حَقِیقی مُحبت
مِصباح نواز(پنڈدادنخان)
وہ گاڑی کے فور ہیڈ سے ٹیک لگاۓ مَگن انداز میں کھڑا تھا۔ بھُوری آنکھیں، تِیکھے نقوش، چہرے پر داڑھی جو بہُت نفاست سے تراشی گئی تھی۔ ایک ہاتھ میں موبائل پکڑے، وہ اَنگوٹھے کی مدد سے بار بار ڈائلنگ پیڈ پر کوٸی نمبر ڈائل کر رہا تھا۔ جبکہ دوسرا ہاتھ بار بار پِیشانی پر پھِیرتا، وہ خاصا پرِیشان لگ رہا تھا۔۔ شاید دوسری طرف کوئی کال رِیسِیو نہیں کر رہا تھا۔ بار بار یہی عمل دُہراتے ہوۓ حمنہ بس میں بیٹھی ٹِکٹِکی باندھے اُسی کی طرف دِیکھ رہی تھی۔
وہ گرمیوں کی ایک تَپتِی دوپہر تھی۔ سُورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔تقرِیباً دو بَجے کا وقت تھا۔ حَمنہ کے فرسٹ اِئیر کے امتحان چل رہے تھے۔ اور آج آخری پیپر تھا۔ طلبہ امتحانی سنٹر جانے کے لیے بس میں سوار ہو رہے تھے۔ بسں ایک میڈیکل سٹور کے سامنے کھڑی تھی۔ ابھی تک تمام طلبہ وہاں نہیں پُہنچے تھے۔ اِس لیے بس میں سوار طلبہ اُن کی راہ دِیکھ رہے تھے۔ تبھی حمنہ کی نظر اُس پر پڑی تھی۔ وہ اُس کا تایا زاد حمزہ تھا۔ عُمر میں تقرِیباً حمنہ سے چار سال بڑا تھا۔ وہ ہینڈسم تو تھا ہی، اس کے ساتھ ہی اللہ نے اُسے زندگی کی تمام آسائشوں سے بھی مالامال کیا تھا۔ یوں دولت کی چمک دھمک نے اُسے اور بھی خوبصورت بنا دِیا تھا۔ سچ کہتے ہیں نا
”خُدا جب حُسن دِیتا ہے، نزاکت آہی جاتی ہے۔“
زندگی میں پہلی بار وہ حمنہ کو اچھا لگا تھا۔ پہلے کبھی اُن کی یوں تفصِیلی مُلاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔ خاندانی اِختلافات کی وجہ کی وجہ سے گھر کے بڑوں کے درمیان بھی بہُت کم میل جول ہوتا تھا۔ وہ بھی کسی شادی، بیاہ یا دِیگر تقریبات کے موقع پر۔ اس وجہ سے اِن کی بھی کبھی مُلاقات نہیں ہوئی تھی۔ اگر کبھ ہوئی بھی تو فقط چند سیکنڈز کے لیے۔ وہ خود ہی جب مِلتا سلام کرتا اور حال چال پُوچھ کے چلا جاتا۔ حمنہ سلام کا جواب تک نہ دے پاتی۔ اس لیے حمزہ کا تو پتہ نہیں لیکن حمنہ اُس کے نام کے علاوہ مزید اُس کے بارے میں کُچھ نہیں جانتی تھی۔
گرمی کی شِدت میں آہستہ آہستہ اِضافہ ہو رہا تھا۔ لیکن حمنہ اِردگرد کے ماحول کو محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ تو بس اُس میں مگن تھی اور وہ کہیں اور ۔ اسی اثنا میں حمزہ کا مطلوبہ نمبر شاید لگ گیا تھا۔ اب وہ بائیں ہاتھ سے فون کان سے لگاۓ ہنس کر بات کررہا تھا۔ بات ختم کرنے کے بعد اُسں نے موبائل فون جیب میں رکھا اور کار کا دروازہ کھولنے لگا۔ اب وہ کار میں بیٹھ رہا تھا حمنہ کا دِل زور سے دھڑکا۔ حمنہ نے پہلے کبھی ایسے احساس کو محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ نہیں جان پائی کہ یہ چند لمحے اُس کے دِل و دِماغ اندر مُقِید ہو گۓ تھے۔اُس کے اندر ایک احساس کو بیدار کر گئے تھے۔ اتنے میں تمام طلبہ بس میں سوار ہو چُکے تھے۔ وہ خیالوں سے باہر تب آئی جب بس ایک ہولے سے دھچکے سے اسٹارٹ ہوئی۔ اب بس منزل کی طرف رواں دواں ہو گئی۔ وہ سارا راستہ اس کے بارےمیں سوچتی رہی۔ اُس دن اس کا پیپر بھی اچھا نہ ہو سکا۔ وہ تو شاید کسی اور دُنیا میں جا چکی تھی۔ واپسی پر بھی تمام رستہ اُس کے بارے میں سوچتی رہی۔ اب تو یہ حمنہ کا معمُول بن گیا تھا وہ ہر وقت اُس کے بارے میں سوچتی رہتی۔ کبھی خام خیالی میں ہی خود کو اُس کے ساتھ باتیں کرتا دِیکھتی تو کبھی اُس کے ساتھ تصور میں چائے پیتے ہوۓ۔زندگی کے ماہ وا ایام اسی طرح گُررتے رہے اور تین سال کا عرصہ پر لگا کر اُڑ گیا۔ انہیں خیالوں کے ساتھ ہنستے روتے وہ اب تک بی ایس سی کی ڈِگری لے چُکی تھی۔ اس تمام عرصے میں وہ کئی بار حمنہ کے گھر آچکا تھا۔ وہ جب بھی آتا وہ کبھی اُس کے سامنے نہ جاتی۔ نہ جانے کیوں حمنہ کو لگتا تھا کہ وہ اس سے نظریں نہیں مِلا پائے گی۔ لیکن وہ سدا کا ڈھِیٹھ بندا جب بھی اس کے گھر آتا اس سے ضرور ملتا۔ وہ معمول کی طرح سلام کرتا حال پوچھتا اور حمنہ معمول کی طرح چُپ سادھے ہونقوں کی طرح کھڑی رہتی۔ بی ایس سی کے بعد حمنہ ایم ایس سی کے لیے یُو نیورسٹی چل گئی اُس نے سوچا کہ وہ وہاں جا کر اُس سے رابطہ کرے گی۔ اُس کا موبائل نمبر یونیورسٹی ہاسٹل جاتے ہوۓ حمنہ نے اپنے ابو کے موبائل سے نوٹ کر کے اپنے موبائل میں سِیو کر لیا تھا۔ لیکن ہر بار جب وہ اس سے رابطہ کرنے کے لیے میسج ٹائپ کرتی اُس کی ہمت جواب دے جاتی۔اور وہ پھر سے مایوس ہو جاتی۔ وہ اُس سے رابطہ قائم کر کے اس کو بتانا چاہتی تھی کہ وہ اُس کو چاہتی ہے۔ وہ اُس سے مُحبت کر بیٹھی ہے لیکن کبھی وہ اِتنی ہمت مُجتمع نہیں کر پاٸی کہ وہ اُسے اپنی مُحبت کا احساس دلانا تو دُور، اُس سے رابطہ بھی کر پائے ۔یوں ہی دو سال کا عرصہ مذِید گُزر گِیا۔ اب حمنہ ایم ایس سی کی ڈِگری لے کر گھر واپس آگئی۔گھر واپس آنے کے بعد بھی وہ اُسے بھلا نہیں پائی کیا وہ واقعی اُس سے اتنی مُحبت کر بیٹھی تھی کہ چند سیکنڈز کی مُلاقاتیں اُسے اتنا تڑپا رہی تھیں ۔وہ اب اُس سے ہر صورت مل کر مُحبت کا اظہار کرنا چاہتی تھی۔ یوں ہی اُسے ہمت جمع کر کے میسج کرنے کی غرض سے اُس نے موبائل اٹھایا۔ ایک بار پھر ہمت جواب دے گٸی۔ اُس نے موبائل کو دِیوار کے ساتھ پٹخ دیا۔ چند ہی لمحوں بعد وہ اُسے توڑنے پر پچھتاوےکے حصار میں تھی۔ اب وہ فِی الفور نیا موبائل نہیں خرید سکتی تھی۔ وہ وہیں صحن میں اکڑوں بیٹھ کر بے آواز رونے لگی۔
شام کو جب ابو گھر آئے تو اُس نے اپنے ابوکے موبائل سے اپنی کچھ دوستوں سے رابطہ قائم کیا۔ اب وہ ہر روز ابو کے موبائل سے حمزہ کا واٹس ایپ پروفائل دیکھتی۔ حادثاتی طور پر اس کا رابطہ حمزہ سے ہو گیا۔ حمزہ کے پاس حمنہ کے ابو کا نمبر سیو تھا۔ اب یہ رابطہ آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔ اور بالآخر حمنہ نے اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔ لمبی لمبی فون کالز اور میسیجز کے بعد ایک دِن حمزہ نے حمنہ سے اُس کی کچھ فوٹوز مانگیں جس پر حمنہ ڈر گٸی ۔اس کا کہنا تھا کہ اگر تصویریں نی بھیجی گیٸں تو اسے کبھی رابطہ نہیں رکھے گا حمنہ نے کچھ عرصہ اسے ٹرخائے رکھا پھر تصویریں بھیجنے س انکار کر دیا۔ وہ کیسے کسی نامحرم کو یوں اپنی تصاویر بھیج سکتی تھی۔ ایک انجانا خوف غالب آگیا۔ تصاویر بھیجنے کے انکار پر حمزہ نے ہمیشہ کے لیے حمنہ کی لاکھ منت سماجت پر رابطہ مُنقطع کردیا۔
اب حمنہ بہت خاموش رہنے لگی۔ اسی طرح سے ٹوٹ جانے پر اللہ نے بہت جلد اسے اپنی محبت سے اپنے قریب کر لیا۔ اب وہ ہر وقت اُس کے سامنے اپنے گناہوں کے لیے شرمندہ رہتی اور اپنی رحمت طلب کرتی۔ حمزہ کی مُحبت نے جہاں اسے توڑ دیا تھا وہیں اللہ نے اپنی محبت اس کے دل میں ڈال کر اپنا خاص کرم کیا۔ سچ کہا تھا کسی نے کہ
”انسان جب کسی کے ہاتھوں ٹوٹتا ہے تب ہی وہ اللہ کی طرف لوٹتا ہے تاکہ اسے احساس ہو کہ اللہ کی محبت سب محبتوں سے اعلٰی اور مُخلص ہے“۔
Comments are closed.