بے راہ روی اور ہماری نوجوان نسل”
ناصرہ نواز (سرگودھا)
ایک مہذب معاشرے کی تکمیل تب ہی ممکن ہے جب اس کے نوجوان سلجھے ہوے ہوں۔ہماری آبادی میں نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔علامہ ایم اقبال نو جوانوں کو اپنی امیدوں کا مرکز بنایا تھا۔ان کے مطابق وہی قوم ترقی کر سکتی ہے جن کے نوجوان خودی سے بھرپور ہوں۔ہمارے نوجوان مغرب کی چمک دمک کو اپنا رہے ہیں۔ والدین بچوں کو پڑھاتے ہیں تا کہ وہ مہذب شہری بن سکیں اور اپنا آنے والا کل بہتر بنا سکیں۔بہت افسوس کے ساتھ جب ہماری نوجوان نسل کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے دور دراز کے علاقوں سے آۓ ہوتے ہیں والدین جیسے تیسے کر کے ان کی ضروریات پوری کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ پڑھ لکھ کر اپنامستقبل سنوارے گا۔ان کی بوڑھی آنکھوں میں آس کے دیے ہوتے ہیں۔ہماری نوجوان نسل کو ٹی وی،انٹرنیٹ اور دیگر میڈیا کے بڑھتے رجحان نے خراب کر رکھا ہے۔یہ واہیات فلمیں ڈرامے دیکھ کر خود کو ہیرو سمجھنے لگنے لگے ہیں تو سراسر دھوکے میں ہیں ان حرکتوں سے صرف اپنا مقام کو گرا رہے ہیں نکل آئیں ان چکروں سے یہ جو چیزیں آپ لوگوں کو اٹریکٹ کر رہی ہیں یہی کل بے وقوفانہ باتیں لگیں گی لیکن اس وقت پچھتاوے کے سوا آپ کے پاس کچھ نہیں ہو گا کیوں کہ وقت بار بار پلٹ کر نہیں آتا وقت کو کسی نے مہربان ہونا نہیں سکھایا۔میرے دیس کے نوجوانو آپ ہمارا سرمایہ ہیں۔ہمارا مستقبل آپ ہیں۔آپ لوگ عام نہیں ہیں آپ اسلام کے بیٹے ہیں۔اسلام کے بیٹے بنیں خود منفرد بنیں دنیا کو بتا دیں کہ آپ سچ میں منفرد شخصیت کے مالک ہیں ۔مغرب تو پہلے ہی سے تیار بیٹھا ہےکہ مسلم ممالک کو گرانے میں وہ تو پہلے ہی چاھتے ہیں کہ اسلام کا نام و نشان مٹ جاۓ۔وہ ہماری نوجوان نسل کو اپنے رنگ میں رنگ کر ہماری اقدار اور ہمارے دین سے ہمیں دور کرنا چاھتے ہیں۔ ہم بلکل اندھے اور بہرے ہو چکے ہیں ہمیں اچھائی اور برائی کی تمیز بھول چکی ہے ہم اخلاقی قدروں سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔اسلام نے زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور ہمیں زندگی گزارنے کے خوب صورت طریقے بتاۓ ہیں۔ہمارا دین بہت خوب صورت اور آسان ہے کبھی اس دین پہ چل کے تو دیکھیں آپ کے دین و دنیا سنوار جاۓ گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے ملک کو اپنی رحمت میں رکھے اور ہمارے مستقبل کے معمارو کو سمجھنے کی توفیق دے آمین۔
Comments are closed.