میں کچھ کرنا چاہتی ہوں۔
سحر نصیر
میں اِک مضبوط اور باہمت لڑکی ہوں۔میں اپنے آباؤ اجداد کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں۔میرا دل کرتا ہے میں ایسا کام کرو جس پر میرے گھر کے اِک اِک فرد کو ناز ہو۔مجھے لوگوں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کوئی بھی شخص اپنی پسند کا کام کرنا چاہیے تو اس کی مخالفت کے لیے کوئی نہ کوئی اس کے گھر سے ہی کھڑا ہوتا ہے۔پتہ نہیں لوگوں کا کیا مسئلہ ہے؟ کیا سوچتے ہیں؟لوگ کیوں دوسروں کو خوش نہیں رہنے دیتے؟۔میں اِک عظیم لکھاری بننا چاہتی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ میں ایسا لکھوں کے پڑھنے والے کے دل پر میرے الفاظ اثر کریں۔میں اپنے الفاظ سے لوگوں کی منفی سوچ کو بدلنا چاہتی ہوں کہ کوئی بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔جو شخص جس شعبے سے منسلک ہے اپنی مرضی اپنی خوشی اور رضا مندی سے ہے۔ خدارا کسی کی زندگی میں دخل اندازی نہ کریں۔جو شخص جس کام کو کر کے خوشی محسوس کرتا ہے اس کو کرنے دیں۔سب کو اپنے اعمال کے لیے خود ہی جواب دہ ہونا ہے کوٸی کسی کےاعمال کے لیے جواب دہ نہیں ہے۔محنت کرنے والے شخص کا حوصلہ بنے اگر حوصلہ نہیں بن سکتے تو اس کی کمزوری کبھی نہ بنے۔اگر آپ کسی کو خوشی نہیں دے سکتے تو اس کے دکھ کی وجہ بھی نہ بنے۔میں لوگوں سے سوال کرتی ہوں کہ جب ہمارے مذہب اسلام میں کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں تو پھر کیوں ہم دوسروں کو باتیں کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہماری کسی بھی منفی بات سے سامنے والے انسان کا دل چھوٹا ہو سکتا ہے۔اگر کسی شخص کے پسندیدہ شعبے میں اس کو ناکامی ہو جائے تو تماشائی ایسے آتے ہے جیسے نہ جانے اِس شخص نے کسی کو قتل کر دیا ہو۔
میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ناکامی ہی تو کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔پھر کیوں ہم لوگ کسی کو حوصلہ دینے کے بجائے اس کو باتیں سنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔میں چاہتی ہوں کہ اس معاشرے کا ہر شخص اس قدر مضبوط ہو کہ کوئی معمولی سی آندھی اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے۔خاص طور پر اِک لڑکی جس کو آج بھی مرد سے کمتر ہی سمجھ جاتاہے۔ہر کوئی عورت کو اپنا فیصلہ سنا کر چلتا بنتا ہے میں چاہتی ہوں کہ عورت اپنے حق کے لیے بالکل اس طرح جنگ کرۓ جس طرح اِک ماں اپنے بچے کے حق کے لیے کرتی ہے۔عورت کو اِک چٹان کی مانند مضبوط ہونا چاہیے جس پر لوگوں کی فضول اور بے معنی باتوں کا کوئی اثر نہ ہو۔میں چاہتی ہوں کہ اگر کوئی بے سکون ہو تو میرے الفاظ اس کے لیے باعثِ سکون ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ میں اللہ کی مخلوق کی رہنمائی کروں۔میں چاہتی ہوں کہ میرے قلم میں اس قدر مضبوطی ہو کہ کبھی کوئی حور کی بیٹی اپنی عزت کے تار تار ہونے پر خاموش نہ رہے۔میرے قلم سے اس کے حق کی آواز بلند ہو۔میں ہمارے پیارے ملک پاکستان کی عدالتوں میں انصاف دیکھنا چاہتی ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ میں غریبوں کے لیے روشن ستارے کی مانند ہو جاؤں جس کی روشنی کو دنیا کی کوئی بھی طاقت کم نہ کر سکے۔اور غریب لوگ کے لیے میرے الفاظ ہمت بنے۔میں چاہتی ہوں کہ میرے قلم کی روشنی بالکل آفتاب جیسی ہو جس طرح اندھیرے کو سورج کی پہلی کرن ختم کر دیتی ہے۔بالکل اسی طرح میں لوگوں کی اندھیری بے رنگ زندگی میں رنگ لانا چاہتی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ آج کا انسان انسانیت جیسے خوبصورت اور نایاب احساس سے بھرپور ہو۔میں ہر انسان کو اپنے حق کے لیے لڑتے دیکھنا چاہتی ہوں۔میں ہر انسان کو انصاف کے لیے جدو جہد کرتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں ہر شخص کو عورت کی عزت کرتے دیکھنا چاہتی ہوں۔میں اپنے قلم سے لوگوں کو رشتوں کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔میں نے دیکھا ہے لوگوں کو رشتوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے اب بس میں اس گناہ کے خلاف آواز بلند کروں گی۔میں انسانوں کو غلامی سے نجات دلانا چاہتی ہوں۔اور بتانا چاہتی ہوں کہ جب تک خود کوشش نہیں کروں گے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود کوشش نہ کریں۔میں اس معاشرے میں بیٹی کو بیٹے کے برابر دیکھنا چاہتی ہوں۔میں اک گھر میں بیٹے اور بیٹی سے انصاف ہوتے دیکھنا چاہتی ہوں۔میں لوگوں کے سفاک چہروں پر پڑے نقاب کو دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہوں۔میں دوستی جیسے عظیم رشتے میں مخلصی دیکھنا چاہتی ہوں۔
اللہّ تعالیٰ ہر بیٹی کی عزت کی حفاظت کرۓ اور ہر بیٹی کے نصیب اچھے کرۓ۔ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنے۔ایک دوسرے کو حوصلہ دے ایک دوسرے کی طاقت بنے۔جو انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اللہّ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔جو انسان دوسروں کے لیےدعا کرتا ہے وہ دعا پہلے اسی شخص کے حق میں قبول ہوتی ہے۔اللہّ تعالیٰ خود کہتے ہیں جومیری مخلوق پر رحم کرے گا میں اس پر رحم کروں گا۔اِک سچے مسلمان کی نشانی ہے کہ وہ پہلے دوسروں کے بارے میں سوچتا ہے۔اللہّ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کا حوصلہ بنے کی توفیق عطا فرمائیں۔اللہّ تعالیٰ ہم سب کو اپنے قلم سے حق اور سچ لکھنے اور باطل کے خلاف آواز اٹھانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین
Comments are closed.