علماء دیوبند کی علمی خدمات (تیسری قسط)

 

 

بخاری شریف اور علمائے دیوبند:

 

 

محمد قاسم اوجھاری

 

 

احادیث مبارکہ کے متعلق علمائے دیوبند کی محققانہ خدمات کا اعتراف پورے عالم اسلام نے کیا ہے۔ علمائے دیوبند نے بخاری شریف پر جو کام کیا ہے ذیل میں اس کو مختصراً پیش کیا جاتا ہے۔

 

(1) فیض الباری علی صحیح البخاری : یہ محدث کبیر مولانا محمد انور شاہ کشمیری کا درس بخاری ہے جس کو ان کے شاگرد مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی نے عربی زبان میں مرتب کیا ہے۔ سب سے پہلے یہ شرح مصر سے شائع ہوئی، اس کے بعد دنیا کے بے شمار ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہے، عرب وعجم میں اس شرح کو صحیح بخاری کی اہم شروح میں شمار کیا جاتا ہے۔ عرب وعجم میں علامہ انور شاہ کشمیری کا شمار مستند ومعتبر محدثین میں کیا جاتا ہے۔ مشرق ومغرب کے تمام علمی حلقوں نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے

 

(2) تعلیقات جامعۃ علی صحیح البخاری (عربی): شیخ الحدیث مولانا احمد علی سہارن پوری نے بخاری کے پچیس اجزاء پر تعلیقات کی، باقی پانچ حصوں پر ان کے شاگرد مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ نے تعلیق کی۔

 

(3) الابواب والتراجم للبخاری: اس کتاب میں بخاری شریف کے ابواب کی وضاحت کی گئی ہے۔ صحیح بخاری میں احادیث کے مجموعہ کے عنوان پر بحث ایک مستقل علم کی حیثیت رکھتی ہے جسے ترجمۃ الابواب کہتے ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے اس کتاب میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حافظ ابن حجر عسقلانی جیسے علماء کی بخاری کے ابواب کے بارے میں کی گئی وضاحتیں ذکر کرنے کے بعد اپنی تحقیقی رائے پیش کی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے

 

(4) لامع الدراری علی جامع صحیح البخاری: یہ مجموعہ در اصل مولانا رشید احمد گنگوہی کا درسِ بخاری ہے جو مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے والد شیخ محمد یحیی نے اردو زبان میں قلم بند کیا تھا۔ مولانا محمد زکریا نے اس کا عربی زبان میں ترجمہ کیا اور کچھ حذف واضافات کرکے کتاب کی تعلیق اور حواشی خود تحریر فرمائے۔ اس طرح شیخ الحدیث کی انتہائی کوشش اور محنت کی وجہ سے یہ عظیم کتاب منظر عام پر آئی۔ اس کتاب پر شیخ الحدیث کا مقدمہ بے شمار خوبیوں کا حامل ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے

 

(5) انوار الباری فی شرح صحیح البخاری: یہ محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری کا درس بخاری ہے جس کو احمد رضا بجنوری صاحب نے اردو زبان میں مرتب کیا ہے۔

 

(6) ایضاح البخاری: یہ مولانا فخر الدین احمد مرادآبادی کا درس بخاری ہے جو مولانا ریاست علی بجنوری رحمہ اللہ نے اردو زبان میں مرتب کیا ہے

 

(7) شرح تراجم البخاری: شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی۔

 

(8) شرح تراجم البخاری: مولانا محمد ادریس کاندھلوی

 

(9) التقریر علی صحیح البخاری: مولانا محمد زکریا کاندھلوی، شیخ محمد یونس۔

 

(10) ارشاد القاری الی صحیح البخاری: مفتی رشید احمد لدھیانوی۔

 

(11) تلخیص البخاری شرح صحیح البخاری: مولانا شمس الضحیٰ مظاہری

 

(12) تحفۃ القاری فی حل مشکلات البخاری: مولانا محمد ادریس کاندھلوی

 

(13) امداد الباری فی شرح البخاری: شیخ عبد الجبار اعظمی

 

(14) جامع الدراری فی شرح البخاری: شیخ عبد الجبار اعظمی

 

(15) التصویبات لما فی حواشی البخاری من التصحیفات: شیخ عبد الجبار اعظمی

 

(16) الخیر الجاری علی صحیح البخاری: شیخ خیر محمد مظفر گڑھی۔

 

(17) النور الساری علی صحیح البخاری: خیر محمد مظفر گڑھی۔

 

(18) احسان الباری لفہم البخاری: مولانا سرفراز خان صفدر

 

(19) جواہر البخاری علی اطراف البخاری: شیخ قاضی زاہد حسینی

 

(20) انعام البخاری فی شرح اشعار البخاری: مولانا عاشق الہی بلندشہری مہاجر مدنی

 

(21) دروس بخاری: مولانا حسین احمد مدنی کا درس بخاری ہے جس کو مولانا نعمت اللہ اعظمی صاحب نے مرتب کیا ہے

 

(22) ترجمۃ صحیح بخاری: علامہ شبیر احمد عثمانی

 

(23) فضل الباری شرح صحیح بخاری: علامہ شبیر احمد عثمانی

 

(24) النبراس الساری فی اطراف البخاری: یہ شیخ عبد العزیز گوجرانوالا کی عربی زبان میں بخاری کی شرح ہے جو ۲جلدوں پر مشتمل ہے۔ ان کا حاشیہ "مقیاس الواری علی النبراس الساری” بھی کافی اہمیت کا حامل ہے

 

(25) تحقیق وتعلیق لامع الدراری علی جامع البخاری: شیخ محمد زکریا کاندھلوی

 

(26) انعام الباری شرح بخاری: شیخ محمد امین چاٹگامی

 

(27) نصر الباری شرح البخاری: یہ صحیح بخاری کی شرح ہے جو شیخ عثمان غنی نے تالیف کی ہے

 

(28) تفہیم البخاری: یہ صحیح بخاری کا اردو ترجمہ ہے جو شیخ ظہور الباری اعظمی قاسمی نے کیا ہے، جسکی عربی متن کے ساتھ ۳جلدیں ہیں

 

(29) حمد المتعالی علی تراجم صحیح البخاری: یہ سید بادشاہ گل کی کتاب ہے جو مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد ہیں

 

(30) فضل البخاری فی فقہ البخاری: یہ شیخ عبد الرؤوف ہزراوی کی کتاب ہے جو علامہ کشمیری کے شاگرد ہیں

 

(31) سہیل الباری فی حل صحیح البخاری: قاری صدیق احمد باندوی

 

(32) کشف الباری فی شرح البخاری: شیخ سلیم اللہ خان صاحب

 

(33) تجرید البخاری: مولانا محمد حیات سنبھلی، جو مفتی عاشق الہی کے استاذ ہیں

 

(34) انعام الباری: یہ مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کا درس بخاری ہے جو مفتی محمد انور حسین صاحب نے اردو زبان میں مرتب کیا ہے

 

(35) تحفۃ القاری: یہ مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری رحمہ اللہ کا درس بخاری ہے

 

(36) مدرسہ شاہی مرادآباد کے استاذ حدیث مفتی شبیر احمد صاحب نے بھی بخاری شریف پر حدیث نمبر وغیرہ لگاکر اہم خدمات پیش فرمائی ہیں۔

 

اللہ تبارک و تعالی علمائے دیوبند کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔

Comments are closed.