نماز جمعہ  اور عجیب مخمصہ

الطاف جمیل ندوی

۵ فروری کے دن نماز جمعہ کے لئے میں سوچ رہا تھا کہ ایک پیارے دوست کی کال آئی ہوئی دیکھی تو مجھے شوق ہوا کہ کیوں نہ آج اسی دوست کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی جائے گھر سے نکل کر میں سیدھا اس کے گھر پہنچ گیا ہمارا آپسی تعلق پچھلے کچھ سال سے مسلسل بنا ہوا ہے اس لئے ہم اکثر ملتے ہی رہتے ہیں پر جمعہ کی نماز ایک ساتھ ادا کرنے کا پہلی بار اتفاق ہوا

جناب نے کہا کہ کیا آپ واقعی میرے پاس آرہے ہیں جواب میں ہاں سن کر کہا ٹھیک ہے تو ہماری مسجد میں آپ کا پروگرام طے کیونکہ مسجد کے منتظمین اکثر کہتے ہیں میں نے ہامی بھر لی

المختصر

میں سیدھا مسجد میں گیا وضو بنایا اور کچھ نوافل ادا کی میں آخری رکعت سے فارغ ہوکر تھوڑا آگئے بیٹھ گیا تو منبر پر ایک نوجوان تھے جو جامع سراج العلوم کے طالب علم رہے ہیں پر علمی استعداد ایک الگ مسئلہ ہے نوجوان ہیں جذبات سے سرشار انہوں نے فرمایا کہ ہماری مسجد میں کوئی ندوی آئے ہیں وہ تشریف لائیں اور تبلیغ کا فریضہ انجام دیں

میں نے جوں ہی اٹھنا چاہا ایک اور نوجوان کھڑا ہوگیا سر پر خوبصورت عمامہ سجائے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے فضائل ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شروع کئے میں ہمہ تن سننے کے لئے مستعد ہوگیا پر جناب واعظ چلتے چلتے مسجد اقصی پہنچ گئے اور فرمایا کہ خلیفہ المسلمون نے دو لوگوں کے ساتھ مل کر مسجد اقصی کو آزاد کیا تھا یہ سنت کی فضیلت ہے کہ انہوں نے سنت پر عمل کیا اور مسجد اقصی آزاد ہوگئی

بہرحال اپنے موضوع کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہوئے جناب ڈھاڑتے بھی رہے بیچ میں ایک بار فرمایا سمجھ چھوا یوان کینہ بہہ چھس بہارن واعظ پران سب نے کہا سبحان اللہ

 

مقرر صاحب کے فارغ ہونے کے ساتھ ہی امام محترم نے خطبہ دیا اور نماز شروع ہوگی امام کی تلاوت بہتر تھی تجوید تلاوت خوبصورت آواز میں کی نماز ہوگی

 

پر

مجھے یہ بات عجیب محسوس ہوئی کہ دوران نماز دوسری مسجد سے کوئی مقرر دھاڑ رہے تھے اور پرجوش خطاب فرما رہے تھے دونوں مساجد حنفی المسلک ہیں دونوں مساجد میں زیادہ سے زیادہ دس پندرہ میٹر کا ہی فاصلہ ہے ایک مسجد پرانی پے اور دوسری کی تعمیر کچھ سال پہلے ہوئی ہے نئی مسجد میں اب نماز جمعہ کی اجازت ہمارے مفتیان کرام نے دی ہے گاؤں زیادہ بڑا بھی نہیں ہے پر تین جگہ پر نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے اور ہر مسجد کا نماز کا وقت مختلف رکھا گیا ہے جہاں ایک ساتھ تین تین خطیب درس اتحاد اور امت بننے کا درس دیتے ہیں حتی کہ جس مسجد میں ہم نے نماز ادا کی اس کے امام محترم نے بڑی ہی آہ و زاری کے ساتھ اتحاد امت اور کامیابی کے لئے دعا بھی کی اور کفر کے لئے نیست و نابود ہونے کی دعا بھی

چلئے سوچتے ہیں

ہر مسجد کا امام الگ نماز جمعہ کے لئے بھی ہم ایک مسجد کا انتخاب نہیں کرتے آپسی نفرت کو لے کر ہم الگ الگ مساجد سے دیں کے نام پر تعمیر مسجد کے نام پر چندہ کرتے ہیں بستی میں اپنی دھاک اور لیڈری بنائے رکھنے کے لئے مساجد کا استعمال کرتے ہیں زمین کا تنازعہ برادری ہمسایگی کے جھگڑے خاندانی جھگڑے یہ بھی مساجد میں ہی لے آتے ہیں امام کو لے تو ہم ما شاء اللہ بڑے چابک دست ہیں فوری اسے بے دخل کرنا فرض عین سمجھتے ہیں تو ان مساجد اور نمازیوں کی اسلامی شناخت کیا بنتی ہے مجھے نہیں لگتا کہ جس مسجد کی بھی بنیاد آپسی رنجش کو لے کر رکھی جائے وہ اس قابل ہے کہ یہاں نماز ادا کی جائے جمعہ کی تو بات ہی نہیں

اس دوران ہم مخالف فکر کے لوگوں پر لعن طعن کرنا بھی فرض منصبی کے طور ضرور ادا کردیتے ہیں مساجد یا تو سرکاری اراضی پر کھڑی کر دیتے ہیں یا کسی غیر آباد جگہ پر ہمارے ایمان کی حرارت اس درجہ زیادہ ہے کہ مسجد بنانے کے لئے ہم اپنی زمین دینا مناسب خیال نہیں کرتے بستی میں جہاں سرکاری اراضی دیکھی مسجد بنا لی یہ قبضہ غاضبانہ ہے جہاں مسجد بنانا غلط ہے جب تک ضروری لوازمات پورے نہ کئے جائیں پڑوس کی بستی ہے میری جہاں ایک گھر کے لوگوں نے طیش میں آکر شیڈ کے اوپر سلیپ ڈال کر مسجد بنادی جو مقامی مسجد سے صرف دس فٹ کی دوری پر ہے مساجد کی اس دوڑ میں ہر روز نئی نئی مساجد بن رہی ہیں پر نمازی وہی ہیں جو آج سے بیس پچیس سال پہلے تھے اکثر دیکھا گیا ہے جب کوئی سرکاری ملازم جو افسر کے عہدے تک چلا گیا ہو ریٹائر ہوجاتا ہے بستی میں آکر مسجد کا ذمہ دار بننے کا خواہش مند ہوجاتا ہے

صرف دو لوگ

ایک سرکاری ملازم تھے جب بھی مسجد میں آتے تو کھانستے سب سلام کرتے اور جناب بیٹھ جاتے ٹائم ٹیبل کا کچھ مسئلہ ہوا اور جناب مجھ سے الجھ پڑے کہ پتہ نہیں کہ میں فلاں عہدے سے ریٹائر ہوا ہوں ہم نے سادگی سے کہا جناب یا تو آپ وہ افسر شاہی بھول جائے یا ہم آپ کی ُغلامی کی زنجیر پھینک دیتے ہیں یہ تو الگ بات ہے کہ رخصت مجھے ہی ہونا پڑا

دوسری دفعہ ایک مسجد میں ایک مشہور و معروف رشوت خور آفیسر ریٹائر منٹ کے بعد مسجد کا صدر بن گیا جس کی دین داری کے چرچے سے زیادہ اس کی حرام کمائی کے چرچے تھے جب مسجد کی صدارت سے اسے لگا کہ یہاں کچھ نہیں ہورہا ہے تو الگ مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور اب بڑے ہی نیک سیرتی کے ساتھ از خود امام مسجد بھی ہیں اور صدر محترم بھی کیونکہ ان کی کسی بھی امام کے ساتھ نہیں بنتی

کیا ایسی مساجد مسجد تقوی کے زمرے میں آتی ہیں شاید نہیں

پر حیرت ہے ان اہل علم پر جو یہ سب ہوتے ہوئے بھی آئے روز نئی نئی مساجد میں قیام جمعہ کراتے ہیں اور اس کے لئے کسی تمیز کا خیال نہیں رکھتے

 

یہ بات ذرا دور نکل گئی تو میں اب تک سوچ رہا ہوں کہ کیسے یہ لوگ اپنی نماز جمعہ ادا کرتے رہیں گئے جبکہ نزدیکی مسجد میں ان کی نماز کی ادائیگی کے دوران زبردست اور جلالی قسم کی تقریر کی صدا آسمان کو چھوتی رہتی ہے بلا ہو اس بیچارے کا جس نے مائیک کا ایک ایسا سسٹم متعارف کردیا جس کے ذریعے سے کم سے کم یہ خطیب بیچارہ دھاڑے بھی نہ تو بھی آواز بلند ہوکر سپیکر سے نکلتی ہی رہتی ہے کمال یہ ہے کہ کچھ خطیب حضرات تو ایکو سسٹم کے بغیر تبلیغ کرنا اپنے علمی مرتبہ کے خلاف تصور کرتے ہیں اس لئے ایکو اب ضروریات مبلغ بن گئی ہے

اوہ

یاد آیا امت کی اجتماعیت فرائض سے ہے آؤ مل کر دعا کریں کہ اللہ اس امت کو اتحاد و اتفاق کی توفیق عطا فرمائے اس کے لئے بھی ہم ایکو سسٹم کا استعمال کرسکتے ہیں اپنی اپنی مسجد میں

خیر میں مسجد سے گھر آیا پر یہ بات دل کو بہت بری لگی کہ ہم کیا سے کیا ہوگئے اور ہم ہی کو اس کی خبر تک نہیں

 

Comments are closed.