مسکراہٹ ایک طاقت

ناصرہ نواز سرگودھا
موجودہ دور کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ ہر بندہ پریشانی کا شکار ہے۔میرے خیال میں اب ہمیں انسانیت سے آشنا ہو جاناچاہیے۔بہت سارے لوگوں کے بہت سارے دکھوں کا سبب بنے ہیں کیوں نہ اب ہم دوسروں کی مسکراہٹ کا سبب بنیں۔صرف آپ کی ایک مسکراہٹ کسی کے بہت سارے دکھوں کا مداوا کر سکتی ہے۔اللّه آپ کے ہر گرنے والے آنسو کاحساب رکھتا ہے۔ آپ بس دوسروں کے سامنے مسکرایا کریں ان کی مسکراہٹ بنیں۔اگر کوئی پریشان حال ہے تو اس کودلاسہ دے دیں آپ کے پاس کوئی اپنا دکھ لے کے آۓ تو اسے سنیں وہ آپ کے پاس سے مسکراہٹ لے کے جاۓ۔یہ زندگی ایک نعمت ہے یہ ایک ہی دفعہ ملتی ہے۔نہ ملنے والی چیزوں میں سے ایک نعمت تو کیوں نہ اس نعمت کو رب کی رضا اور اس کسے بندوں کو خوش کرنے میں گزر دیں۔مسکرائیں کہ آپ کے پاس آج ہے اپنےکل کو بہتر بنانے کا خواب لیے جانے کتنے لوگ جانے کتنے لوگ منوں مٹی تلے جا سوۓ ہیں۔ذیادتیاں ,دھوکے ،دکھ یہ سب اسی دنیا میں رہ جاۓ گا اور رب ان سب چیزوں کا خود حساب لے لے گا۔کسی نے ذیادتی کی ،کوئی دکھ دیا ،کسی نے دھوکہ دیا آپ کو سب پتہ چل جاتا ہے ان کے سامنے مسکرائیں اور آگے بڑھ جائیں۔کہ خوش ہونے کے لیے کوئی دن کوئی وقت تھوڑی مقرر ہے۔اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا مندی رکھیں۔وہ مالک دو جہاں دنیا کو بھی آپ کی رضا میں شامل کر دے گا۔مسکراہٹ تو صبر کی سب سے بڑی دلیل ہے۔مسکراہٹ جب کسی کی طاقت بن جاۓ تو تو اس کی نسلیں بھی سنوار دیتی ہے۔مسکرائیے کہ آپ کا رب آپ سے بہت محبت کرتا ہے ہر محبت کو زوال ہے صرف رب کی محبت کو زوال نہیں۔

Comments are closed.