کسانوں کا چَکّا جام کامیاب رہا –
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
آج ٦/ فروری ٢٠٢١ کو کسانوں نے چکّا جام کا اعلان کیا تھا، یہ گویا حکومت کو ایک نوٹس کے طور پر تھا کہ کسان ٢٦/ جنوری ٢٠٢١ کی ہلڑبازی اور سرکاری غنڈہ گردی کے باوجود متحدہ محاذ پر قائم ہیں، وہ اپنے مطالبات اور مشن میں کسی قسم کی کمزوری و لاغرپن سے پاک ہیں، ان کا منصوبہ صاف اور مقصود واضح ہے، چنانچہ اس چَکّا جام کو پورے بھارت میں ہر طبقے نے سپورٹ کیا، دلی، اتر اکھنڈ اور اتر پردیش کے علاوہ ہر جگہ اس کا ملا جُلا اثر دیکھنے کو ملا، مذکورہ صوبے اصل میں بی جے پی کی متشددانہ حکومت اور آمریت کی نذر ہوچکے ہیں، شاید اسی بنا پر ان میں کسانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، تب بھی متعدد شاہ راہیں، چوراہے اور سڑکیں بند کی گئیں، بنگلور میں تیس کسانوں کو گرفتار بھی کیا گیا، اس دوران آج ہر طرف ایک ایسا نظارہ بھی تھا جو جمہوریت اور ڈیموکریسی کیلئے خطرناک سمجھا جاسکتا ہے، ملک میں کسانوں کے چکّا جام آندولن کو تقویت پہنچانے کیلئے لوگوں کا جمگھٹا دکھائی دیتا تھا، میٹرو اور سیاحتی جگہیں بند کردی گئی تھیں، تو وہیں عام انسانوں سے زیادہ پولس فوج کو سڑکوں پر اتار دیا گیا تھا، دہلی میں پچاس ہزار پولس تعینات کی گئی تھیں، بہت سے پولس والے عام ڈریس میں تھے، جگہ جگہ بیریکیٹ لگا دئے گئے تھے، ایسا لگتا تھا کہ ملک میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ پولس گری ہے، شاید سرکار بھول گئی ہے کہ ملک میں جب جب آپ اس طرح پولس کا ریلا ٹھونس دیتے ہیں اور عوام کو گھروں میں قید کر کے خاکی گُرگوں کو اتار دیتے ہیں؛ تب آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملک میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ پولس کی حکومت ہے، ایسے میں جان لیجیے! سرکاریں پولس سے نہیں سروکار سے چلتی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں عوام سے کوئی سروکار بچا ہی نہیں ہے، سرکار اور عام آدمی کے درمیان خلیج اتنی بڑھ. گئی ہے کہ دونوں دو ندی کے کنارے معلوم ہوتے ہیں، جو اگرچہ ساتھ چلیں گے مگر ملنا کبھی نہیں ہے، ایسے میں لفاظیوں کے سوا کیا رہ گیا ہے، سرکاریں اپنی مرضی کے مطابق قوانین بناتی ہیں اور اسے عوام کے سروں پر تھوپ دیتی ہیں، اس ملک میں جن طبقوں کو سب سے زیادہ رسوا کیا گیا، ان کا استحصال کیا گیا، ان میں سر فہرست کسان ہی تو آتے ہیں، یہ بات الگ ہے کہ قانونی مسودہ میں ابتداء کے اندر دفعہ ٤٨/ کے تحت سرکاروں کو اس بات کا مکلف بنایا گیا تھا وہ زرعی شعبے بہتر بنائیں گے اور انہیں سر سبز و شاداب کرنے میں پیچھے نہیں رہیں گے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر حکومت نے ان سے صرف ووٹ حاصل کیا ہے، انہیں مفاد کی چَکّی میں پیسا ہے، اور کسانوں کو خودکشی کیلئے تن تنہا چھوڑ دیا، نوبت یہ کردی کہ وہ مجبور گئے کہ کسانی چھوڑ دی جائے، انہیں فکروں نے آگھیرا کہ کیسے فصل اگائی جائے اور اپنی لاگت نکالی جائے، اگر ایک دفعہ کی فصل نکل جاتی ہے تو دوسری مرتبہ کیسے بُوائی کی جائے، وہ اسی کشمکش میں رہے؛ لیکن سرکاریں ان کے ساتھ کھڑی نہ ہوئیں، مدد کے نام پر کچھ پیسے اور اسکیمیں نکالی گئیں جن سے عام کسان تو کبھی واقف بھی نہ ہوسکا، نتیجتاً کسان ہچھڑتا گیا، بھارت اور انڈیا کا فرق بنتا گیا، جب کچھ نہ بن سکا تو اس نے اپنا گھر پالنے اور زمین کا بوجھ اٹھانے کیلئے کسانی ہی چھور دی، مگر جو یہ بھی نہ کرسکا اس نے پھانسی لے لی، زندگی موت کے حوالے کر کے ہندوستانی نظام اور سسٹم پر داغ لگا دیا، یہ حیران کن بات ہے؛ مگر سچ ہے کہ اس ملک میں کسانوں نے جتنی خود کشی کی ہےاتنی کسی اور طبقہ نے نہیں کی ہے، گویا کسانی لعنت اور بد دعا بن گئی ہے.
ذرا غور کیجیے! ایک طرف دنیا جہاں اکیسویں صدی میں قدم رکھ رہی تھی اور وہ چاند پر پیر رکھنے کے ساتھ تمام شعبوں کو ہائی ٹیک کرنے کے خواب بن رہی تھی، ساتھ ہی معاشی نظام میں کسانوں کو جوڑ کر اسے ترقی دینے کے تانے بانے ایک کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی؛ تو اس وقت انڈیا کا کسان گلے میں پھندے ڈال رہا تھا، ہندوستان کا کسان اپنی زندگی سے تنگ آکر دنیا چھوڑ رہا تھا، اٹل بہاری واجپائی کی سرکار میں ایک لاکھ دو سو پچاس کسانوں نے خود کشی کی ہے، منہومن سنگھ کی سرکار بھی کچھ خاص نہیں رہی ہے، کانگریس نے خود کسانوں کو خوب دھوکے میں رکھا ہے، بلکہ صحیح بات تو یہی ہے کہ کسانوں کی بدحالی کا ٹھیکرا انہیں کے سر جاتا ہے، چنانچہ دس سالہ سرکار میں ایک لاکھ اٹھاون ہزار ساتھ سو پینتالیس کسانوں نے آتم ہتیا کی ہے، مودی کی سرکار میں پچھلے چھ سال کے اندر اٹھہتر ہزار کسان پھانسی پر لٹک چکے ہیں، گویا یہ تعداد کم ہے، مگر اس وقفے میں کسانی چھوڑنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، گویا اکیسویں صدی میں اب تک دو لاکھ اٹھاسی ہزار آٹھ سو اڑتیس کسان خودکشی کی گود میں پناہ لے چکے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن چالیس کسان اور ہر چالیس منٹ میں ایک کسان زندگی سے ہاتھ دھوتا آیا ہے، اسی لئے تو کسان اب اُوب چکے ہیں، وہ سرکاروں کے جھوٹے وعدے، چکنی چُپڑی باتیں اور قوانین سے اکتا چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب آندولن کا دور ہے، جان کی بازی لگادینے اور اپنا حق چھیننے کا زمانہ ہے، آنسوؤں کو پوچھ کر آنسو دینے والے سے لوہا لینے اور انہیں نوکو چنے چبوانے کا موقع ہے، کسان اب کہہ رہے ہیں کہ چاہے تم بیریکیٹس لگا لو، سرحد بندی کردو، کیلیں اور تاریں لگا دو ہم وہیں پر سبزیاں اگادیں گے، کھیتی شروع کردیں گے، اسی لئے راکیش ٹکیت نے کسانوں کے ساتھ ملکر اس کے مقابل میں پودے لگا دئے ہیں، اور یہ بتا دیا ہے کہ اسی کے سایہ میں اپنا حق لے کر رہیں گے، خواہ اکتوبر تک بیٹھنا پڑے، ٢٠٢٤ تک دھرنا دینا ہم کہیں نہیں جائیں گے، بی جے پی کے کسان منتری پارلیمنٹ میں پوچھتے ہیں کہ اس قانون میں کالا کہاں ہے؟ تو وہ جائیں اور لاکھوں کی تعداد میں بیٹھے کسانوں سے پوچھیں اور انہیں یہ بتائیں کہ اس میں سفید کیا ہے؟ یہ ہٹ دھرمی اور سرکشی کے سوا کچھ نہیں ہے، اس قسم کی سنگ دلی پر ایک کسان نے یہاں تک کہا کہ سرکار نے جو سلاخیں سڑکوں پر لگائی ہیں؛ وہ دراصل ہمارے سینوں پر لگی ہیں، اب ظاہر ہے ایسے سینے سے کیا کچھ نکلے گا یہ وقت ہی بتائے گا، مگر اب یہ طے ہے کہ کسان خودکشی کے بجائے اپنا حق لینے نکل پڑے ہیں، اور جب کسان ہَل لیکر نکل جائے تو زمین کتنی ہی سخت، بنجر اور بانجھ ہو اسے سبزہ زار کر کے ہی مانتے ہیں.
Comments are closed.