:سفاک چہرے

از قلم: سحر نصیر
اس دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہ سکتے کہہ اس دنیا میں بس برے لوگ ہیں کیونکہ اس دنیا میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔اگر صرف برے لوگ ہوتے تو کوئی کسی پر اعتماد نہ کرتا۔اور ایسا بھی نہیں کہ اس دنیا میں بس اچھے لوگ ہے کیونکہ اگر ایسا ہو گا تو یہ دنیا جنت بن جائے گی۔اسی لیے اللّٰہ نے اس دنیا میں ہر طرح کے انسان کو بنایا ہے تاکہ ہم اپنے اور پرائے میں فرق کر سکے۔سفاک کا مطلب ہے دوگالا اور سفاک چہرے کا مطلب دوگالا انسان جس کے دو منہ ہوتے ہیں۔جس کو ہم عام زبان میں منافق کہتے ہیں۔منافق انسان باہر سے کچھ اور اندر سے کچھ ہوتاہے۔اس قسم کے انسان جس کے منہ پر ہوتے ہیں اسی کے ہوتے ہیں۔مطلب جس انسان کے سامنے ہو گیں صرف اور صرف اسی کے ہوتے ہیں۔اس لیے ہی تو کہتے ہیں کہ اس دنیا کے لوگوں کو صرف وہ انسان راضی کر سکتا ہے جو منافقت کرنا جانتا ہو۔جو نیک کام کرتا ہو اور سچی بات کرتا ہو اس سے اکثر لوگ ناراض ہی رہتے ہیں۔منافقت کرنے سے بہتر ہے کہ انسان اِس فانی دنیا کے لوگوں کی ناراضگی اور مخالفت کو برداشت کر لے۔منافق انسان کی فطرت کبھی نہیں بدل سکتی۔منافق انسان وقتی طور پر انسانوں کو راضی تو کر لیتا ہے۔لیکن ایسے انسان کی حقیقت ایک نہ ایک دن سامنے آ جاتی ہے۔نبی پاک ﷺ نے منافق انسان کی تین نشانیاں بیان کی ہے۔ منافق انسان کو امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرتاہے۔منافق انسان جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتاہے۔منافق انسان سے وعدہ کیا جائے تو وہ وعدہ خلافی کرتا ہے۔سفاک انسان کے چہرے پر جو مخلصانہ نقاب ہوتا ہے وہ جلدی ہی اتر جاتاہے۔ایسے انسان دوسروں کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔ایسے انسانوں کو دوسروں کی زندگیوں کو بے سکون کر کے ہی سکون ملتاہے۔یہ بظاہر تو انسان ہوتے ہیں مگر ایسے لوگوں کی حرکات ان کو انسان نہیں رہنے دیتی۔
منافق انسان کی فطرت کی وجہ سے نہ جانے کتنے گھروں میں فساد برپا ہوتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ” زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اللّٰہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔نہ آپس میں خون ریزی کرو ور نہ کسی کو اس کے گھر سے نکالو“۔منافق انسان بے شک اللّٰہ کے سب حق پورے کرتا ہو لیکن اللّٰہ تعالیٰ کبھی ایسے انسان سے راضی نہیں ہو سکتے۔کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ خود فرماتے ہے کہ میں اپنے بندے کے حقوق کو تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک وہ انسان خود معاف نہیں کرے گا۔ منافق انسان کا کام ہی دوسروں کو تکلیف دینا اور ان کے حق پر قبضہ کرنا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتے ہیں کہ "اے محمدﷺ! تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو خدا کی عنایت سے تم لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ہو اگر تم کہیں کج خُلق اور سخت دل ہوتے تو لوگ تمہارے پاس سے ہٹ جاتے ۔اللّٰہ تعالیٰ نے بھی لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کا حکم دیا ہے۔لیکن وہ نرمی منافقت نہ ہو۔منافق انسان کی زبان بہت میٹھی ہوتی ہے ایسے لوگ ہر انسان سے بات ایسے طریقے سے کرتے ہیں کہ اگلے انسان کو لگتا ہے کہ یہ میرا سب سے اچھا دوست اور رہنما ہے۔نبی پاکﷺ کا ارشاد ہے کہ” ایسے آدمی سے ملنا بے کار ہے۔جس سے تم خیرخواہی کرو۔اور وہ تمہارا خیر خواہ نہ ہو“۔منافق انسان کبھی کسی کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔وہ کسی بھی انسان کی بھلائی نہیں کر سکتا جب تک اللّٰہ سبحان و تعالیٰ اس کو ہدایت نہ دے۔
حضرت عثمانِ غنیؓ فرماتے ہے کہ” بہتر ہے کہ دنیا تجھ کو گنہگار جانے بہ نسبت اس کے کہ تو خدا تعالیٰ کے نزدیک ریاکار ہو”۔سچے انسان سے سب ناراض رہتے ہیں اور منافق انسان سے سب راضی ہوتے ہیں۔حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ”صدق کے ساتھ سو رہنا اس نماز سے کہیں اچھا ہے جو شک کے ساتھ ادا کی جائے“۔منافق انسان کی عادت ہوتی ہے اس کی فطرت میں شامل ہوتا ہے جھوٹ بولنا منافق انسان سچ لفظ سے ہی کوسوں دور ہوتاہے۔یہاں علامہ محمد اقبال کا شعر لکھنا چاہوں گی
دل ہے مسلمان میرا نہ تیرا
تو بھی نمازی میں بھی نمازی
منافق انسان کی مثال اک پھول کی مانند ہے جس کی جوبصورتی چند دنوں کے لیے ہوتی ہے ایک نہ ایک دن اس پھول نے مرجھا ہی جانا ہے۔منافق انسان کی خوشی بھی کچھ دنوں کی مہمان ہوتی ہے۔ایسے انسان دوسروں کو تکلیف دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں ان کی یہ خوشی چند دنوں کی ہوتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کو تکلیف سے نجات دے دیتا ہے اللّٰہ بڑا رحیم و کریم ہے وہ اپنے بندے کی تکلیف کو زیادہ دیر تک نہیں رہنے دیتا۔اللہّ اپنے بندے سے سترہ ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قول ہے کہ "خبردار! کوئی مسلمان کسی مسلمان کو حقیر نہ سمجھے کیونکہ کم درجے کا مسلمان بھی خدا کے یہاں بسا اوقات بڑا مرتبہ رکھتا ہے”۔ اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک دوسرے کے کام آنے کی ہمت دے۔اور ہم سب کو منافقت جیسی برائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Comments are closed.