کیا یہی مسلمانی ہے
بقلم : طوبٰی بنت طیب
جوں ہی میں ہال میں پہنچی تو وہاں آنے والے لوگوں کا تانتا بندھ گیا. تھوڑی ہی دیر میں ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھر گیا. لوگوں نے اس سکول کی "سالانہ تقسیم انعامات” کی تقریب میں بھرپور شرکت کی. چند ہی لمحوں میں پروگرام کا آغاز ہوا تو حسبِ معمول تلاوت کلام پاک سے ہوا. اسی طرح آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی. کسی سکول میں بطور ٹیچر میں پہلی بار سالانہ پروگرام میں شرکت کر رہی تھی، اس لئے جیسے ہی گھر پہنچی تو ایک ہی سوال سب کی زبان پر تھا:
"کیسا رہا پروگرام؟”
کیسا رہا پروگرام؟؟؟
اس سوال کا کیا جواب دیتی،؟ میرے اندر تو ایک خلا تھا، ایک افسوس تھا اور اک غم تھا! ہاں دکھ تو یہ تھا کہ آج ہم مسلمان کہلوانے کے قابل ہیں؟ ہم کلمہ گو کس سمت چل پڑے ؟؟ کیوں کہ کام تو ہمارے وہی ہیں جو کفارِ مکہ کے تھے. جس مقصد کو لے کر *آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلٰہ وسلم* مبعوث کیے گئے. وہ جہالت تو آج بھی ہنوز ہمارے درمیان، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی موجود ہے!! ہمارے ان پروگراموں میں، سکولوں کی تقریبات ہوں، شادی کی تقریبات یا بچے کی پیدائش، الغرض کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے خوشی کے موقع پر بھی ہم گانے بجانے سے باز نہیں آتے. جو کہ حرام ہے مکمل حرام!! حرام سمجھتے ہیں آپ؟ چلیں میں بتاتی ہوں! جیسے اسلام میں زنا حرام ہے جیسے مسلمانوں پر سُور حرام اور شراب حرام ہے ویسے ہی ہم پر گانا بجانا، سننا اور لوگوں تک اس کی رسائی آسان بنانا سب حرام ہے. ہم سمجھتے کیوں نہیں کیا آپ کے نزدیک حلال اور حرام برابر ہیں؟ یقیناً حلال اور حرام کبھی برابر نہیں ہو سکتے!! وہ بچیاں جنہیں اسلام کی چار دیواری کی ملکہ کہا جاتا ہے. آج انہیں مغرب پرستی میں مختلف اپیس، محفلوں اور تقریبات میں ناچتے گاتے دیکھ کر دل غم و رنج سے بھر جاتا ہے. ہم نے تو خود اپنے بچوں کا لباس کافرانہ بنا ڈالا. پردہ جو مومنات کی صفت تھا،ہم نے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اُتار پھینکا صد افسوس!! دنیاوی مال و متاع کے دلدادہ بن بیٹھے، اور کیبل اور نیٹ کے غیر معیاری مواد گھر گھر پہنچا دیا. بقول اقبال:-
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود!
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود!!
ہم نام نہاد مسلمان اپنی تقریب کا آغاز تو رسماً تلاوت کلام پاک سے ہی کرتے ہیں. اور صرف کلامِ پاک سے ہی ابتداء کر لینا ہی اپنی مسلمانی کی علامت سمجھتے ہیں. لیکن افسوس! کہ جس کلامِ پاک سے تقریب کی ابتداء ہوتی ہے. اسی تقریب میں اس کلامِ پاک کی تعلیمات سے انحراف بھی کیا جاتا ہے. کیا یہی مسلمانی ہے ؟؟؟ قرآن مجید تو عمل کی کتاب ہے لیکن ہم نے اسے پانچ منٹ کے لیے سر جھکا کر سن لینے پر ہی اکتفاء کیا ؟ مسلمانو!
کیا قرآن کی یہی قدر رہ گئی ہے کہ میجک شو دکھانے والا اپنے شیطانی کھیل کی ابتداء قرآن مجید سے کرے ؟ کیا یہ قرآن کی سر عام توہین نہیں؟ ہم نے قرآن کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر مغربی تہذیب کو گلے لگا لیا، رب کا کلام سننے کی بجائے، موسیقی اور گانے کے رسیا بن گئے. یہی وجہ ہے کہ آج کافر شیر ہو گئے۔ کبھی توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں تو کبھی توہینِ قرآن ! آج قرآن کو ہم اس حال میں سنتے ہیں کہ دماغ کہیں اور ہوتا ہے. تو دل کہیں اور! لیکن جوں ہی تال و سُر کی آواز کان میں پڑتی ہے تو جسم پر سکون طاری ہو جاتا ہے نعوذ بالله!! کیا ہم اس آیت کے مصدق نہیں بن سکتے ؟
ترجمہ:- "مومن وہی ہیں کہ جب الله تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں.اور جب ان پر اس کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ کر دیتی ہیں. اور وہ اپنے رب پر توکل رکھنے والے ہیں *(الانفال2)*
سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ جناب *رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وآلٰہ وسلم* نے فرمایا کہ :- جو شخص کسی گلوکار کی مجلس میں بیٹھتا ہے. اور اس کا گانا سنتا ہے، قیامت کے دن اُس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا *(الصیححتہ للالبانی)*
ایک اور حدیث میں گانا سننے کے بارے میں یوں بیان ہوا. سیدنا سہل بن سعد ساعدہ رضی الله سے روایت ہے کہ جناب *رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* نے فرمایا:-
میری امت کے کچھ لوگوں کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا، ان پر سنگ باری اور بعض کی صورتیں مسخ کر دی جائیں گی. صحابہ نے عرض کیا *یا رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وآلٰہ وسلم* ایسا کب ہو گا فرمایا:- جب ساز باجے گلوکارآئیں عام ہو جائیں گی اور شراب حلال کر لی جائے گی *استغفر الله* آج وہی دور ہے جس کے بیچ ہم رہ رہے ہیں
امام شعبی جو ایک عالی مرتبہ امام اور پانچ سو صحابہ کے شاگرد تھے، اُن کا کہنا ہے ” گلوکار پر بھی الله کی لعنت ہے اور اس پر بھی جس کے لئے گایا جائے”
*(تلبیس ابلیس230)*
ایک اور جگہ امیر المومنین یزید بن الولید بہت پارسا حکمران تھے. اپنے خاندان کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے بنو اُمیہ! راگ سے دور رہ. کیونکہ اس سے شرم و حیا ختم ہو جاتی ہے *(تلبیس ابلیس: 235)*
مزید فرمایا: راگ بدکاری کا منتر ہے
پیارے *نبی صلی الله عليه وآله وسلم* کے فرمان کے مطابق "گلوکار شیطان کے زیرِ اثر ہوتا ہے”
بلکہ یہ لوگ انسانی روپ میں شیطان ہیں۔
صد افسوس! ہم *نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* کی امت ہونے کے باوجود گلوکاروں کو عزت و احترام کے ساتھ سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور الله تعالیٰ کے عذاب کو دعوت ہیں
یہ لمحہء فکریہ ہے سوچیۓ ایک بار کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے ہیں؟
ابھی بھی وقت ہے بچنے کی کوشش کریں. اور دوسروں کو بھی تلقین کریں۔ الله آپ کو ایمان کی تقویت عطا فرمائے *آمین*
Comments are closed.