غیرت بیٹی کے نام

 

سحر نصیر (سیالکوٹ)

بدقسمتی سے ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں صرف عزت کی حفاظت کے لیے بیٹی کو یاد کیا جاتا ہے۔اسلام نے جس قدر عزت اور مرتبہ عورت کو دیا ہے۔دنیا میں کسی اور مذہب نے عورت کو اتنی عزت اور اہمیت نہیں دی ہے۔مسلمان ہونے کے باوجود آج بھی ہمارے معاشرے میں بیٹی کو اپنی مرضی سے تعلیم تک حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ سچ ہے کہ بیٹی باپ کی عزت کی محافظ ہے لیکن میں آج کے مسلمان سے سوال کرتی ہوں کہ کیوں باپ کی عزت کی محافظ بیٹی کیوں بیٹا کیوں نہیں؟بیٹے چاہےکسی کی بیٹی کی عزت کو تار تار کر کے گھر تشریف لائیں ان کو سزا کے طور پر چند باتیں سنائی جاتی ہے اور کچھ دنوں کے بعد باپ بھی بھول چکا ہوتا اور ہمارا معاشرہ بھی اس غلطی کو فراموش کر دیتا ہے۔میں پوچھتی ہوں کیوں اتنا فرق کیوں بیٹے اور بیٹی میں۔اگر اس معاشرے میں بیٹے کو بھی وہی سزا دی جائے جو کہ اک بیٹی کو دی جاتی ہے تو یہ معاشرہ جنت کا منظر پیش کرے۔خدارا اس بیٹی کی زندگی کے بارے میں سوچیں جس کے لیے اب زندگی اور موت برابر ہے۔کیونکہ اک عزت دار بیٹی کے لیے اس کی عزت سے قیمتی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

اگر بیٹی کسی مرد کے ساتھ ذار سا ہنسا کر بات کر لے تو باپ بھائی چچا تایا اور ماموں سب کو اپنی عزت مٹی میں ملتی نظر آتی ہے۔پھر ان کا خون کھولتا ہے کہ ہماری عزت خاک میں ملادی۔ اس لڑکی نے ہمیں کسی کو منہ دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیوں اب یاد آیا کہ ہماری عزت بھی ہے اور ہم غیرت مند لوگ ہے یہ عزت اور غیرت تب کہاں تھی جب آپ کے بیٹے نے غلطی نہیں گناہ کیا تھا۔ اسلام میں بیٹی کو رحمت اور بیٹے کو نعمت قرار دیا گیا ہے۔ رحمت اللّٰہ تعالیٰ ان پر کرتے جس سے اللّٰہ راضی ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی سب نعمتوں کا انسان سے حساب لینا ہے۔ہمارے معاشرے میں بیٹی کی تعلیم پر پیسے بہت کم خرچ کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کون سا ہم کو کما کر دینا ہے اس نے اگلے گھر جانا ہے۔ بیٹی کو چاہے پڑھنے کا جتنا بھی شوق ہو اور بیٹے کو زبردستی پڑھایا جاتا ہےبعد میں چاہے بیٹا پوچھے بھی نہ اور پھر وہی بیٹی کام آئے۔انسان خطا کا پتلا ہے جتنی مرضی کوشش کر لے کہ غلطی نہ ہو پھر بھی ہو جاتی ہے۔بیٹے کے گناہ پر خاموشی اور بیٹی کی غلطی پر غیرت اور عزت جیسے لفظ یاد آ جاتے ہیں۔

میرا کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سب لڑکے ہی برے اور سب لڑکیاں اچھی ہوتی ہے۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے اس دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔جب قانون ہے تو بیٹے اور بیٹوں کے لیے برابر ہوں۔ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ہمارے معاشرے میں اگر ہم چاہے اور کوشش کرے تو سب کچھ ممکن ہے۔میں آپ سب کو اللّٰہ کا واسطہ دے کر یہ درخواست کرتی ہوں کہ دوسروں کی بیٹیوں کو بھی بیٹی سمجھے۔ہر عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے ہر بیٹی کو اپنی بیٹی جیسا سمجھے۔جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔اک کہاوت ہے اور سچ ہے آج تم کسی کی بہن بیٹی کو عزت دو گے تو کل کو کوئی تمہاری بہن بیٹی کو عزت دے گا۔ اللّٰہ ہم سب کو اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔اور غیرت کی حق دار بس بیٹیاں ہی نہیں بیٹے بھی ہے۔ اللّٰہ ہر بیٹی کو اپنے باپ کی عزت کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔اور بیٹے کو ہر عورت کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین

Comments are closed.