بدلتے موسم
نام:جویریہ امانت (سیالکوٹ)
دسمبر کی سرد شام تھی ہر طرف سردی کی لہر تھی،سرد موسم پوری شدت سے محسوس ہو رہا تھا۔ٹھنڈی ہوا حرم کے جسم کو چھو رہی تھی اور سرد موسم میں کھڑی وہ نہ جانے کیا سوچ رہی تھی کہ اسے موسم کی شدت محسوس تک نہ ہو رہی تھی ۔سفید فراک میں وہ نازک سی پری چہرہ لڑکی کوئی سفید پھول لگ رہی تھی، معصوم سا چہرہ لال گلابی ہونٹ اور سردی سے لال ہوتا چہرہ، جیسے مانو کوئی شفاف شبنم کا موتی ہو۔ہر چیز سے ناآشنا وہ اپنے باغیچے میں کھڑی اس باغ کی رونق کا جائزہ لے رہی تھی کہ کیسے بدلتے موسم اس باغ کی خوبصورتی اور آب و تاب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کبھی تو بہار آتی ہے اور ہر سو ہریالی ہی ہریالی ہو جاتی ہے جیسے کوئی سبز قالین بچھا دیا گیا ہو ۔ہر رنگ کے پھول کِھل اٹھتے ہیں اور باغ کی رونق کو چار چاند لگا دیتے ہیں، اور اس موسم کی آمد سے قبل ہی جیسے مرجھائے پھول سوکھی شاخیں اور باغ کی کھوئ خوبصورتی موسم بہار کے انتظار میں پلکیں بچھائے ہوں۔اور چرند پرند کی تو خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں ہوتا وہ تو جیسے اس مہمان کے صدقے واری جائیں اور اسکے رخصت ہونے پہ پھول پتوں کی طرح مرجھا جاتے ہیں۔دوسرا موسم ہے خزاں کا جس کے آتے ہی باغ کی رونق، چہل پہل کھو جاتی ہے جیسے کسی ہیر نے دکھ کی چادر اوڑھ لی ہو جیسے ہر چیز لاجواب ہو گئی ہو اور پرندوں کا شوروغل بھی مدھم ساز کی طرح لگتا ہے۔بالآخر پھر سے بہار آتی ہے یہ موسم چلا جاتا ہے ۔ایسے ہی صبح حرم کے اس چھوٹے سے باغ میں بہار آئی ہوتی ہے ہر طرف رنگ رنگ کے پھول خوبصورتی بکھیر رہے ہوتے ہیں، تتلیاں ایک پھول سے دوسرے پھول پہ رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں اور پھر شام کو تاریکی چادر اوڑھ لیتی ہے ہر طرف خاموشی ہوتی ہے، سنسان گھڑی اور حرم….. یہ وقت اسے اپنی زندگی کی بجھی ہوئی روشنیاں یاد کرا دیتا ہے ۔سات سال سے ہر شام وہ اس اداس لمحے کو محسوس کرنے اس جگہ خودبخود آ پہنچتی ہے۔ایک ہی شخص اسکی رونق تھا وہ شخص اب اس دنیا میں نہ تھا، سات سال پہلے حرم اور حاشر کی شادی ہوئی تھی دونوں ایک دوسرے کی دنیا تھے شادی کے کچھ دن بعد روڈ ایکسیڈنٹ میں وہ انتقال کر گیا اور وہ تن تنہا رہ گئی اسکی زندگی تو جیسے ہمیشہ کے لیے موسم خزاں بن گئی بس ان پھول پودوں سے باتیں کرتی دل بہلاتی ہے۔جیسے باغ میں ایک ہی طرح کے پھول ہوں تو وہ حسن نہیں ہوتا جو مختلف رنگ کے پھولوں کے ہونے سے ہوتا ہے اسی طرح زندگی بھی مختلف حالات و واقعات کا نام ہے. جیسے ہمیشہ ہی موسم خزاں نہیں رہتا ایسے ہی زندگی بھی ایک جیسی نہیں رہتی خوشیاں نہ بھی ہوں غم پرانا ہو جاتا ہے ۔یہ تو دسمبر کی اداس لمبی راتیں ہوتی ہیں جسکی شامیں ہمیشہ اداس ہوا کرتی ہیں……!
Comments are closed.