دیکھو مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو
ایک پاکستانی ٹک ٹاکر گرل کی لاوارث لاش !
یہ لاش ایک معروف پاکستانی ٹک ٹاکر گرل(لڑکی) مسکان شیخ کی ہے۔ اِس کے ٹک ٹاک پر تقریباً 6 لاکھ فالورس ہیں، اس کی ایک ویڈیو کے لاکھوں ویووز ملتے ہیں؛ لیکن کل کراچی میں اِسے قتل کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، تو اب کوئی اس کی لاش پر نوحہ کرنے والا اور اِس کی لاش کا کوئی بھی وارث نہیں ہے۔ بیچاری کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد کراچی کے ایک اسپتال کے ’’ برف خانے‘‘ میں رکھ دی گئی ہے، تاکہ کوئی وارث نمودار ہو اور اس کا آخری رسومات ادا کرے۔
کل تو اس کے مداحوں کی لائن لگی ہوئی تھی آج اس کی لاش پر آنسو بہانے والا بھی نہیں ہے۔ اور وہ کم بخت جو اِس سے عشق کے دعوے کیا کرتا تھا، وہ ’’خلائی مخلوق‘‘ بن کر تیسری دنیا میں گُم ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ا لعلی العظیم۔
گلیمر اور ٹک ٹاک کی زندگی کتنی عبرت خیز ہے اس کا اندازہ اس کی لا وارث لاش سے لگایا جاسکتا ہے۔ جو کل تلک اس کے حسن کے دیوانے تھے، اس کی لاش پر اب تھوکنے کے لئے بھی نہیں آ رہا ہے۔ ھائے ھائے ھائے!!!
یہ بھی شنید ہے کہ اہل خانہ نے بھی اِس بیچاری سے کسی طرح کے رشتہ سے واضح طور پر انکار کردیا ہے، بہت ہی افسوس کی بات ہے۔
ھماری نئی نسل محض شہرت کے لئے کیا کیا نہیں کرتی ہے ؛اس کا اندازہ آپ سوشل میڈیا پر ملاحظہ بھی کرتے ہوں گے؛ لیکن ان کو بعد میں سوائے افسردگی کے اور کچھ نہیں ملتا۔ یہ کہانی محض سرحد پار کی ہی نہیں ہے؛ بلکہ خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی ایسے ’’نکمے اور بھانڈ قسم کے لوگ‘‘ ہیں۔ اِن میں ’’فیضو، جنت زبیر اور ریاض وغیرہ‘‘،جیسے ٹک ٹاکر سرفہرست ہیں، ستم یہ ہے کہ یہ بچے ’’مسلمان‘‘ بھی ہیں، خُدا انہیں ہدایت دے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ٹک ٹاکیے کا جنون شہری بچوں میں انتہائی تباہ کن طریقے سے سرایت کرچکا ہے۔ اب سلمان خان اور شاہ رخ خان قصہ ماضی بن چکے ہیں،بلکہ ہر مراہق قسم کا لونڈا فیضو اور ریاض بننا چاہتا ہے۔ تف ہے ایسی سوچ پر!
نئی نسل سوشل میڈیا کے ذریعہ نہ کہ صرف بگڑ رہی ہے؛ بلکہ جان کی بازی بھی لگا کر اپنی جان گنوا دیتی ہے۔ دوستی یاری کے چکر میں ’’عصمت‘‘ گنوانا تو فی زماننا معمولی بات ہے؛ بلکہ یہ چیز’’ فیشن‘‘ کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ اللٰہم احفظنا
والدین حضرات سے خصوصی طور پر درخواست ہے کہ اپنے بچوں کی سخت نگرانی کریں، انہیں اوباش و الواط قسم کے لڑکوں سے میل جیل نہ رکھنے دیں، تعلیم پر خصوصی توجہ اور شوق دلائیں۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں، اپنے مستقبل کی حفاظت کریں، ورنہ بصورت دیگر ھمیں خون کے آنسو رونے پڑیں گے۔ ھمارے چہار جانب ’’عبرت ہی عبرت ‘‘ ہے، اے کاش ھم ان عبرت سے سبق لیں۔
فاعتبرو یااولی الابصار!!
(ابو حمدان فاخرؔ)
Comments are closed.