رفیق پیغمبر سیدنا صدیقؓ اکبر

 

 

تحریر : محمد زکریا عباسی

 

پورے عالم میں اللہ رب العالمین کی جو سب سے پسندیدہ اور محبوب ذات ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے، فرمان خداوندی کا مفہوم ہے کہ ” اے میرے پیارے پیغمبر! اگر میں آپ کو پیدا نا کرتا تو میں یہ جہاں ہی تخلیق نا کرتا” اسی محبت کی بنا پر آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اس دنیا میں جو کچھ رشتے، ناطے، تعلق دار اور ملحقات عطا کیے وہ اس سے قبل کسی کو نصیب نہیں ہوئے اور نا ہی بعد میں کسی کو عطا ہوں گے، اللہ جل شانہ کی طرف سے اپنے محبوب کو دی گئی ہر ہر چیز بے مول اور لاثانی ہے۔

ازواج مطہرات، آل اولاد، جانثار، رفقاء، صحابہ، دین، کتاب، امت الغرض سب کے سب اللہ نے چن کر اپنے حبیب کی جھولی میں ڈال دیا، جہاں دیگر ملحقات حبیب کبریا کو مثالی عطا ہوئے وہیں جماعتِ صحابہؓ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی قابل رشک اور اہل رفعت وعظمت عطا ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ازل میں تمام تر لوگوں کے دل دیکھے مگر میں صحابہؓ کرام کے دِلوں سے زیادہ صاف اور پرنور دِل نہیں پائے” تمام تر صحابہؓ کرام میں بلند ترین اور نمایاں مقام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جتنا قرب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو عطا ہوا اتنا کسی اور صحابی کو نہیں ہوا، آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک صحابی ہمارے ایمان کی بنیاد اور امت کا اثاثہ ہے مگر ہر ایک ایک صحابی کو اللہ نے چند منفرد خصوصیات سے نوازا تھا لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ وہ عظیم صحابی رسولۖ ہیں جنہیں اللہ نے بہت سی نایاب خصوصیات اور سعادتوں سے نوازا۔

آپ رضی اللہ عنہ کا نام "عبداللہ” اور کنیت "ابوبکر” تھی، آپ اپنی صداقت لسانی وقلبی کی بنیاد پر زبان نبوت سے "صدیق و عتیق” کے لقب سے نوازے گئے، شیر خدا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ "اللہ نے اپنے حبیب کی زبان سے سیدنا ابوبکرؓ کا نام صدیق رکھا ہے” آپ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام "عثمان رضی اللہ عنہ” تھا اور کنیت "ابو قحافہ” تھی جب کہ والدہ ماجدہ کا نام "سلمیٰ بنت صخر رضی اللہ عنہا” اور کنیت "ام الخیر” تھی، آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ نے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق سب سے پہلے بلا شک وشبہ کی اور اول تا آخر نبی علیہ السلام کے سفر وحضر کے ساتھی رہے، ابتداء اسلام میں جب نبی علیہ السلام پر کفار کے مصائب حد سے گزرنا شروع ہوئے تو آپ نے بلاخوف آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور اس کی پاداش میں آپ پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے مگر آپ نے آقا سے بھرپور وفاداری نبھائی اور جبل ہمت واستقامت ثابت ہوئے، ہر قسم کے پرکھٹن حالات میں آپ نے جی جان لگا کر خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور ایک موقع پر آقا کے حکم کی تعمیل میں آپ اپنا پورا گھر قربان کر گئے، مکہ میں کفار جب بدبختی پر اتر آئے تو شاہ مدینہ رات کے آدھے پہر سیدنا صدیقؓ کے ہاں گئے اور انہیں ساتھ لیکر غار ثور کی طرف ہجرت کر گئے اور اس دوران جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیقؓ نے نبوت کو کاندھوں پر اٹھا لیا اور غار تک لے گئے، اس مبارک مقام کے زائرین جانتے ہوں گے کہ وہ مقام کتنی بلندی پر ہے اور راستے کتنے دشوار ہیں حالانکہ اب تو پکی سڑک بھی بن چکی ہے مگر اس وقت پتھریلے پہاڑوں پر آقا کو کاندھے پہ بٹھا کر لے جانا سیدنا صدیقؓ جیسا جانثار ہی کر سکتا تھا، آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام المؤمنین، صدیقہ بنت صدیقؓ، صدیقہ کائنات سیدنا عائشہ صدیقؓہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی بیوی تھیں اور حضورۖ ان سے بے حد محبت فرماتے تھے، ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کیا "یا رسول اللہ آپ کو سب زیادہ محبت کس سے ہے؟” لسان نبوت سے ارشاد ہوا "عائشہ سے” صحابی نے عرض کیا "یا رسول اللہ میرا سوال مردوں کے متعلق تھا” تو آقا نے فرمایا کہ "عائشہ کے والد سے” قرآن نے ہجرت کی رات کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے سیدنا صدیق کے تذکرہ کو اپنے دامن میں جگہ دیتے ہوئے کہا "لاتحزن ان اللہ معنا” سیدنا صدیقؓ کی صحابیت اور منقبت قرآن مجید میں مالک ذوالجلال نے خود بیان فرمائی، آپ رضی اللہ عنہ کے تقویٰ کی گواہی دیتے ہوئے قرآن پاک کی سورۃ اللیل میں اللہ رب العالمین نے فرمایا "اَلَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہُ یَتَزَکّیٰ”، ایک موقعے پر اللہ نے قرآن مجید میں صدیقؓ کو "اُوْلُوْالْفضْلِ (بزرگی والے)” کہہ کر یاد فرمایا، اللہ کے حبیب نے سیدنا صدیقؓ کا نام لیکر فرمایا "اَبُوْبَکْرِِ فِی الْجَنّۃِ” سیدنا صدیقؓ کے بارے میں ایک اور موقعے پر نبی علیہ السلام نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ "میں ہر شخص کے احسان کا بدلہ اس دنیا میں دے چکا ہوں مگر صدیقؓ کا بدلہ بروز قیامت اللہ دے گا” ۔

نبی علیہ السلام ایک دفعہ مسجد نبویؐ میں داخل ہوئے اس حال میں آپ کا ایک ہاتھ سیدنا صدیقؓ کے ہاتھ میں اور دوسرا ہاتھ فخر امت سیدنا عمرؓ کے ہاتھ میں تھا تو آقا نے فرمایا کہ "قیامت کے دن بھی جب سب لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو میں اس حال میں اٹھوں گا کہ میرا ایک ہاتھ صدیقؓ کے ہاتھ میں اور دوسرا ہاتھ عمرؓ کے ہاتھ میں ہوگا”

وصالِ خیر البشر کے بعد غمزدہ صحابہؓ کی جماعت کو جس طرح سیدنا صدیقؓ نے دلاسہ دیا اور جس طور سے امت کی کمان سنبھالی اس کی مثال نہیں ملتی، اپنی خلافت کے آغاز میں جب آپ رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب مردود کے خلاف اور منکرین زکوٰۃ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ "امیر المؤمنین بیک وقت کئی محاذ کھولنا اس وقت ٹھیک نہیں، حالات کے سنبھلنے کا زرا انتظار کرتے ہیں” تو سیدنا صدیقؓ تلوار لیکر کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ "میں اکیلا ہی اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، کوئی آئے یا نا آئے مجھے اس کی ضرورت نہیں، صدیقؓ زندہ ہو اور دین میں کمی کی جائے یہ نہیں ہو سکتا” آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ صحابہؓ کی عالی مقام جماعت آپ کے ہمراہ کھڑی ہو گئی، اس موقعے کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا عمرؓ فرماتے تھے کہ "قَامَ کَمَا قَامَ الْاَنْبِیَاءُ” یعنی کہ اس روز صدیقؓ دین کی حفاظت اور سربلندی کیلئے یوں اٹھ کھڑے ہوئے جیسے انبیاء کھڑے ہوتے تھے۔

سیدنا صدیقؓ کی امامت اور سبقتِ خلافت بھی اماں فاطمہؓ کے ابا جان کے ارشاد سے واضح ہے کہ جب حسینؓ کے نانا بیمار تھے اور نماز کا وقت ہوا تو نبیۖ نے فرمایا کہ "ابوبکرؓ سے کہو مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائے” اپنے دور حیات میں ہی آقا نے اپنے جانشین اور جانثار صدیقؓ کو اپنے مصلے کا وارث بنا دیا تھا

22جمادی الثاني پیر کے دن 13ہجری کو صداقت ودیانت، امانت وامامت، ایثار وقربانی کا یہ سراپا اور اور پرنور آفتاب اس دنیائے عالم سے انتقال کرکے اللہ کے حضور جا پہنچا، آپ نے اپنی وفات سے قبل ہی سیدنا عمرؓ کو دوسرا خلیفہ بنائے جانے کی وصیت فرمائی تھی جسے سب نے بالاتفاق قبول کر لیا تھا، آپ بعد از وفات ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقؓہ کے حجرے میں اپنے آقا کی معیت میں مدفون ہوئے اور یوں عشق ومحبت اور امام الانبیاء سے وفاداری کا ایک بے مثال باب تمام ہوا۔

"رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَرَضَا عَنْہُ”

Comments are closed.