چادر چھوٹی ہو گٸی
ام احمد( سرگودھا )
جی نہیں میری چادر الحمداللہ پوری ہے یہ تو آج کے دور میں انسان کی بڑھتی ہوٸی ضروریات اور کم ہوتے وساٸل کی وجہ سے آج ایک سوچ زہن میں آٸی کہ ہمارے بزرگ ایک محاورہ بولتے تھے کہ ”چادر دیکھ کر پاٶں پھیلاٶ“ تو میں نے سوچا کہ ایک متوسط طبقے کے انسان کو ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کیلیے پرانے دور کے انسان سے کٸی گنا زیادہ محنت کیوں کرنی پڑ رہی ہے حالانکہ اس دور میں حکومتی حکمتِ عملیوں کے باعث ایک خاندان میں بچوں کی تعداد بھی پہلے سے آدھی یا اس سے بھی کم رہ گٸی ہے۔ تو پھر اسکی کیا وجہ ہے کہ ایک گھر کو چلانے کیلیے جہاں پہلے ایک فرد کافی ہوتا تھا اب تمام افراد مل کر بھی مرتب نہیں کر پا رہے۔تو کیا اس کی وجہ صرف حکومتوں کی غافلی،نا اہلی یا خودغرضی ہے یا اس میں ہم خود بھی قصور وار ہیں۔میرے والدصاحب
(مرحوم ) نے مجھے ایک واقعہ سنایا تھا کہ میں بس میں شہر سے گاٶں کا سفر کر رہا تھا تو شہر سے گاٶں کی ایک بوڑھی عورت ایک من (40کلو) گندم کی بوری لیے بس میں سوار ہوٸی باتوں باتوں میں مہنگاٸی کا ذکر ہوا تو سب کہنے لگے کہ واقعی بہت مہنگاٸی ہو گٸی ہے۔ بوڑھی عورت بولی کہ بیٹا مجھے تو مہنگاٸی نہیں لگی سب بہت حیران ہوٸے کہ کیسے اماں جی ؟کچھ تو سمجھے کہ بوڑھی ہے دماغ زیادہ کام نہیں کرتا لیکن اس عورت نے جواب دیا کہ میں تے اج تو ویہہ ورہے پہلے وی اک کلو دیسی گِھیو دے کے اک من کنک لٸی سی تے اج وی انج ای لے کے آرہی آں ہن تسی دسو مہنگاٸی کنوے ہوٸی؟(میں نے تو آج سے بیس سال پہلے بھی ایک کلو دیسی گھی دےکر ایک من گندم لی تھی اور آج بھی ایسے ہی لے کے آرہی ہوں تو مہنگاٸی کیسے ہوٸی اب آپ بتاٸیں ؟)اس کی بات میں حقیقت تھی جس سے سب لاجواب ہو گٸے کیونکہ اگر لین دین کا پرانا نظام دیکھا جاٸے تو ہر چیز کی قیمت اسی تناسب سے بڑھی جس طرح روپے کی مالیت کم ہوتی گٸی۔پہلے اگر دو سے پانچ روپے میں مہینے کا راشن آتا تو اس کی تنخواہ بھی دس روپے سے کم ہی ہوتی تھی تو بات کا مقصد یہ تھا کہ ہم نے اپنی زندگیوں کو خود اپنے لیے مشکل بنا لیا ایک چیز کو خود
پہ حاوی کرتے گٸے جو ہے تکنیکی وساٸل اور ساتھ ہی دوسری چیز کو زندگی سے نکالتے گٸے جو ہے” اعتدال “۔
اگر بحیثیت مسلمان ہم اسلام اور سنت کی پیروی کرتے
تو وہ ہمیں سادگی اور اعتدال پسندی کا درس دیتے۔قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ” وَاقصِد فِی مشیک “ سورت لقمان 19:31”اور اپنی چال میں اعتدال پیدا کیے رکھنا “ اسلام تو عبادت کے معاملے میں بھی اعتدال کا حکم دیتا ہےلیکن ہم باقی تمام احکام کی طرح جان کر بھی انجان بنے ہوٸے ہیں۔ اگر ہم زندگی کے ہر معاملے میں مزکورہ آیت کے مطابق چلیں تو ہمیں بہت سے ایسے مساٸل کا سامنا ہی نا کرنا پڑے جن سے ہم دن رات نبرد آزما رہتے ہیں۔مثال کے طور پر سب سے پہلے زندگی کی بنیادی ضرورت خوراک کی طرف آتے ہیں جس میں اسلام کے مطابق آدھی بھوک رہتے ہوٸےکھانا چھوڑنے کا حکم ہے۔ اس حکم میں دو طرح کا اعتدال ہے ایک تو کھانے کا ضیاع نہیں ہوگا دوسرا ہماری صحت کے لیے کم کھانا مفید ہے لیکن ہم کیا کرتے ہیں کہ نہیں جی آۓ دن گوشت کے ساتھ سبزی کا تو مزہ ہی الگ ہے خوب کھانے کے بعد سنت یاد آتی ہے کہ میٹھا کہاں ہے سنت پوری کریں اب پھر سردی میں چاٸے کافی اور گرمی میں سوڈا کی بوتل لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ایک وقت کے کھانے کے لیے پانچ پانچ کلو گوشت اور سبزیاں بناتے ہیں اور اپنی سخاوت اور کھلے دل کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔یہی اگر پہلے کے دور کی بات کریں تو پندرہ سے بیس افرادِ خانہ کے لیے مشکل سے کلو گوشت بنتا تو سب ہنسی خوشی کھانا کھا لیتے بلکہ بچے ہوٸے شوربے سے ناشتے کا وقت بھی گزر جاتا تھا کھانے کے بعد میٹھے کے طور پہ گڑ کی ڈلی توڑ کر ایک ایک ٹکڑا سب کھا لیتے جو نظام انہضام میں مدد بھی دیتا ہے۔ایک کمانے والا چھ سات بیٹیوں کو باعزت رخصت کر لیتا کیونکہ جہیز میں آج کل والی خرافات ناپید تھیں۔ حسد اور ایک دوسرے سے اآگے بڑھنے کی کوشش میں ہم اتنا خرچ کر جاتے ہیں کہ اپنی جیب تو خالی سودی اداروں اور بینکوں سے قرض تک لینا شروع کر دیتے ہیں یہ تک دیکھ نہیں پاتے کہ یہ ہماری ضرورت سے بڑھ کر اسراف میں آجاتا ہے اور پھر اسی طرح اپنی دنیاوی خواہشوں کے پیچھے پیچھے ہم اپنی زندگی کو آساٸشات سے تو بھر لیتے ہیں لیکن اس تگ و دو میں ہم زندگی کا سکون ختم کر بیٹھےہیں اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی دیکھیں کوٸی انسان مطمٸن اور پرسکون نہیں ہے کیونکہ کسی کو بچے مہنگے سکول میں اس لیے داخل کروانے ہیں کہ اپنے خاندان والوں میں ناک اونچی ہو جاٸے اور کسی کو بیٹی کا جہیز پورے خاندان سے بڑھ کر اچھا اور زیادہ دینا ہے۔گھر میں اعلی سے اعلی برانڈ کی مصنوعات،لباس، جوتے اور دیگر اشیا لانی ہیں تا کہ لوگوں میں ہماری عزت اور واہ واہ ہو جاٸے۔قرآن پاک میں سورة الفرقان کی آیت نمبر 67 میں ہے کہ”اور جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ بیجا اڑاتے ہیں نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم “اگر ہم بھی اپنی زندگی انہی سنہری اصولوں پہ گزارنا شروع کر دیں تو ہماری چادر کبھی چھوٹی نا پڑے۔ہم نے اپنے اوپر خود ہی اتنا بوجھ لاد لیا ہے کہ چلنا مشکل ہوگیا ہے آج اگر شوہر کما رہا ہے تو لوگ کہتے ہیں ایک کے کمانے سے تو چولہا ہی پورا نہیں ہوتا بیوی تعلیم یافتہ اس لیے نہیں لاتے کہ بچوں کی تربیت اچھی کرے اس لیے لاتے ہیں کہ ملازمت کر کے شوہر کا ہاتھ بٹاٸے ۔بیوی بھی میدان میں نکل آٸی تو پیچھے کس کا نقصان ہوا صرف بچوں کا۔ لیکن وہ کوٸی نہیں دیکھتا یہ کہہ کر کہ خیر ہے بن ماٶں کے بھی تو پل جاتے ہیں انکی تو رات کو آجاتی ہے خیر سے اور اسی میں زندگی گزر جاتی ہے۔ زیادہ پیسہ کمانے کی وجہ ہماری بڑھتی ہوٸی ضروریات ہیں۔ گھروں کی بجاۓ ہوٹلوں میں کھانے اور دیگر غیر نباتاتی خوراک کے عادی بن گٸے ہیں ہم ہمارے گھروں میں ضرورت ہو یا نہ ہو بس دنیا کی ہر چیز دکھاوے اور تسکین کیلۓ ہونی چاہیے۔ہمارے بچوں کے ہاتھ میں آٸی فون ،ٹیب نہ ہو تو ہم احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔انٹر نیٹ کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے۔لیکن کبھی ہم نے اسلام کے اصولوں پر عمل کر کے خود کیلیے سکون کا سامان نہیں کیا ہمیں چاہیے کہ ہم اعتدال اور میانہ روی کی راہ اپنانے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک پرسکون اور مطمٸن زندگی گزارسکیں اللہ ﷻ ہم سب کیلۓ آسانیاں پیدا کرے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق دے آمین
Comments are closed.