اس آندولن کے لئے جو ہوسکے وہ ضرور کیجیے !!
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
راکیش ٹکیت لگاتار سرکار کو آگاہ کر رہے ہیں، وہ اپنی سبھاؤں میں بڑی صاف گوئی، خلوص اور ہمدردی کے ساتھ کسانوں کو پرجوش کرتے ہیں تو دوسری طرف سرکار کو متنبہ بھی کرجاتے ہیں، غازی پور بارڈر اور متعدد پنچایت استھل پر جہاں لاکھوں کی بھیڑ جمع ہے وہاں بیرونی سرحدیں لگادینے کے بعد وہ مزید سرکار کو بزدل اور ناکارہ ثابت کر رہے ہیں، انہوں نے صاف صاف کہا کہ جب حکمران ڈرتے ہیں تو قلعہ بندی کرلیتے ہیں، انہوں نے تو نوجوانوں کو جوش دلاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ کو لوگ اب تک زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے منسوخ کرنے کی استدعا کر رہے ہیں، یہی لوگ ایسا نہ ہوکہ سرکار کو بھی منسوخ کرنے کی پہل کرنے لگیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہی پنچایت ہیں جن سے سیاست روپ ریکھا طے ہوتی ہے، اگر انہوں نے نے ٹھان لیا تو گدّی بچانا بھی مشکل ہوجائے گا، خیر ہے کہ اب تک ٹکیت کی اس بات کو سیاسی گلیاروں نے اہمیت نہیں دی اور نہ کسی قسم کی بیان بازی کی ہے، ویسے اپوزیشن اس لائق بھی نہیں کہ وہ اتنی ہمت کرسکیں؛ بہرحال اب ٦/ فروری ٢٠٢١ کو بھارت بند کا بھی اعلان کیا گیا ہے، یہ کچھ ہی گھنٹوں کیلئے ہوگا لیکن سبھی جانتے ہیں؛ کہ اس کا اثر کئی دن کے برابر ہوگا، لوگ جوق درجوق کسان آندولن میں پہنچ رہے ہیں، ساری دوریاں مِٹ گئی ہیں، حالانکہ میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ کسان آندولن جن جگہوں پر جاری ہے وہاں پر نہ صرف انٹرنیٹ تھپ کردیا گیا ہے؛ بلکہ چھ/ سات کلومیٹر تک نہ کسی کو جانے کی اجازت ہے اور نہیں کوئی رپورٹنگ کی گنجائش ہے، Ndtv انڈیا کے ایک رپورٹر نے چھ کلومیٹر پیدل چل کر کچھ تصویریں بھیجی ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں، جو قصہ ہم بادشاہوں اور فوجیوں کے درمیان جنگ بندی کے وقت کی پڑھتے تھے کہ کس طرح فوج نے ایک قلعہ کا محاصرہ کرلیا ہے اور انہیں شکست قبول کرنے پر مجبور کردیا کہ وہ تمام رسد بند کر کے اسے لاغر کرتے ہوئے اپنا جھنڈا بلند کرلیتا ہے، ٹھیک ویسے ہی اس وقت کسانوں کا محاصرہ کرلیا گیا ہے، عالمی خبر رساں ادارے ڈرون کیمروں سے ان تصاویر کو وائرل کر رہے ہیں، اور عالمی شخصیات کو متوجہ ہونے پر ابھار رہے ہیں، خبر تو یہ بھی آرہی ہے کہ جس دہلی کی سرکار نے ایک بار پھر امت شاہ کے ساتھ منافقت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف اٹھتی بھیڑ کو سپورٹ دیا ہے، اسے دیکھ کر سرکار دہلی کے وزیر اعلی کی پاور مزید کم کر کے گورنر کو طاقت بہم پہنچانا چاہتی ہے، شنید ہے کہ کافی کاروائی ہوچکی ہے، اگر یہ خبر درست ہے تو پھر یقیناً یہ دہلی سرکار کے ساتھ ساتھ کسان آندولن کیلئے ایک خطرناک موڑ ہوگا؛ کیوں کہ جو کچھ بھی ہو اس وقت دہلی سرکار سے کسانوں کو بہت مدد فراہم ہورہی ہے، یہ مرکزی حکومت کا ایک ہتھکنڈا اور ماسٹر اسٹروک بھی ہوسکتا ہے کہ جس سانڈھ کو وہ قابو نہیں کر پارہے ہیں اسے بہت حد تک کمزور کر کے سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں.
صحیح بات یہ ہے کہ اس وقت سرکار بیک فُٹ پر آچکی ہے، کسان آندولن کو مزید ہوا سے طوفان بنانے میں بھی اسی کا ہاتھ ہے، وہ مسلسل ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں جس سے عوام اور کسان میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے، بالخصوص صحافیوں پر ظالمانہ کارروائیوں نے اسے اور شعلہ انگیز بنا دیا ہے، خاص طور پر سنگھو بارڈر سے گرفتار ہونے کے پانچ دن بعد آزاد صحافی مندیپ پونیا کی ضمانت پر رہائی کے بعد جو انٹرویو Ndtv نے کیا ہے، وہ دیکھنے کے قابل ہے، یہ دس منٹ کی بات چیت ہندوستان میں میڈیا کی آزادی اور کد وکاوش کا پول کھول دیتی ہے، اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ شعلہ اور پھٹے گا، انہوں نے بتایا کہ کس طرح ظالمانہ کارروائی کی گئی ہے، وہ پس زنداں کسانوں سے بھی ملے اور ان کی روح فرساں داستانیں سنیں، جسے قلم کاغذ نہ ہونے اور پھر قلم دستیاب ہونے پر انہوں نے اپنی ران پر لکھ لیا تھا، اور ان واقعات کے ساتھ ساتھ ایسی پرکیف باتیں بتائی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت ظلم میں سبھوں کو پیچھے چھوڑ دینے پر بضد ہے، واقعہ یہ ہے کہ ملک بھر میں ایک آگ لگی ہوئی ہے، عوام اور کسان پریشان ہیں تو ساتھ ہی اعلی طبقہ بھی پش و پیش میں ہے، اور ان میں ایک خاص قسم کی بوکھلاہٹ پائی جارہی ہے، بیرون ممالک سے بعض نامور شخصیات نے کسان آندولن کے حق میں ٹویٹ کیا کردیا ایک ہنگامہ مچ گیا ہے، ہر کوئی ملک کی طرف بلکہ کہنا چاہئے کہ سرکار کی طرفداری اور دفاع کرنے پر اتر آیا ہے، وہ صحیح و غلط کی کسی بھی بحث کے بجائے عامیانہ سلوک پر راضی ہوگئے ہیں، فلمی دنیا کے بڑے بڑے نام تو خاص طور پر اندھ بھکتی کرتے دکھائی دے رہے ہیں، پھر بھی اس سے ایک بات یہ بھی واضح ہورہی ہے کہ کون کون منافقت کر رہا ہے، سرکار کی خوشنودی کیلئے اپنے پروفیشن کا استعمال کریا ہے، اور کون حقیقی دیش بھکت اور عوام کیلئے نمونہ ہے، یہ وقت ستم ہے جس میں دعاؤں کے ساتھ کچھ کر گزرنے کی ضرورت ہے، ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے، پولس اور حکومت کی ملی بھَگَت نے سب کچھ بنٹا دھار کردیا ہے، اگر اس شتر بے مہار حکومت کو سبق نہ سکھایا گیا اور ملک کی جمہوری اقدار کی پاسبانی نہ کی گئی تو اگلی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں گی، اس لئے ہوش میں آئیں، سر اٹھائیں اور جو ہو سکیں وہ ضرور کریں، جس کسان آندولن کو تقویت پہونچے اور ملک کی جمہوریت بحال ہو.
Comments are closed.