پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تعلیمی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا

 

شیزرا اعظم اعوان سیالکوٹ

کوڈ انیس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے سماجی اور معاشی خطرہ بن کر پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔جس سے نہ صرف معیشت،معمولات زندگی اور تعلیمی ادارے بری طرح متاثر ہو رہےہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے تعلیمی ادارے کی خامیاں اور نقائص بےنقاب ہو گئے ہیں جس میں سب سے زیادہ نقصان طلبا کا ہورہا ہے۔ سال ۲۰۲۰ء کے آغاز سے لیکر اختتام تک تعلیمی اداروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کی بندش بھی شامل ہے۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے فیصلہ کیا کہ بچوں کا تعلیمی عمل آن لائن ذرائع کے ذریعے سے جاری رکھا جائے گا۔ بچوں کا تعلیمی عمل جاری رکھنے کے لیے سکول،کالجز اور یونیورسٹیوں نے کلاسز کا اجراء کیا۔کہیں امتحانات آن لائن ہیں تو کہیں پڑھائی اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بجائے ورچوئل دنیا کے کلاس رومز میں ہورہی ہے لیکن پاکستان میں تعلیمی سلسلہ آن لائن جاری رکھنے کی شرح بہت کم ہے۔زیادہ تر طالب علم تو بس لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں بیٹھے رہے۔

ابھی چند روز قبل ہی وزیر تعلیم شفقت محمود نے فیصلہ کیا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر پھیل رہی ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان چھوٹے بچوں کا ہورہا ہے اور اساتذہ بھی اس وباء کا شکار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا اساتذہ اور طلبہ کی صحت سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لیے انہوں نے دوبارہ تعلیمی ادارے بند کر دیے جو چھبیس دسمبر سے گیارہ جنوری تک بند رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ طلباء گھر میں ہی آن لائن ذرائع سے تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ بات ویسے ہی ہے جیسے بلی کبوتر کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے۔ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جب ملک میں آن لائن تعلیمی نظام کا بنیادی ڈھانچہ اور دیگر وسائل ہر کسی کے پاس دستیاب نہ ہو تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ طلباء آن لائن تعلیم حاصل کرسکیں گے۔

پاکستان میں طلباء کو جو مسائل درپیش ہیں وہ یہ کہ اکثریت کے پاس موبائل فون یا کمپیوٹر نہیں ہیں جس وجہ سے طلبا مشکلات سے دو چار نظر آتے ہیں ۔کچھ طلباء کے مالی وسائل اتنے کمزور ہیں کہ وہ اپنی ضروریات مشکل سے پوری کرتے ہیں۔ پاکستان کی ایک تہائی اکثریت کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔دوردراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کو شہروں کی طرف جانا پڑتا ہے۔ کبھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے طلبا اپنی آن لائن کلاسز نہیں لے پاتے جن کی وجہ ان کی حاضری کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔اگر کوئی آن لائن جماعت ہوتی ہے تو اساتذہ کی آواز سنائی نہیں دیتی جس وجہ سے طلبا کا لیکچر چھوٹ جاتا ہے۔

پاکستانی آئین ہر کسی کے لیے مساوی تعلیمی سہولیات کی ضمانت دیتا ہے۔ حکومتی افسران کو طلبا کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہیے۔پاکستان میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اکثریت موبائل ایپلی کیشن یا ایپس استعمال کرنا نہیں جانتی جس سے وجہ مسائل پیدا ہوئے۔ اساتذہ کے لیے بھی آن لائن کلاسز لینا ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ کچھ اساتذہ کی باقاعدہ ٹریننگ نہیں ہوتی اور بچوں تک اپنی بات پہنچا نہیں پاتے۔ محکمہ تعلیم کو چاہیئے کہ طلبا کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے لیے مناسب اقدامات کرے تاکہ طلبا اپنی آن لائن تعلیم حاصل کرسکیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے تعلیمی ادارے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں لیکن دنیا بھر کے اداروں میں پاکستان میں طلبا کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے کیونکہ کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے صحیح طرح فائدہ نہیں اٹھا رہے۔

تاہم اس سے بھی ضروری بات یہ ہے کہ پاکستانی طالب علموں کا کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں تعلیمی نقصان اس حد تک ناقابل تلافی نہ ہو کہ آئندہ برسوں میں کروڑوں پاکستانی بچے اپنا ایک تعلیمی سال ضائع ہو جانے کا ذمہ دار ملکی حکمرانوں کو ٹھہرائیں۔ جو ملک پہلے ہی دنیا کے بہت سے معاشروں سے پیچھے ہو اسے مزید پیچھے نہیں جانا چاہیے۔

Comments are closed.