"مسئلہ کشمیر اور اقوام عالم”
ناصرہ نواز (سرگودها)
بلاشبہ آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو کسی بھی انسان کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔کوئی بھی قوم اپنی ثقافت،روايات اور مذہبی آزادی کے تحت اپنی زندگی بطور آزاد شہری گزار سکتی ہے اور اسکے بعد قومیں نسل در نسل شناخت کاباعث بنتی ہیں۔جب کسی قوم کے حقوق زبردستی سلب کرنے کی کوشش کی جائے تو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے حقوق کا دفاع کرتے ہیں یہ کیفیت ہر انسان کی ہوتی ہے۔
مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کا پہلو بہت اہمیت کا حامل ہے۔یہ بات لوگوں اور اداروں کو سمجھ میں آسانی سے آ سکتی ہے لیکن سب خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں۔ بھارتی مظالم اپنی انتہا پر ہیں۔جہاں کاروباری زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ بھارتی فوجی نہتے کشمیری مسلمان پر ظلم و بربريت کی بدترین پامالی کر رہے ہیں۔مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس كا واضح مقصد اقوام عالم کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کروانا ہے۔دنیا بھر میں انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ مقبوضہ کشمیر کے اُن بچوں،جوانوں اور بوڑھوں کو سلام پیش کر رہے ہیں۔جو ہر قسم کے مظالم کا سامنہ دلیری سے کرتے ہیں اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی نے کسی سے آزادی جیسی نعمت کو چھیننے کی کوشش کی تو انکا انجام کیا ہوا۔ کشمیر کےمسئلے کوحکومت پاکستان نے کئی دفعہ اقوام متحدہ میں پہنچایا اور ہر بار اقوام متحدہ میں کشمیر متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لیے بھارت پر زور دیا گیا۔لیکن اقوام متحدہ بھی اپنی قراردادوں پر عمل درامد کرنے میں بے بس ہے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور انتہائی افسوسناک بات ہے گزشتہ چند سالوں سے ہماری شہ رگ دشمنوں کے قبضے میں ہے۔کہاں کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا ہے اور کہاں انسانی حقوق کی پامالی کا قبرستان بنتا جا رہا ہے۔آزادی کی تحریک کےلیے پڑھے لکھے اور باشعورنوجوان اس تحریک میں سرگرم عمل ہیں اور بھارتی غلامی سے چھٹکارے کے لیے اپنا گرم خون پیش کر رہے ہیں۔کشمیریوں پر سالہا سال سے زندگی تنگ ہے۔ انکی عزت نفس کو مجروح،حرمتیں غیر محفوظ،ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ اور گمنام قبروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔بھارتی حکومت نے مظالم روکنے کی بجائے مقبوضہ وادی کشمیر میں نئے فوجی دستے بھیج دیے ہیں۔ انتہا پسند بھارت کشمیریوں کو انکا حق خودداریت دینے کے لیے تیار نہیں اور طرح طرح الزامات سے مسلسل مسٔلہ کشمیر سے چشم پوشی اختیار کیے ہوۓ ہیں۔اتنےظلم سہنے کے باوجود کشمیریوں نے نہ صرف آزادی و حريت کا پرچم بلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہر دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔بھارتی فوج کے ظلم و بربريت کے با وجود کشمیری عوام آزادی کے نعرے لگا،لگا کر اور پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کر رہی ہے کہ آزادی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے بھارت کی طرف سے کبھی خوشی اور خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا۔یہ خواہش اور کوشش صرف پاکستان کی جانب سے ہی ہے پاکستان کو شدید ضرورت ہے کہ وه میڈیا کے زریعے کشمیر کی صورتحال اور سنگینی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کریں تاکہ کشمیریوں کو اس ظلم سے نجات مل سکے۔نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بد ترین مظالم کا سلسلہ ركوانے کے لیے اور کشمیریوں کی امنگوں کو اقوام عالم تک پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔
Comments are closed.