کرونا وائرس کے دوران سوشل میڈیا کا کردار
از قلم: زبیر ملک
اس وقت دنیا کو جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ ایک خطرناک وبا ہے جسے کرونا وائرس کہتے ہیں۔ اس وائرس نے نہ صرف عام انسان کی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ایک درمیانے درجے کے کاروباری آدمی سے لے کر بڑے سے بڑے ملکوں کی معیشت بھی تباہ کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ امریکہ میں فی بیرل پیٹرول کی قیمت منفی سینتیس ڈالر تک چلی گئی۔ سب سے پہلے 1965ء میں ایک سائنسدان نے کرونا کے بارے میں بتایا جس کی سات مختلف اقسام ہیں۔ 2002ء میں چائنہ میں اس کی قسم "ایس-اے-آر-ایس” نے پہلی دفعہ انسانوں کو متاثر کیا۔ جولائی 2003ء تک 80000 لوگ اس کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ 774 افراد کی اموات واقع ہوئی اور پھر دنیا کے 28 ممالک میں یہ وبا پھیل گئی۔ 2012ء میں کرونا کی ایک قسم "ایم-ای-آر-ایس” نے سعودی عرب میں 2500 انسانوں کو متاثر کیا اور تقریباً 858 لوگوں کی اموات واقع ہوئی۔ دسمبر 2019ء میں چین میں یہ وبا اس قدر شدت سے پہلی کہ شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا علاقہ ہو جو اس کی لپیٹ سے بچ گیا۔ چین سے شروع ہونے والی یہ وبا اب دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے۔ کروڑوں لوگ نا صرف اس بیماری سے متاثر ہوئے بلکہ لاکھوں لوگوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق اب تک امریکہ میں 369990 ، بھارت میں 150372 ، برازیل میں 199043 ، اٹلی میں 76877 ، فرانس میں 66565 ، روس میں 59951 ، پاکستان میں 10461 اور اس کے علاوہ دنیا کے بے شمار ملکوں میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد افراد اس جان لیوا وبا کا شکار ہو کر اس جہانِ سے کوچ کر گئے۔
ان قیمتی جانوں کا ضیاع کہیں تو وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے تھا تو کہیں جہالت اور لا علمی کی وجہ سے لوگ کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ اس سارے دورانیے کے دوران الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا بھی بڑا اہم کردار رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں شامل مختلف پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک، ٹوئٹر، واٹساپ، یوٹیوب، ای میل، یاہو، انسٹاگرام وغیرہ لوگوں کے درمیان رابطے اور معلومات کے تبادلے کا اہم، تیز ترین اور موئثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ اب لوگ گھر بیٹھے ہوئے منٹوں میں کسی بھی چیز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری سوشل میڈیا کے تمام تر ایڈوانس فیچرز کے استعمال سے مکمل واقفیت کا ہونا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کی بدولت اب لوگوں کے درمیان سماجی رابطہ قائم کرنا نہایت ہی آسان اور فہم بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے وسائل کا نا صرف تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے بلکہ اُن کا حل بھی با آسانی میسر ہے۔ اس تمام سماجی زندگی میں پیغام رسانی کا نہایت ہی اہم کردار رہا ہے۔ انسان دنیا میں جہاں کہیں بھی رہتے ہوں، یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جس سے اُن کی قابلیت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ سماجی باشندے ہونے کے باعث انسان کا کمیونیکیشن کے بغیر زندگی بسر کرنا نا ممکن بن گیا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران پوری دنیا میں سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت ساری واضح تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ بنیادی طور پر یہ تبدیلیاں در اصل ٹیکنالوجی، انفارمیشن اور کمیونیکیشن میں ترقی کی بنا پر ہیں۔
اس دوران سوشل میڈیا نے جہاں مثبت کردار ادا کیا ہے، وہاں اس کے بہت سارے منفی نتائج کا بھی لوگوں کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ دیہاتوں اور شھروں میں زندگی بسر کرنے والے لوگوں میں کرونا کے دوران سماجی فاصلے کے ساتھ سماجی رابطہ قائم رکھنا خاص ضروری رہا ہے۔ اس فاصلے کا اطلاق ایک معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ اور اس کا واحد مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنا ہے۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے اس بیماری کی پوری تاریخ کے متعلق معلومات حاصل کیں، اس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے طریقے، احتیاطی تدابیر اور قرنطینہ ہونے کا سارا شعور سوشل میڈیا کے ذریعے گھر گھر میں پہنچا۔ اس کے ذریعے نا صرف کرونا کے پھیلاؤ کو کم کیا گیا بلکہ معاشی نقصان، جانوں کے ضیاع اور متاثرہ لوگوں کی تعداد بھی کم ہوئی۔
لوگوں نے فارغ اوقات میں مختلف طرح طرح کی کتابیں پڑھ کر اپنے آپ کو مشغول رکھا، اسلام اور پاکستان کی تاریخ پڑھی، نت نئی معلومات حاصل کیں کہ دنیا میں کیا چل رہا ہے۔
اس خطے کی عوام کا کہنا ہے کہ کرونا کے دوران سوشل میڈیا جہاں مفید رہا ہے وہاں ایک لعنت سے کم نہیں تھا۔ اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر کے نوجوانوں کے مطابق کرونا کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیاروں سے رابطہ قائم رکھنے میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن 34 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ منفی اثرات مرتب ہوئے۔ 70 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ "سٹریس” میں اضافہ ہوا ہے اور 57 فیصد لوگوں کے مطابق ذہنی نشوونما میں بھی کمی آئی ہے۔ 79 فیصد کہتے ہیں کہ "منتھلی سٹریس” , اور 28 فیصد کے مطابق "ویکلی سٹریس” اور صرف 11 فیصد لوگوں کے مطابق کرونا کے دوران سوشل میڈیا غلط استعمال سے "ڈیلی سٹریس” میں اضافہ ہوا ہے جب کہ 41 فیصد لوگ مکمل مطمئن ہیں۔ 66 فیصد کے مطابق بہترین بہترین دوست رہا ہے مگر 64 فیصد کے مطابق اس سے بوریت میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ لوگ جو سوشل میڈیا کو مثبت زاویوں سے دیکھتے ہیں، اُن میں سے 59 فیصد کا کہنا ہے ہے کہ یہ خبروں کا موثر ذریعہ رہا ہے مگر 61 فیصد لوگوں کے مطابق اس سے جھوٹی خبریں پھیلائی گئی ہیں جس سے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر پیدا کی گئی۔ 30 فیصد میں ہر پانچ میں سے دو لوگوں کا کہنا ہے کہ کرونا کے دوران سوشل میڈیا نے اُنہیں مصروف رکھا۔ حیران کن حد تک یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فارغ اوقات ہونے کے باعث فحش فلیمں دیکھنے میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور بڑی بڑی ویبسائٹس نے اس سے کروڑوں روپے کمائے ہیں۔ کیوں کہ کرونا کے دوران بے روزگاری میں اضافہ ہوا تو 46 فیصد لوگوں نے اس بات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے رقم جمع کرنے پر غور کیا جو کے مشکل وقت میں کام آ سکے۔ 38 فیصد لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کو امپروو کرنے پر مزید توجہ دی۔ اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا نے اس وبا کے دوران ایک عام انسان سے لے کر دنیا کی سپر پاور تک کے حالات و واقعات میں بے شمار مثبت اور منفی نتائج کے حامل اثرات مرتب کیے ہیں۔
Comments are closed.