کسان آندولن بنام فاشسٹ سرکار
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
ملک میں احتجاج ہوتے رہے ہیں، اس کی ایک تاریخ ہے، خود آزاد بھارت میں ہونے والے احتجاجی مہمیں ایک تحقیقی موضوع ہے، اگر کوئی پولیٹیکل سائنس کا طالب علم محنت کرے تو بہترین مقالہ تیار کیا جاسکتا ہے، مگر ان سب احتجاج کے درمیان اس دفعہ لوگوں کا ہجوم، ان کا غصہ اور مطالبات کچھ الگ ہیں، اسی طرح اس کی نوعیت اور رنگ و معانی بھی مختلف ہے، گزشتہ زمانوں میں عمومی طور پر تحریکات کو کسی نہ کسی مذہبی، نسلی، علاقائی یا ذات پات کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، جاٹ، گجر، پٹیل، جنوبی ہند، مشرقی ہند، مراٹھا وغیرہ؛ بالخصوص اکثر اوقات ان میں مسلم اینگل تلاش کرنے کی کوشش ہوتی تھی، مذکورہ احتجاجات میں تو پھر بھی نرمی، رواداری اور بہتر برتاؤ کی بات کی جاتی تھی، خود سرکار ان سے بات کرتی تھی، انہیں منانے کی کوشش کرتی تھی، متعدد مرتبہ ان کا دھرنا تشدد پر مبنی ہوتا تھا، جاٹ، گجر اور پٹیل آندولن کے ساتھ ساتھ مراٹھا احتجاجی مہم نے دیش کا بھاری نقصان کیا ہے، جانیں بھی گئی ہیں، سرکاری املاک بھی خاک کردی گئی ہیں؛ لیکن ان سب کے باوجود ان کی مانگیں بھی مانی گئیں یا پھر انہیں کسی نہ کسی طور پر مطمئن کردیا گیا، رہی بات مسلمانوں کی تو انہیں ہمیشہ دھمکیاں، گولیاں، ڈنڈے، پیلیٹ گَن، آنسو گیس، کیسز، دیس دروہی کا الزام ہی ان کے ہاتھ آیا، جَے پی آندولن کے بعد غالباً سب سے بڑا آندولن سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف کیا گیا تھا، مگر چونکہ یہ مسلمان تھے، یا ہوں کہیں کہ ان میں شریک ہونے والے زیادہ تر مسلمان تھے؛ اس لئے ان سے بات تک کرنا گوار نہ کیا گیا، بلکہ بزور انہیں دھرنا استھلوں سے ہٹایا گیا، مارپیٹ کی گئی اور مستزاد یہ کہ انہیں پر کیسز کردیئے گئے، یہ پہلی دفعہ ہے جب خود سرکار کے سپورٹر میدان میں ہیں، وہ خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ٢٠١٩ میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا، اور ہمیشہ ان کے ووٹر رہے ہیں، ان میں سے بہتوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ بی جے پی کے اندھ بھکت بھی رہ چکے ہیں، یہ بھی سرعام قبول کرتے ہوئے دیکھے گئے کہ پچھلی تحریکوں کے دوران وہ خوش ہوتے تھے یا پھر ایک مخصوص طبقہ و گروہ کا معاملہ سمجھ کر رضائی میں دُبکے رہتے تھے؛ لیکن اب ان کی آنکھیں کھلی ہیں، انہیں لگتا تھا کہ یہ سرکار صرف مسلم مخالف ہے، مگر اب پتہ چلا کہ یہ ملک اور کسان مخالف ہے، اس سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ آندولن ان لوگوں کی جانب سے ہے جن سے سبھی کے سروکار جڑے ہوئے ہیں، ملک کا کوئی حصہ نہیں جہاں کسانی نہ ہوتی ہو، کھیت کھلیان اور اناج پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جاتی ہو، روزی روٹی کا سب سے بڑا ذریعہ یہی تو ہے، کوئی کہیں سے بھی تعلق رکھے وہ کھیت میں اُگائی گئی غذا ہی تو کھاتے ہیں، دنیا نے اب بھی اتنی ترقی نہیں کہ آن لائن روٹیاں بنائی جاسکیں اور لوگوں کا پیٹ پالا جاسکے، ایسا مانا جاتا ہے کہ ملک میں ستر فیصد لوگ کسانی سے منسلک ہیں، اتنی بڑی تعداد میں جن لوگوں کا حق مارا جارہا ہو جب وہ میدان میں اتر جائیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگیں تو پھر کیسا نظارہ ہوگا؟
اس کسان آندولن کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں مذہبی رنگ نہیں دیکھا جاسکتا، پہلے کوشش کی گئی تھی کہ انہیں سکھ اور خالصتان تحریک سے جوڑ دیا جائے، مگر ان کی سوجھ بوجھ اور حکمت عملی نے انہیں ناکام کردیا، بالخصوص اب تک اس میں کوئی مسلم پہلو نہیں نکالا جاسکا ہے، اگر کوئی مسلم علامت نظر آجاتی تو پھر ممکن تھا کہ اس آندولن کو دیش درو اور ملک مخالف کہہ کر عوام کو مسل دیا جاتا، انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا، سرکار انہیں پوچھتی بھی نہیں، اور ان کی اس حرکت پر ملک کا بڑا طبقہ خواہ وہ انٹیلیجنس ہی نہ ہوں وہ بغلیں بجا رہے ہوتے، تالیاں پیٹ رہے ہوتے، اسے یوں بھی سمجھئے کہ جب جوڑ توڑ کام نہیں آرہا ہے تب بھی وہ لوگ جو ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور جنہیں لوگ سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں ان میں اکثر سرکار کی حمایت میں گرے جارہے ہیں، پھر بھی یہ وقت سرکار کیلئے بڑی دودھاری تلوار کے مثل ہے کہ وہ اس آندولن میں مذہب، مسلمان اور فشزم کا ہتھکنڈا شامل نہیں کر پارہے ہیں، تو دوسری طرف انہیں کے ووٹرس گریبان پکڑے ہوئے ہیں، آج اترپردیش پنچایت میں یہاں تک کہتے ہوئے سنا گیا کہ "مودی جی آپ کی توپ کہاں ہے، ہم دلی آگئے” – – حقیقت یہ ہے کہ کسانی ہر ایک کی ضرورت ہے، چنانچہ اس آندولن میں سکھ، ہندو، مسلم، جین وغیرہ سبھی دھرم کے لوگ شانہ بشانہ نظر آتے ہیں، ہر ایک صرف زرعی قوانین کی خطرناکی کے بارے میں بات کرتا ہے، عوام سے متعلق ان کے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، سینئر صحافی پونیہ پرسون واجپائی تو اس آندولن کو ہندو بنام ہندو کا نام دیتے ہیں، صحیح بات تو یہی ہے کہ یہ ہندو بنام ہندو ہے؛ مگر أصح بات یہ لگتی ہے کہ یہ بنام فاشسٹ سرکار ہے، اس ملک میں جمہوریت کو جس طرح گھر کی لونڈی اور بازاری بنا کر سرکاریں استحصال کر رہی ہیں، اس کی اہمیت اور افادیت کا گھلا گھونٹ رہی ہے، ساری طاقت اپنے ہاتھوں میں لے کر عوام کو رسوا اور ملک کو کنگال کر رہی ہیں، سرمایہ دارانہ نظام کی حوصلہ افزائی اور غرباء کی بے توقیری کر رہی ہیں؛ دراصل یہ کسان آندولن اسی کے خلاف ہے، یہ احتجاج عوام کو ایک سر کرنے، ان کے مفادات کے تئیں اور ملک کی ترقی کے لئے بیدار ہونے، سرکاری ایجنسیوں اور جمہوریت کی کمزور پڑتی دیواروں کو مضبوطی فراہم کرنے کیلئے ہے، آپ یقین جانئے! یہ آندولن اگر کامیاب ہوتا ہے جس کی ہمیں قوی امید ہے تو نہ صرف جمہوریت کو تقویت ملے گی؛ بلکہ اقلیت کو توانائی حاصل ہوگی، اس سے بڑھ کر فاشسٹ سرکار کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ مزید آگ میں ہاتھ ڈالنے سے پرہیز کرے گی.
Comments are closed.