حاصل کی ناقدری لاحاصل کا دکھ

 

انمول عائشہ انصاری(کراچی)

ہم آج کل جسے دیکھیں پریشان نظر آئے گا۔اپنے حال سے ناخوش،بیزار کوئی دولت اور شہرت کے لیے،کوئی اپنی دوسری خواہشات کے لیے،غرض سب کے اپنے اپنے دکھ ہیں،جس کے آگے وہ دوسروں کے دکھ کو چھوٹا سمجھتے ہیں۔

جو حاصل ہے اس کا شکر ادا نہیں کرتے،لاحاصل کے لئے پریشان رہتے ہیں اور اتنا زیادہ سر پر سوار کرلیا جاتا ہے کے اس کے آگے کچھ نظر ہی نہیں آتا،یہاں تک کے اپنی خواہشات کہ حصول کے لیے کچھ لوگ ناجائز طریقے بھی اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے،اور پھر نقصانات اٹھاتے ہیں۔

آسائشات حاصل کرنے کے لئے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے،جو ختم ہی نہیں ہورہی ہر ایک اس میں شامل ہورہا ہے،اور اسی وجہ سے لوگوں میں حسد کا عنصر بھی آجاتا ہے۔فلاں کے پاس کوئی چیز ہے،تو ہمارے پاس بھی ہونی چاہیئے ورنہ ان کے پاس بھی نہ ہو،اور حسد کی مثال ایسی ہے جیسے دیمک لکڑی کھا جاتی ہے اس طرح حسد بھی انسان کو تباہ کر دیتا ہے اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں رہتا۔

پھرجب خواب اور خواہشات پوری نہیں ہوتی تو اکثر لوگ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں،آپ دیکھیں ہمارے ملک میں بھی نفسیات کے ڈاکٹرز کے پاس مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے.جو کے لمحہ فِکریہ ہے۔ڈپریشن کی دوائیاں استعمال کرنے والے بڑھتے جارہے ہیں وجہ حاصل کی ناقدری،لاحاصل کی خواہش،اسی وجہ سے خود کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی یہ نہیں دیکھتے کہ جو نعمتیں ہمیں دی گئی ہیں وہ دوسرے انسان کے پاس نہیں آخر کار لاحاصل کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ رب سے دور ہوجاتے ہیں،اور مسلسل ناشکری کے مرتکب ہوتے ہیں۔

یہ نہیں سوچتے کے جو رشتے،آسائشیں میسر ہیں،اگر مسلسل ناشکری کی وجہ سے وہ سب بھی چھین لیےجائیں تو کیا کریں گے۔ہمارا رب دینے والا ہے تو لینے پر بھی قادر ہے۔ہمارے رب کو شکر پسند ہے اور ہر چیز ہر انسان کے لئے نہیں ہوتی.ہم حاصل کر بھی لیں تو کیا امید ہے کے خوشی اور سکون ملے گا بھی یا نہیں،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

حدیثِ قُدسی؛

(مفہوم) اے ابنِ آدم!ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔ہوگا تو وہی جو میری چاہت ہے،پس اگر تو نے سپرد کردیا اس کے جو میری چاہت ہے۔تو وہ بھی میں تجھے دوں گا،جو تیری چاہت ہے۔اگر تو نے مخالفت کی اس کی جو میری چاہت ہے۔تو میں تھکادوں گا،تجھ کو اس میں جو تیری چاہت ہے۔پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔

میرے رب نے اس طرح سب کھول کھول کر بتا دیا ہے،تو ہم کس غلط فہمی میں رہ رہےہیں اور اپنا نقصان کر رہے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بے جا خواہشات کو اپنے اندر سے باہر نکالیں،لاحاصل کو رب پر چھوڑ دیں،آپ کو بہترین بدلہ ملے گا۔اور حاصل پر اپنے رب کے شکرگزار ہو کر پرسکون زندگی گزاریں کے اپنے رب کو پسند آجائیں اور آخرت میں اللہ آپ کی ہر تمنّا پوری کریں شیطان کے بہکاوے میں آگئے،تو نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجائیں گے۔

Comments are closed.