روزگار کا حصول
مِصباح نواز(پنڈدادنخان)
حالیہ کساد بازاری کے دور میں جہاں زندگی کا ہر پیشہ مُتاثر ہوا ہے وہیں روزگار کے مواقع بھی کم ہو گۓ ہیں۔ موجودہ دور میں امیر طبقہ بھی فقط اپنی ضروریات پورا کرتا نظر آرہا ہے تو پھر متوسط طبقے کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اُنہیں صرف دو وقت کی روٹی ہی مُیسر ہے۔ وہ اسے بھی غنیمت سمجھ رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک بندہ مہنگائی کے اس دور میں صرف دو وقت کی روٹی ہی اپنے بچوں کے لیے کما کے لا سکتا ہے تو وہ اُنہیں تعلیم کہاں سے دلاۓ؟ اُن کی خواہشات کیسے پوری کرے۔ اب اگر غریب کی بات کی جاۓ تو وہ تو بلکل زِیرو پہ آگیا ہے۔
مُلک میں ایسے بھی افراد ہیں جن کے پاس ہُنر تو موجود ہے لیکن کاروبار چلانے کے لیے سرمایہ نہیں۔ سرکاری نوکریوں کا حصول تو اب بلکل ہی ناممکن ہو گیا ہے۔ اول تو لوگ تعلیم کے لیے پیسے نہیں جمع کر پاتے اور اگر اِس قابل ہو بھی جائیں تو پڑھا لکھا بندہ دیہاڑی کے مزدور کےساتھ کام کرتا نظر آتا ہے۔
بقول شاعر:
*”بڑے وقار“ سے ڈگری وصول کی*
*اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا*
اب اگر سوال کیا جاۓ کہ ایسا کیوں؟ اب بندے کا جواب تویہی ہوتا ہے کہ سرکاری نوکری نہیں، اپنے کاروبار کے لیے پیسے نہیں۔ ارے بھٸ پیسے کہاں سے آئیں گے؟
ایک طرف عوام بے روزگاری اور غُربت کا رونا رو رہی ہے۔ حکومت کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پہ آکہ بڑے بڑے دعوے کرنے سے تو عوام کو کوئی فاٸدہ نہیں۔ اُنہیں تو پیٹ بھرنے کے لیے کھانا چاہیے۔ حکومت اگر عوام کے مطالبات پورے کرنے میں میں ناکام رہے تو ان کے خلاف آواز بلند کرنا عوام کا حق ہے۔
*اس دیس کے ہر اک لیڈر پر سوال اُٹھانا واجب ہے*
*اس دیس کے ہر اک حاکم کو سُولی پہ چڑھانا واجب ہے ۔*
اب آج حالات یہ ہیں کہ پہلے غربت کے سبب خودکشی کی خبریں ٹی وی نیوز میں سُنا کرتے تھے اب یہ گھر گھر کی کہانی بن چکی ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان افراد کی حوصلہ افزاٸی نہیں ہوتی تو وہ برائی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ چونکہ بے روزگاری معاشرے میں بہت سی بُرائیاں اور جراٸم کو جنم دے رہی ہے۔ تو ان پر بھی تبھی قابو پایا جاسکتا ہے جب تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے بھی مواقع ہوں۔ 2020-21میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ اللہ تعالٰی کی ذات پربھروسہ نہ ہونا بھی ہے۔ ہم اللہ تعالٰی کی نافرمانیوں میں مشغول رہتے ہیں، عطا کیے گۓ پر شکر گزاری کا مُظاہرہ نہیں کرتے۔ جیسا کہ *قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:*
*”پس تُم مجھے یاد رکھو، میں تُمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شُکر ادا کرتے رہو، کفران نعمت نہ کرو“*
(سورة البقرة آیت نمبر 152)
سب سے پہلے ان کا ازالہ کرنا چاہیے پھر محنت کریں۔ خود پر اور اپنی محنت پر یقین رکھیں۔
اس کے علاوہ بھی بے روزگاری کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً جب اچانک کسی چیز کی طلب میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو انڈسٹری اور فیکڑی ملازمین بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ پہلے خط و کتابت کا زمانہ تھا اب آہستہ آہستہ جدید ٹیکنالوجی، کمپیوٹرز اور فیکس مشینوں کی بدولت ہر چیز ایک کلک کی دوری پر رہ گئی ہے۔ ڈاک کا نظام آج بھی ہے لیکن بہت کم لوگ اس پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس طرح بھی لوگوں کی کمائی پر برا تاثر پڑا ہے۔ ملک میں سرمایہ دارانہ نظام بھی اسکی وجوہات میں شامل ہے۔
بقول شاعر:
*گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب*
*بچے مگر غریب کے فاقوں سے مر گئے*
جیسا کہ آج کل پوراملک مہلک بیماری کے زیر اثر ہے اس نے بھی لوگوں کے کاروبار پر برا اثر ڈالا ہے۔ لوگ گھروں میں مقید ہو گۓ ہیں۔
ان سب وجوہات کا سدِباب کیا جانا چاہیے، اس کے لیے سب سے پہلے تو مہنگائی پر قابو کیا جانا چاہیے۔ بے روزگار افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ملک سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں۔ تا کہ روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی برائیوں اور جرائم پر بھی قابو پایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف لوگوں کے درمیان خوشحالی آئے گی بلکہ پورا ملک امن کا گہوارہ بن جائے گا ۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان تمام مسائل کے حل کے لئے مناسب اقدامات کرے۔
Comments are closed.