محبت

 

علیشاء ارشد (ظفروال)

ہر ایک انسان کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب اسے کسی سے محبت ہو جاتی ہے۔ محبت میں ہم سب کچھ بھول بیٹھتے ہیں اپنی ذات ، اپنی پہچان ۔ اس ایک شخص کو ہم ، جن سے ہمیں بہت محبت ہوتی ہے اپنی چلتی سانسوں کی وجہ مان بیٹھتے ہیں۔

لیکن جب وہ ہم سے بچھڑ جاتے ہیں تو ہم اللّٰہ تعالیٰ سے شکوے کرتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں، تو انھوں نے ہمیں بس اس آ زمائش میں سے گزارنا ہوتا تاکہ ہم جو اس دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے تھے اپنے رب کے قریب ہوسکے اور یہ فطری بات ہے کے انسان دکھ میں اپنے رب کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔

ہم پاگلوں کی طرح اس شخص کی خاطر عبادت کرتے ہیں ہم اللّٰہ تعالیٰ سے اس ایک انسان کی محبت مانگتے ہیں ہم روتے ہیں، نمازوں میں اپنی دعاؤں میں صرف اس ایک شخص کو مانگنے کی خاطر گرتے ہیں ۔ہم گناہگار لوگ اللّٰہ سے اللّٰہ کی محبت کیوں نہیں مانگتے؟

ہم کیوں بھول جاتے ہیں یہ دنیا عارضی ہے اور انسانوں سے کی جانے والی محبت بھی۔ ہم کیوں نمازوں میں سجدے صرف انسان کی محبت کو پانے کے لیے کرتے ہیں ہم کیوں اللّٰہ تعالیٰ سے ہمارے دل کو اپنی محبت سے بڑھنے کی دعائیں نہیں مانگتے؟

محبت بہت انمول ہے اور اگر انسان اللّٰہ سے اللّٰہ کی محبت مانگے تو اللّٰہ تعالیٰ اس شخص کو ہر وہ محبت دیتے ہیں جس کی اسے چاہت ہوتی ہے۔ انسان کی محبت صرف کچھ عرصے کی ہوتی ہے لیکن اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے سے ہمیشہ محبت کرتے ہیں۔

انسان کی محبت میں دل توڑ دیئے جاتے ، ہمارے عیب دیکھے جاتے ہیں ۔ لیکن اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے سے بےلوث محبت کرتے ہیں اور کبھی بھی اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتے۔ اللّٰہ کی محبت ہی حقیقی محبت ہے ،باقی محبتیں تو صرف دکھاوا ہیں ،صرف اللّٰہ تعالیٰ کی محبت ہی آب حیات ہے۔ جب انسان کا دل اللّٰہ کی محبت سے بڑھ جاتا ہے تو اسے کسی دنیاوی چیز کی خواہش نہیں رہتی۔

Comments are closed.