رنگین سکرین اور بے رنگ زندگی
صائمہ تحریم محمد
ایک زمانے میں سفید اور سیاہ رنگوں سے مزین ٹی-وی- سکرین دیکھ کر لوگ خوش ہو جایا کرتے تھے اور اس دور میں زندگی چاشنی، رنگوں اور امنگوں سے مزین ہوا کرتی تھی۔ لیکن پھر اچانک ہر طرف "جدید دور” کی لہر دوڑی اور ایسی ایجادات ہوئیں کہ زندگی کے سارے رنگ ٹی-وی- سکرین پر چلے گئے اور اس کے سفید اور سیاہ رنگ لوگوں کی زندگیوں پر چھا گئے۔ زندگی کی رونقیں بھی ان جدید آلات کی نذر ہو گئیں۔ جبکہ یہ جدید آلات خود کو جدید سے جدید تر منواتے گئے۔
اب تو چوبیس گھنٹوں میں تقریباً 14 گھنٹے سکرین کسی نہ کسی صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے اور غائبانہ طور پر ہمیں اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔ بس کسی نہ کسی صورت میں یہ ہماری توجہ کا مرکز بنی رہتی ہے۔ اگر ہم ظاہری دنیا کو آج بھی غور سے دیکھیں تو بہت سارے لوگ انٹرنیٹ کی مدد سے خود کو رنگین زندگی گزارتے ہوئے محسوس کروانے اور اس کا یقین دلانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ مگر بےرنگ ہمارا ظاہر تو نہیں ہوا بلکہ بے رنگ تو ہمارا باطن ہو رہا ہے۔ مگر میں یہ نہیں کہوں گی کہ ہم بے رنگ ہو چکے ہیں، کیونکہ ابھی بھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو خود کو بے رنگ ہونے سے بچائے ہوئے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں وہ لوگ کون ہیں؟
وہ ہمارے بڑے بوڑھے، ہمارے بزرگ ہیں۔ جو جدید آلات کے بغیر زندگی گزارنے والی آخری نسل میں شمار ہوتے ہیں۔ جو خوشیوں کو بھرپور طریقے سے منانا جانتے ہیں۔ اپنی زندگی کو ہر رنگ سے بھرنا جانتے ہیں۔بلکہ میرا ماننا تو یہ ہے کہ وہ لوگ
"لمحوں کو جینا جانتے ہیں۔ وہ لمحوں کو تصویروں میں قید کرنے کی حد تک نہیں رہتے بلکہ وہ لمحوں کو’لمحوں میں جینے کا ہنر جانتے ہیں اور قید کو صرف سزا کے زمرے میں ٹھہراتے ہیں۔”
مگر ہم لوگ تو جدید آلات کی رنگینیوں میں کھو کر اپنے بڑھے بوڑھوں سے بات کرنا بھی وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ مگر یقین مانیں انہیں لوگوں سے تو رونقیں ہیں، مسکراہٹیں ہیں۔وہ سمندر کو سمندر کی وسعت جتنا ہی دیکھتے ہیں۔ اسے اتنا ہی گہرا اور وسیع دیکھتے ہیں جتنا وہ ہیں۔ وہ سمندر کی لہروں کو جو ریت پر بار بار ٹکراتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں، ان سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ایسے لوگ ہماری طرح ایک تصویر میں حسین مناظر کو قید کرکے سکرین کے سائز کے جتنا نہیں دیکھتے۔
میں نے ایک کتاب پڑھتے ہوئے رنگوں کے بارے میں پڑھا کہ اس دنیا میں بنیادی رنگ تین ہی ہوتے ہیں۔ سرخ، نیلا اور سبز مگر کچھ لوگ سفید اور سیاہ کو بھی رنگوں میں شمار کرتے ہیں کیونکہ ایک خاص ترتیب سے رنگوں کو ملاؤ تو سفید رنگ بنتا ہے اور جہاں کوئی رنگ نہ ہو اسے سیاہ رنگ کہتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ سیاہ رنگ کو رنگوں میں شمار کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
ہمارے آباؤ اجداد تو تمام رنگوں سے مزین تھے جبکہ سفید اور سیاہ رنگ تو ہم لوگوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اب ہر شخص اس دنیا میں مکمل سفید یا مکمل طور پر سیاہ نہیں رہ سکتا۔ جیسے ہر شخص مکمل دین کا یا مکمل دنیا کا ہو کر نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالی نے حقوق العباد کو دین میں رکھ کر ہمیں دنیا سے جڑے رہنے کا حکم دیا ہے۔
مگر آج کے دور میں لوگ اپنے اندر سفید اور سیاہ رنگ ملانے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ یہ بھول کر کہ ان دونوں رنگوں کو الگ الگ رکھ کر ہی ان کی وُقت کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔
اگر ہم رنگوں کے حوالے سے دیکھیں تو سفید اور سیاہ رنگ کو ملا کر لوگ "سرمئی” رنگ کو بنانے کی کاوشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ سفید اور سیاہ رنگوں میں مثبت اور منفی کے تصور کو رکھ کر، دونوں کو ملا کر "غیر جانبدار” بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
جبکہ مصنفہ نمرہ احمد لکھتی ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ:
"غیر جانبداریت انسان کو جہنم میں لے جاتی ہے۔”
اگر غیرجانبداریت کو حاصل کرکے بھی جہنم ملتی ہے، پھر تو منفی کردار اپنا کر، منفی سوچ رکھ کر، غلط اعمال کرکے بھی تو جہنم ہی ملتی ہے۔
تو پھر اس صورت حال میں آپ کیا چنیں گے؟
اگر آپ لوگ اپنے ذہنوں میں اپنے آپ کو سوچ چکے ہیں تو میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ میں جانتی ہوں صرف آپ کے مثبت ہو جانے سے دنیا نہیں بدل جائے گی۔ مگر جب آپ مثبت ہو جائے گے تو رب بھی آپ کے لئے مثبت فیصلے فرمائے گا۔
Comments are closed.