سعودی کا اسرائیل سے تعلقات بحالی کا عندیہ

 

محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

یہ قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے اور بین الاقوامی و بین المذہبی روایات کے نام پر اسرائیلی جارحیت و اسلام دشمنی کو بھول کر اسے گلے لگا لے، اخوان المسلمین پر مذہبی طبقہ سے دہشت گردی کا فتوی اور محمد بن سلمان کا خفیہ طور پر بنجامن نتن یاہو سے ملاقات وغیرہ بھی یہی اشارہ کرتے ہیں، ایسا مانا جاتا ہے کہ اسرائیلی صدر جو خود صدارتی عہدے سے ہٹادئے گئے اور اس سال دوبارہ انتخابات پر ان کا مستقبل ٹکا ہوا ہے، وہ بھی شہزادہ سعودیہ کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں، امریکہ میں اگرچہ جوان بائیڈن نئے صدر منتخب ہوئے اور ان کا محبوب ڈونالڈ ٹرمپ شکست سے دوچار ہوگیا؛ لیکن خلیجی ریاستوں کے سلسلہ میں تقریباً وہی پالیسیاں رکھی جائیں گی، بلکہ خدشہ یہ جتایا جاتا ہے اب مزید تشدد سے کام لیا جائے گا، حال ہی بائیڈن نے سعودی عرب کو ایک جھٹکا یوں دیا ہے کہ اس نے یمن میں جنگی تعاون کرنے سے منع کردیا ہے، ایسے میں امریکہ کی جانب سے مزید پش و پیش نے آگھیرا ہوگا، ویسے بھی محمد بن سلمان ترکی اور ایران کے بڑھتے قدم سے خوفزدہ ہیں، الجزیرہ نے دو ہفتہ قبل ایک کوَر اسٹوری کی تھی اور دونوں کے کولڈ وار کی گرماہٹ کے بارے میں بتایا تھا، ایران ایک شیعہ ملک ہے؛ لیکن ترکی بھی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا، حرم کے سایہ میں سینیما گھر اور میوزک کنسرٹ کے ساتھ اسرائیلی فوجوں کو اتارنے کے بعد انہیں اپنی سرزمین پر بسانے کی بھی فکر ہے، ماہرین مانتے ہیں کہ اگر ترکی نے اپنی ترقی و تعمیر کی نئی اونچائیاں نہ پائی ہوتی تو اب تک سعودی عرب علی الاعلان امت کی مصلحت اور خادم الحرمين الشريفين کے سہارے اسرائیل سے معانقہ کرچکا ہوتا؛ بلکہ بوس و کنار کرنے کے بعد انہیں اپنی سرزمین پر پھول مالا پہنا چکا ہوتا، تاہم عشق اب بھی درپردہ جاری ہے، بالخصوص جماعت اسلامی ہند کی جانب سے جاری ہفتہ واری دعوت نیوز میں تنویر آفاقی کا مضمون پڑھ کر واقعی یہ احساس مزید بڑھ گیا ہے کہ حاشا سعودیہ جلد از جلد فلسطین اور فلسطینیوں کو بھول کر ان کی آہ و بکا اور مظلومیت کو نطر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کردے گا، ان کے ایک مضمون کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے، جو چشم کشا ہے، اسے ضرور پڑھیں اور حرمین کے سایہ میں ہونے والی بولہبی سازشوں سے واقف ہوں-
"ایک عیسائی خاتون خلیج فارس میں واقع مٹی کے ایک گھر میں بیٹھی اپنے مسلم عاشق کیلئے آنسو بہا رہی ہے؛ کیوں کہ اس کا عاشق کسی دوسری لڑکی کے عشق میں مبتلا ہے۔ لیکن اس کا مسلم عاشق جس لڑکی سے پیار کرتا ہے وہ لڑکی اس کے بجائے کسی دوسرے شخص کو چاہتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ لڑکی بھی اپنے عاشق کو پانے میں ناکام ہے کیوں کہ وہ گاؤں کے یہودی عالم کی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ جس وقت ہندستان میں ’لَو جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف قانون سازی کا تانا بانا تیار کیا جا رہا تھا تقریباً اسی عرصے کے دوران میں سعودی عرب کے معروف پرائیویٹ ٹی وی چینل ایم بی سی کی وساطت سے ایک ایسے ڈراما سیریل کو عوام کے سامنے لایا گیا جو بین المذاہب (اسلام، عیسائیت اور یہودیت) شادیوں اور بین ثقافتی رشتوں کی استواری کا پیغام دیتا ہے۔ اس ڈرامے کا نام ’امِّ ہارون‘ (ہارون کی ماں) ہے اور مثلث عشق کی مذکورہ کہانی اسی ڈرامے کا پلاٹ ہے۔ اخبارات کے مطابق گزشتہ ماہِ رمضان میں شروع ہونے والے اس ڈرامے کو خلیجی ممالک اور مصر میں ۱۴۱ ملین لوگوں نے دیکھا۔ ناظرین کی اتنی بڑی تعداد میں اچھی خاصی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس ڈرامے کو مسترد کرتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔ مبصرین اور خود ڈرامے کے منظر نگار علی شمس کا یہ خیال ہے؛ کہ اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کی کارروائی (عرب امارت اور اسرائیل کے درمیان ’معاہدۂ ابراہیمی‘ پر دستخط) سے چند ماہ پہلے اس ڈرامے کا آغاز موقِع کی مناسبت سے تھا۔ علی شمس کا یہ بھی کہنا ہے کہ عرب عوام کے اندر یہودیوں کے تعلق سے مثبت رائے قائم کرنے یا ان کے ذہنوں سے یہود دشمنی کے اثرات کو کم کرنے میں اس ڈرامے نے بہتر کردار ادا کیا ہے۔
اس دعوے کے باوجود کہ دونوں کا ایک ہی وقت پر واقع ہونا محض اتفاق تھا، حقیقت یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اسے خلیجی ممالک میں نشر کرنے کی اجازت اسی لئے دی گئی؛ تاکہ کچھ ماہ بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کا جو عمل فروغ پانے والا تھا، اس کیلئے عوامی سطح پر بھی مثبت زمین تیار ہو جائے۔ امریکا اَبراڈ میڈیا (AAM) کے تاسیسی صدر ڈاکٹر’ ایرون لوبیل‘ کا بیان اس کی تائید کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈراما سیریل سعودی عرب کے رویے کی اس تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جو اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں پیدا ہو رہی ہے۔ خلیجی سیاست کے ماہر مائیکل اسٹیفن کا بھی یہی خیال ہے؛ کہ اس ڈرامے نے یہود مخالف بیانات کی تاریخ کو بدلنے اور اسرائیل کے ساتھ نئے تعلقات کے امکانات کا راستہ صاف کیا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ بھی اس قسم کے اشارے بہت واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں کہ جلد یا بدیر سعودی عرب بھی اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا اعلان کر دے گا، بلکہ اگر ترکی، بقول سعودی عرب ’امت مسلمہ کی رہنمائی کی آرزو‘ لے کر سامنے نہ آجاتا تو شاید اب تک سعودی عرب تعلقات کی بحالی کا اعلان کر چکا ہوتا؛ حالاں کہ عراق کو چھوڑ کر باقی تمام عرب ممالک کی تقریباً نصف آبادی اسرائیل کو اپنے ملک کیلئے اولین خطرہ تسلیم کرتی ہے۔ المرکز العربی للابحاث ودراسۃ السیاسات ۲۰۱۹۔۲۰ (عرب مرکز برائے تحقیق و مطالعہ پالیسی) کی رپورٹ کے مطابق ممالک عرب کی ۸۸ فی صد آبادی اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس سے تعلقات کی بحالی کے خلاف ہے۔ قطر، کویت اور الجزائر میں تو یہ تناسب ۹۰ فی صد سے متجاوز ہے- "__ ان سب کے باوجود ہوا کا رخ کچھ اور ہی کہہ رہا ہے، بہرحال یہ طے ہے کہ اب سعودی عرب کو کوئی حتمی فیصلہ لینا ہوگا، ان کے پاس اس کی بھی قوت نہیں کہ امریکہ کے خلاف جاسکیں اور اسرائیل کو مسترد کردیں اور ناہی خلیجی ممالک سے وہ تعلقات اور تیاری ہے کہ متحدہ محاذ بناسکیں، انتظار کیجئے اور دیکھئے کہ ظل کعبہ کے باسی کیا گُل کھلاتے ہیں۔

Comments are closed.