ویلنٹائن ڈے””اور یوم بےحیائی
از قلم۔۔۔محمد سُلطان اختر۔۔۔
ویلنٹائن ڈے محبت کی سالگرہ کے طور پر 14 فروری کو منائے جانے والا دن کہلاتا ہے مگر محبت نہیں بلکہ بےحیائی اور بے غیرتی کو فروغ دینے والا دن ہے اسکی مختصر تاریخ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔اللہ ہم سب کو کہنے سننے لکھنے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔ ہر سال 14 فروری کو دنیا کے مختلف حصّوں بالخصوص مغربی ممالک میں "ویلنٹائن ڈے” منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر محبت کرنے والوں کے درمیان مٹھائیوں ، پھولوں اور ہر طرح کے تحائف کا تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ نصرانی پادری "ویلنٹائن” کی یاد میں ہوتا ہے جس کے نام کے ساتھ اس دن کو موسوم کیا گیا۔
ہر سال ویلنٹائن ڈے پر مبارک باد کے 15 کروڑ کے قریب کارڈز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ کارڈز بھیجنے کے حوالے سے کرسمس کے بعد یہ دوسرا بڑا موقع ہوتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے کے پیچھے کیا کہانی ہے… آئیے اس حوالے سے قدیم رومن زمانے سے لے کروکٹورین دور تک نظر ڈالتے ہیں۔
قارئیں کرام! 14؍ فروری اس تاریخ کو خاص طور پر یورپ میں یوم محبت کے طور پر منایا جاتا ہے اس تاریخ کو منائے جانے والے ویلنٹائن ڈے کی تاریخ ہمیں روایات کے انبار میں ملتی ہے اور روایات کا یہ دفتر اسرائیلیات سے بھی بدتر ہے جس کا مطالعہ مغربی تہذیب میں بے حیائی و بے شرمی کی تاریخ کے آغاز کا اشارہ دیتا ہے اس بے ہودہ تہوار کے بارے میں کئی قسم کی روایات رومیوں اور ان کے وارث عیسائیوں کے وہاں معروف اور مشہور ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں۔
شہنشاہ کلاڈیسس دوم کے دور میں سرزمین روم مسلسل جنگوں کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہوا کہ ایک وقت کلاڈیسس کی اپنی فوج کے لئے مردوں کی بہت کم تعداد آئی جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں کو چھوڑ کر دور دراز لڑنے کے لئے جانا پسند نہیں کرتے تھے، اس کا حل بادشاہ نے یہ نکلا کہ ایک خاص عرصہ تک کے لئے شادیوں پر پابندی لگادی تا کہ نوجوانوں کو فوج میں جانے کے لئے آمادہ کیا جاسکے۔ اس موقع پر سینٹ ویلنٹائن نے سینٹ ماریوس کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر نوجوان جوڑوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا؛ لیکن ان کا یہ عمل چھپ نہ سکا اور بادشاہ کلاڈیسس کے حکم پر سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرلیا گیا اور تکلیفیں دے کر 14؍ فروری 270ء میں قتل کردیا گیا، اس طرح 14؍ فروری سینٹ ویلنٹائن کی موت کے باعث اہل روم کے لئے معزز و محترم دن قرار پایا۔
اس سلسلہ میں ایک واقعہ یہ بھی ملتا ہے کہ ویلنٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا، یہ بشپ آف ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کی جرم میں 14؍ فروری 269ء کو پھانسی دی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور وہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا، اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہا جاتا ہے۔
چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور علاقہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط، پیغامات، کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج بن گیا۔
اس کے بعد امریکہ اور جرمنی میں بھی منایا جانے لگا، برطانوی کاؤنٹی ویلز میں لکڑی کے چمچ 14؍فروری کو تحفے کے طور پر دیئے جانے کیلئے تراشے جاتے تھے اور خوبصورتی کیلئے ان کے اوپر دل اور چابیاں بنائی جاتی تھیں جو تحفہ وصول کرنے والے کیلئے اس بات کا اشارہ ہوتا کہ تم میرے بند دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتی ہو۔ اب تو ہندوستان میں 14 فروری کی یہ فحاشی عام طور پر چل رہی ہے۔دین دار گھرانے کی لڑکیاں لڑکے جانے انجانے میں اس دن کو محبت کا دن کہہ کر مناتے ہیں اُنکو یہ معلوم بھی نہیں کہ ہم کتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔۔سب سے پہلے لڑکا و لڑکی کی دوستی ہے ہی نہیں۔اسکا دور دور تک کوئی تصور نہیں ہے اسلام چہ جائیکہ محبت کے دن کی سالگرہ منائی جائے۔۔
اب آئیے دیکھتے ہیں اِس حوالہ سے میری شریعت کیا کہتی ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نے کیا ہے، آپ کہتی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس اس وقت انصاریوں کی دو بچیاں تھیں جو بُعاث کے دن انصار کی طرف سے کہے جانے والے اشعار گنگنا رہی تھیں، آپ کہتی ہیں کہ وہ دونوں کوئی گلوکارہ بھی نہیں تھیں، انہیں سن کر ابو بکر نے کہا:کیا شیطانی بانسریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں! یہ کام عید کے دن ہو رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو بکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے)
ابو داود نے (1134) میں روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ دو دن کیا ہیں؟) تو صحابہ کرام نے جواب دیا: ہم جاہلیت میں ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یقیناً اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بہتر دو دن عطا کئے ہیں؛ عید الاضحی اور عید الفطر) ۔۔
تو ہماری بہنیں اور دینی بھائیوں یہ محبت کی سالگرہ نہیں ہے بلکہ بےحیائی کو فروغ دینے کا دن ہے یہ ہم مسلمانوں کا وطیرہ و شيوہ نہیں ہے یہ مغربی تہذیب ہے جو ہمارے خوبصورت معاشرے کو برباد کرنے میں لگی ہے۔۔اس سے ہم سبھی پرہیز کریں۔دعاء ہے اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمان بھائی بہنوں کو اس بے حیائی بے غرت دنوں سے بچائے آمین ثم آمین۔۔
Comments are closed.