حاصل

 

ازقلم:بنت احمد

انسان کچھ لاحاصل چیزوں کے پیچھے مارا مارا پھرتا ہے مگر جو اس کو حاصل ہوتی ہیں وہ ان کے بارے میں نہی سوچتا دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو آپ کو بے چین کر دیتے ہیں کبھی اپنے نظریات سے تو کبھی تنقید سے انسان اب اپنی حاصل کردہ چیزوں کے شکر کے بجاے لاحاصل کے پیچھے بھاگتا ہے کیو ں ہوتا ہے ایسا آپ جانتے ہیں کیا توآیے میں بتاے دیتی ہو ایک انسان جو بہت خوش رہتا ہے اس کو چاہے بہت سی بیماریاں ہو اور وہ اس کو معلوم نہ ہو ابھی یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ابھی انسان کو آ گاہی نہی ملی جیسے ہی ملی اس کی خوشی غمی میں بدلی جزبات میں شدت پای گی اور وہ بہت زیادہ سوچنے لگ جاے گا جیسے ہی سوچنا شروع کرے گا تکلیف میں اضافہ ہو گا اور یہ سبب بے چینی کا بنے گا آگاہی حاصل ضرور کرے مگر وہی جو صرف کام کی ہو غیر ضروری امور سے دور رہیں انسان کو جو چیزیں میسر آتی ہیں ان میں جب اس کو سکون ملتا ہے تو وہ خوش رہتا ہے اس کو لگتا ہے اور کسی چیز کی حاجت نہی مگر اور ایسے بھی امور ہیں جن کی آگاہی لازمی ہے جیسے کہ کھانا کیسے کھاتے ہیں کپڑے کیسے پہنتے ہیں اور کیسے بناتے ہیں وغیرہ یہ سب انسانی زندگی کی ضرورتوں میں شامل ہے اس سیکھنا اور معلومات حاصل کرنا بہتر ہے مگر جب کوی انسان دوسرے بندے کو کہے میرے گھر میں روز اتنا کھانا پکتا ہے کے روز ہی بچ جاتا ہے دوسرا جس کے گھر میں کھانا تو بنتا ہے مگر بچتا نہی اب وہ اس سوچ میں پڑ جاے گا آخر ایسا کیوں ہے کیا میرے گھر افراد کو بھوک زیادہ لگتی ہے کہ وہ کھانا نہی چھوڑتے اب یہ جو دوسرے بندے کی سوچ ہے یہ بے چینی کا سبب بنے گی کیو بنی سوچاآپ نے ہمارے اندر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے جزبے کے ساتھ ساتھ تکبر بھی جنم لیتا ہے تکبر ایک بیماری ہے جیسے کہ بے چینی ان دونوں بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اپنی اصلاح ضروری ہے جب اصلاح ہو گی تب ہی کسی دوسرے کی بات کو مثبت پہلو سے سوچے گےاورتب ہی بے چینی اور تکبر سے نجات ملے گی ہمیں چاہیے کے ہم ایک دوسرے کو وہی کچھ دے جس کی دوسرے کوضرورت ہو نہ کے بدگمان کر کے اس کو پریشانی میں مبتلا کرے جب ایک انسان خود مثبت سوچے گا تب ہی مثبت بول پاے گا جب مثبت پہلو بولے گا تو اس کا نتجہ بھی آ خر کار اچھا ہی ہو گا زندگی تو چند دن کی ہے جو ایک سفر کی مانند ہے اور اس کا احتتام بھی ہو گا ۔یہ تو سب ہی جانتے ہیں مگر اس احتتام کا خاتمہ کون اچھا کرے گا یہ کیو کوی نہی سوچتا ۔

پلیز سوچیے ۔

Comments are closed.