنے سے بھی بچوں پر برے اثرات پڑتے ہیں وہ منفی سوچنا شروع ہو جاتے ہیں
Comments are closed.