جہیز جو کبهی سنّت ہوا کرتی تھی
ازقلم؛ ارم ناز (کھنڈہ,صوابی)
جنتی عورتوں کی سردار سیّدہ حضرت فاطمہؓ کی شادی کے موقعے پر حضور ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو ان کے استعمال کے لئے کچھ ضروری چیزیں دی جو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اپنی خوشی اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے محبّت کے اظہار اور ان کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوۓ دی تھی جس میں دوسری طرف یعنی حضرت علی جن سے حضرت فاطمہ کی شادی ہوئی تھی سے کوئی مطالبہ یا کسی قسم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا حضرت فاطمہ کو دی گئی اس ضرورت کے سامان کو عام زبان میں جہیز کہا جاتا ہے اور جہیز کو سنت اس لئے گردانا گیا کیونکہ یہ کام سب سے پہلے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے سر انجام دیا تھا۔جس کا مقصد بیٹی کو دوسرے گھر میں نئی زندگی شروع کرنے میں آسانی فراہم کرنا تھا اور خاص طور پر امّت کو اس بات کا درس دینا تھا کہ بیٹی کو باپ کے گھر سے باپ کی استطاعت کے مطابق اس کا شرعی حصّہ ملنا چاہیئے تاکہ بعد میں بیٹی کے حق کو ضبط نا کیا جا سکے اور وہ اپنی زندگی اچھے سے گزار سکے۔
یہ رسم وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی حیثیت کے مطابق بڑھتی چلی گئی یعنی جس کی جتنی حیثیت ہوتی وہ اپنی بیٹیوں کو اتنا ہی جہیز دیتے لیکن یہاں اک بات واضح کر دوں کہ بے شک اُس زمانے میں جہیز کی مقدار میں اضافہ ضرور ہوا لیکن اس کا مقصد وہی رہا تھا جو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے متعین کیا تھا۔لوگوں کی سوچ یہی تھی کہ وہ بیٹی کی زندگی سہل کرنے کی خاطر اپنی حیثیت کے مطابق اسے اس کا جائز حق دے رہے ہیں جو کہ ایک لحاظ سے ان کا فرض بھی بنتا تھا نہ کے خاندان والوں کے آگے دکھاواں کرنا اور اپنی دولت کی نمائش کرنا مقصد تھا اُن کا۔
وقت گزرتا گیا زمانے بدلتے رہے اور سوچیں وسیع ہونے کے بجائے تنگ ہوتی گٸ اور وہ وقت آیا جب سنّت کہی بہت پیچھے رہ گئی تھی دکھاویں اور نمائش میدان میں آگئے بیٹیاں رحمت سے زحمت بنتی گئی اور قوم تباہی کی طرف بڑھتی چلی گئی، وہ رسم جو امّت کی بھلائی اور آسانی کی خاطر عمل میں لائی گئی تھی وہ قوم کی پست سوچ گھٹیا ذہنیت اور ہوس زدہ فطرت کی وجہ سے معاشرے میں ایک لعنت کی حیثیت اختیار کر گئی۔
جہیز جو کسی بیٹی کو اس کے باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کو دیے جانے والے سامان کو کہا جاتا تھا جس کا تعارف یہی تھا کہ یہ وہ سامان ہے جو ایک بیٹی کے باپ نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیٹی سے محبّت کا اظہار کرنے اور اس کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے دیا ہے آج اس کا تعارف ہی بدل کر رہ گیا ہے آج امیروں کے لئے جہیز نمائش اور غریبوں کے لئے آزمائش ہے جب کہ بعض حضرات اسے لعنت سے تشبیہہ دیتے ہوے نظر آتے ہیں۔شائد نہیں یقیناً میں خود کو جہیز کا تعارف کرتے ہوئے شش و پنج کا شکار محسوس کررہی ہوں کیونکہ آج کے دور میں جہیز کا اصل تعارف الفاظ میں بیاں کرنا ناممکن ہے لیکن اگر آپ جہیز کا اصل تعارف جاننا چاہے تو ایک بار اس بے بس اور لاچار باپ کی آنکھوں میں جھانک کر ضرور دیکھئے گا کہ جس کی ساری زندگی کی جمع پُونجی بھی جاتی ہے اور ساتھ میں نازوں پھلی بیٹی بھی۔اس وقت آپ کو سمجھ آئے گا کہ آج کل کے دور میں اگر کوئی جہیز کو لعنت کہتا ہے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے۔
ہمیشہ سننے میں آتا ہے کہ پرانے وقتوں کی شادياں بہت بارونق اور رشتے بہت پکے ہوا کرتے تھے کبهی سوچا ہے کہ ایسا کیوں تھا؟؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ پرانے وقتوں میں بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں ایک سنّت کی تکمیل سمجھ کر اور رشتوں کو مضبوط بندھن میں باندنے کے لئے کی جاتی تھی۔اس وقت کے لوگوں کے ازہان مادیعت پرستی، لالچ، دکھاويں و نمائش اور حوس سے پاک تھے۔دو خاندان مل جل کر بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی کی رسم کو پایا تکمیل تک پہنچاتے تھے۔ان وقتوں میں بیٹی کی شادی والدین کے لئے ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔ہنسی اور قہقہوں کی گونج سے اس گھر کی پہچان ہوتی تھی کہ ہاں یہی ہے وہ گھر جہاں سے بیٹی کی ڈھولی اٹھنے والی ہے۔لوگ دور دور سے اس گھر کی خوشیوں کو دوبالا کرنے آتے تھے گیت اور سنگیت کی محفلیں سجائی جاتی تھی۔والدین اپنی حیثیت کے مطابق بڑے ارمانوں سے اپنی بیٹی کے لئے بھری کا جو بھی سامان تیار کرتے وہ لوگوں کے لئے قابل رشک ہوا کرتا تھا کیونکہ لوگ ان چیزوں کی قیمت اور مقدار نہیں بلکہ اس میں شامل والدین کی وہ محبّتيں دیکھتے جن سے اس سامان کی تکمیل ہوا کرتی تھی۔لوگ اس سامان کو دنیا کے خوبصورت ترین سامان میں شمار کرتے تھے جو والدین بہت محبّت، خلوص اور ارمانوں سے بنائے ہوئے ہوتے تھے۔لوگوں کی خلوص کے ساتھ کی گئی تعریف اُن بوڑھے ماں باپ کی خوشیاں دو چند کر دیا کرتی تھی۔تب صرف رشتوں کی اہمیت تھی مادیعت پرستی کا دور دور تک کوئی نام و نشاں تک نہ تھا۔تب لڑکے والوں کو اپنے بیٹے کی خاطر دوسرے گھر سے اُن کی بیٹی چاہیے ہوتی تھی وہ بھی عزت و مان سمیت ناکہ سامان سے بھرے پڑے ٹرک۔
لیکن وقت گزرتے ساتھ رشتوں میں موجود کشش، اپنائیت اور خلوص ختم ہونے لگے لوگ چیزوں کو پوجنے لگے اور وہ وقت آپنچا کہ اب بیٹیوں کی شادیاں خوشیوں کا زریعہ نہیں بلکہ زندگی کا سب سے بڑا بوجھ بن کر رہ گٸ۔اب والدین بیٹیوں کی پیدائش پر اُن کی تعلیم و تربیت کا سوچ کر پریشان نہیں ہوتے بلکہ اُن کی شادی اور جہیز کے اخراجات کا سوچ کر پریشان ہوتے ہیں۔
جہیز ہمارے معاشرے میں اب ایک لعنت کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور لوگ یعنی لڑکے والے اس لعنت کو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں لینا پسند کرتے ہیں اور لے کر فخر بھی کرتے ہیں کہ دیکھو ہماری بہو کیا کیا اور کتنننننا کچھ جہیز میں لے کر آئی ہے اپنے ساتھ-
یہ حوس کے پجاری لوگ اپنی حوس میں مست یہ تک نہیں سوچتے کہ ان کی اس حوس نے ایک غریب باپ سے اس کی بیٹی سمیت اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی کھا کر انہیں قرضوں میں ایسا ڈبو چکے ہیں کہ اب وہ اپنی ساری زندگی ان قرضوں کو واپس لوٹاتے لوٹاتے ختم ہو کر رہ جائے گا۔
آج کل کی بیمار ذہنیتوں نے جہیز کو ایک لڑکی کی خوشی اور سکون بھری زندگی سے منسلک کر دیا ہے یعنی وہ جتنا زیادہ جہیز لے کر آئے گی وہ اتنی زیادہ خوش اور سسرالیوں کی لاڈلی رہے گی اور اگر جہیز کم لے کر آئی تو وہ ساری زندگی سسرال والوں کے لعن طعن کا نشانہ بنی رہے گی اور عزت ہک ہا!! وہ تو اس بچاری کی ہونی ہے ہی نہیں ناں۔
ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد نا جانے کتنی ہی ایسی بیٹياں ہوں گی جو جوانی کی دہلیز پار کر کے اب بڑھاپے کی چوکھٹ پر دستک دینے لگی ہے لیکن ان کی شادیاں نہیں ہو رہی کیوں؟؟ کیونکہ ان کے والدین کے پاس ان کی شادیاں کروانے کا سرٹیفکیٹ یعنی جہیز نہیں ہے۔کتنے ہی ایسے باپ اور بھائی ہے جن کے کندھوں پر تین تین چار چار بہنوں، بیٹیوں کی شادیوں کی ذمّہ داری ہوتی ہے لیکن چونکہ وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو جہیز دے کر ان کی شادیاں کرا سکے اور لاکھ کوشیشوں کے باوجود بھی جب وہ آج کل کے سسرالیوں کے مطالبات پورے نہیں کر پاتے تو خود کشی جیسے حرام فعل کو سر انجام دے کر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو گھر کی دہلیز پر بوڑھا ہونے اور ساری زندگی سسکنے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔
آخر کیوں بیٹوں والے اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ وہ بیٹیوں والوں سے جینے کا حق تک چھین لیتے ہیں۔کیا لڑکے والے ہو کر آپ جو چاہوگے اور جس طرح چاہوگے مطالبات کر سکتے ہیں لڑکی والوں سے؟؟لڑکا پیدا کر کے آپ آخر ایسا کون سا احسان کرتے ہیں جس کا بدلہ آپ ہمارے معاشرے کی بے گناہ بیٹیوں سے لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جہیز کی اس روز بروز بڑھتے ہوئے مطالبات کی وجہ سے بیٹی جو اللّه تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے کو آج کا معاشرہ صرف اس جہیز کی وجہ سے زحمت اور بوجھ جیسے القابات سے نواز رہا ہے۔بیٹیوں کی پیدائش پر جس طرح زمانہ جاہلیت میں انہیں منحوس قرار دے کر زندہ دفنایا جاتا تھا آج بھی بہت سی ایسی جگیں ہیں جہاں بیٹیوں کو مار دیا جاتا ہے لیکن وجہ وہ نہیں جو پہلے تھی بلکہ وجہ آج کل کا پھیلا جہیز کا ناسور ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔آج کل کے دور میں بیٹیوں کے قتل اور لڑکیوں کی خود کشیوں کی ایک بڑی وجہ جہیز ہی ہے جس کے نا ہونے یا جس کی استطاعت نا ہونے پر بیٹیاں موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے یا پھر اتار دی جاتی ہیں۔
قائرین حضرات یہاں پر میں یہ بات واضح کر دوں کہ میں سنّت والی جہیز کی ہر گز خلاف نہیں ہوں۔کیونکہ جہیز میرے خیال میں ایک بیٹی کا جائز حق ہے اور جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اپنی بیٹی کو اپنی استطاعت کے مطابق دیا تھا تو سب کو دینا چاہیے اپنی خوشی اور اپنی استطاعت کے مطابق اس میں اعتراض اور مخالفت کا کوئی پہلو نکلتا ہی نہیں لیکن اگر اصول یہی ہو کہ اپنی استطاعت کہ مطابق دیا جائے اور قبول کیا جائے تو!!!
لیکن ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بد نصیبی ہی یہی ہے کہ یہاں لوگوں نے سنّت کو سنّت سمجھ کر نبھایا ہی نہیں۔ہمارے یہاں ہر کوئی اپنی استطاعت سے بڑھ کر کہی اپنی خواہش پر تو کہی پے سسرالیوں کے مطالبات پر بیٹی کا جہیز بنا رہے ہوتے ہیں یا تو کسی سے قرض لے کر یا پھر کو ئی ایسا کام کر کے جو انہیں کرنا نہیں چاہیے لیکن وہ اپنی جھوٹی شہرت اور واہ واہ کی خاطر وہ غلط کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر آپ خود سوچیے ایسے میں لوگوں کے بے جا مطالبات تو روز بروز بڑھے گے ہی۔اور یہی سب چیزیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا زریعہ بنتے ہیں۔
جب بیٹیوں کو بیاہنے کے لئے غلط کاموں میں ملوث ہو گے،اس کا جہیز حرام کے پیسوں سے بنوائے گے تو نہ تو وہ خوش رہ پائے گی، نہ آپ سکون سے جی سکو گے اور نہ ہی دوسرے لوگ خوش اور پر سکون رہ سکے گے کیونکہ کہتے ہیں نہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔تو اگر ایک شخص بیٹی کی شادی کرانے کے لئے غلط راستوں کا انتخاب کرے گا تو باقی بھی انہی راستوں کو چنے گے اور نتیجہ بربادی کے سوا میرا نہیں خیال کہ کسی اور صورت میں نکل سکے گا۔اور اس بات کی تو تاریخ گواہ ہے کہ تباہ ہوئے معاشرے اور برباد ہوئی قوميں واپس کبهی آباد نہیں ہوا کرتی۔
یہ سب پتہ ہے کیوں ہوتا ہے؟؟جب قوم نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے بتاے ہوئے طریقے بھلا کر سنّت کا مذاق بناتے ہیں، سنّت کو اپنی مرضی سے تبدیل کرنے کی من مانی کرتے ہیں تو بربادی ہی قوموں کا مقدر بنتی ہے اور بربادی بھی ایسی کے جس کا شکار اس دنیا میں تو بننا ہی بننا ہے آخرت میں بھی ایسے لوگوں کے لئے عبرتناک سزا کا وعدہ ہے۔
میں اپنے تمام قائرین حضرات سے بس یہی کہوں گی کہ خدارا اپنی ذہنیت بدل کر مادہ پرستی سے نکل آئے ورنہ آپ کی یہی روش روز بروز آپ کے کندھوں کا بوجھ بڑھا رہی ہے اور آپ ہر گزرتے لمحے میں خود کو تباہی کے دھانے پر لے کر جا رہے ہیں۔بیٹیوں کے غم میں گلتے ماں باپ، روتی سسکتی بیٹیوں کی آہیں اور آنسو، اور خود کشیاں کرتے جواں مرد بھائیوں کے جنازے، ان سب کا بوجھ آپ ہی کے کندھوں پر جمع ہوتا جا رہا ہے اور روز محشر آپ ہی سے ان کا حساب لیا جائے گا، آپ ہی سے ان سب مظالم کی جواب طلبی ہو گی اور یقیناً سزا بھی بہت عبرتناک تجویز کی جائے گی۔
تو خدارا سنبھل جائے اور ختم کر دیں اس حوس کو جو آپ کے دونوں جہانوں کے سکون اور خوشیوں کو ملیامیٹ کر رہی ہے۔آسان بنا دیں اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو اور حق دے اپنے معاشرے میں بستے اُن غریب اور بے بس لوگوں کو جو آپ کی اس حوس زدہ فطرت کے ہاتھوں گھٹن زدہ زندگی جینے پر مجبور ہیں۔آزاد کر دیں اُن لوگوں کو جو آپ کے مطالبات کی بے رحم بیڑیوں میں جھکڑے ہوئے ہیں, سنا دیں انہیں آزادی کی نوید اور دے دیں ان والدين اور بیٹیوں کو جینے کا حق جو کہ جینا چاہتے ہیں۔یقین جانے آپ کا یہ عمل دوسروں کو تو خوشی دے گا ہی دے گا خود آپ کو بھی بہت سکون اور راحت ملے گی اس عمل سے۔کیونکہ کسی کے لئے کچھ کر دینے کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے اور پھر اس احسان کا تو جواب ہی نہیں ہوتا جو آپ اس دنیا میں کسی کے بھلے کے لئے کر رہے ہو اور اس کے ساتھ خود آپ کی اپنی اس فانی زندگی کے ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ رہنے والی والی ابدی زندگی بھی خوبصورت ہو رہی ہوتی ہے۔پس ختم کریں ان خواہشات کو جن کا انجام بربادی اور ذلت کے سواں اور کچھ بھی نہیں۔
یہ سب ہم اور آپ نے مل کر کرنا ہے کسی اور نے آکر ہمارے معاشرے کا قبلہ درست نہیں کرنا یہ ہم ہی ہیں جن کی یہ ذمّیداری بنتی ہے کہ وہ آگے آکر معاشرے کے سدھار کی خاطر اٹھ کھڑے ہو کیونکہ یہ کام صرف حکومت اور حکمرانوں کا نہیں۔جب تک معاشرے کا ہر اک فرد اس لعنت کو روکھنے کی کوشش نہیں کرے گا یہ لعنت ایسے ہی روز بروز ہم سب کے گلے کا پندہ بنتی چلی جائے گی۔
سننے میں آیا ہے کہ حکومت نے جہیز لینے پر پابندی لگا دی ہے اور جو اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کو قید اور جرمانہ ہوگا۔یہ بہت اچھی اور قابل تعریف بات ہے کہ ہماری حکومت اس ضمن میں کچھ نا کچھ کر رہی ہے لیکن پھر وہی بات کہ صرف حکومت کی پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک کہ ہم خود اس کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے حکومت کا کوئی بھی اقدام کارگر ثابت نہیں ہو گا کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے کام ہو رہے ہیں جس پر حکومت نے پابندی لگائی ہوئی ہے جو قانوناً جرم ہے اور ہمارا مذہب اِسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن وہ کام ہو رہے ہیں ایک تسلسل کے ساتھ کیونکہ عوام اِسے کرنا چاہتی ہے اور کر رہی ہیں۔
تو یہاں میں اتنا کہنا چاہوں گی کہ اکیلی حکومت کچھ نہیں کر سکتی جب تک کہ ہم عوام اپنی حکومت کا ساتھ دے کر اس لعنت کے خلاف آواز نہیں اٹھائے گے تب تک ہمارے ملک کی بہنوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کو جہیز کا دیمک ایسے ہی کھوکلا کرنے میں سرگرم عمل رہے گی۔
تو خدارا اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اس کی روک تھام کے لئے کام کرے۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی آخر میں یہی عرض کروں گی کہ خدارا اپنی زندگیوں کے ہر معاملے میں اسلام کو شامل کرے اور اسلام کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرکے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو آسان بنانے کی کوشش کریں کیونکہ اسلام ہی ہماری بہتر طور پر رہنمائی کر سکتا ہے۔
والسلام!!
Comments are closed.