بے حیائی
نام : کرن امجد
بے حیائی معاشرے میں فتنے کا باعث بنتاہے۔ بے حیائی جہنم یعنی دوزخ میں جانے کا سبب ہے- یہ حیا کا متضاد ہے – حیا کا مطلب ہے ایمان، کہا جاتا ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے یعنی کہ جب بندہ حیا کرتا ہے تو ایمان کا کچھ حصہ مکمل کر لیتا ہے اور بے حیا ہونے سے انسان ایمان کے کچھ حصے سے خالی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی خود ہی حیادار ہے اورحیا کو پسند کرتا ہے- اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ جب انسان مرتا ہے تو مرد ے کو کفن پہنا کر دفنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے تمام نبی اور انبیاء جو ہیں وہ بھی حیا کو پسند کرتے تھے اللہ کے نبی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وہ بھی بہت ہی حیادار تھے- وہ اتنےحیا دار تھےکہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے-
حضرت عثمان خود فرماتے ہیں کہ
” جس روز سے میں نے ایمان قبول کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے اس کے بعد سے بیعت کی وجہ سے میں نے کبھی نہ گانا گایا ہے نہ کبھی گانے کی تمنا کی”
ہر مذہب کی ایک پہچان ہوتی ہے ہمارے دین کی پہچان شرم و حیا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ محسن انسانیت نے فرمایا
” مردوں جیسا انداز اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہیں اور عورتوں جیسی مشاہبت اختیار کرنے والے مردوں کے لیے بھی لعنت فرمائی ہے ”
پہلے جتنے بھی قومیں تباہ و برباد ہوئی ہیں ان کی تباہ ہونے کی وجہ بھی یہی تھی۔ پرانے زمانے میں لوگ بہن بیٹی رکھتے تھے لیکن ان میں کوئی فرق نہیں سمجھتے تھے- ان کی تباہی کی وجہ بے حیائی کے کام تھے- کیونکہ وہ قومیں ایسی ہو چکی تھی کہ کھلے عام برائی پھیلا تے تھے ۔
حضرت عمر بن خطاب روایت کرتے ہیں کہ
"ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ کوئی نامحرم آدمی کسی عورت سے تنہائی میں ملے اور وہاں تیسرا شیطان موجود نہ ہو”
مزید فرمایا کہ
” تم نامحرم عورتوں کے پاس جانے سے بچو ”
حدیث میں ہے کہ انسان کے جسم کا ہر حصہ زنا کر سکتا ہے -آنکھوں کا زنا نامحرم کی طرف دیکھنا, کانوں کا زنا حرام آواز کا سننا ، زبان کا زنا کچھ غلط بول دینا، ہاتھ کا زنا ناجائز کام کرنا اور پاؤں کا زنا حرام کی طرف جانا ہے۔ پرانے زمانے میں اس بے حیائی سے ڈرتے ہوئے لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے تاکہ وہ زیادتی کا نشانہ نہ بنیں ۔لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں ان کی بیٹیوں کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو جائے۔ بے حیائی تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"جس انسان میں حیا نہیں ہوتی وہ پھر جو چاہے وہ کر لے”
آج بھی اگر دیکھا جاۓ تو ویسے ہی سب کچھ ہو رہا ہے جیسے پہلے زمانے میں ہوتا تھا- عورت خود کو دکھانے میں لگی ہے اور مرد دیکھنے میں۔ ہر انسان بے حیائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔آج دنیا میں ویساہی ماحول ہے جیسے پرانے دور میں تھا- آج بھی بے حیائی عام ہے- عورتیں غیر محرم سے پردہ نہیں کرتی اور نہ ہی مرد عورتوں کو دیکھنے سے باز رہتے ہیں ہر طرف یہی ہے عورت فتنہ فساد پھیلانے کی جڑ ہے- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہے وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں -ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں- وہ جنت میں داخل نہیں ہو گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی- اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہےکہ بے حیائی پھیلانے کا باعث صرف عورتیں ہیں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو زنا کے کاموں کی طرف اکساتی ہے یہی رویہ اگر مردوں میں پایا جائے تو قابل مذمت ہے مثال کے طور پر اگر کوئی آوارہ لڑکا عورتوں کو بہکائے انہیں اپنے لباس، چکنی چڑی باتوں، اپنی پرکشش شخصیت یا اپنی دولت کے جھانسی میں لے کر ان کو غلط کام کرنے پر اکسائے تو وہ بھی اس حدیث کی وعید میں آئے گا وہ بھی نہ جنت میں داخل ہو سکے گا اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکے گا -نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو ”
انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیور کے بارے میں کیا حکم ہے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” دیور تو تنہائی میں موت ہے ” ٹی وی ریڈیو موبائل فون پر ہر طرح کی بے حیائی ہے -خبروں میں بھی عورتیں بغیر دوپٹے کے کھلے بالوں میں نظر آتی ہیں- اس کے علاوہ بہت سے شوز ایسے ہے جو لوگوں کو بے حیائی پہ اکساتے ہیں غیر محرموں سے پردہ نہ کرنا ،بریک لباس پہننا فیشن کر کے مردوں کے سامنے جانا یہ سب چیزیں معاشرے میں بے حیائی پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ مردوں نے بھی بے حیائی پھیلانے میں کوئی حد نہیں چھوڑی- زیادتی کیس بڑھتے جا رہے ہیں- آج کل دنیا میں بے حیائی عروج پہ ہے ٹی وی موبائل ہر طرف اتنی گندی گندی موویز ہیں بے حیائی عام طریقے سے پھیل رہی ہے- سکولز اور کالجز جو کہ تعلیم کا مرکز ہوا کرتے تھے- آج کل وہ تعلیم کا مرکز کم لیکن بے حیائی پھیلانے کا مرکز زیادہ بنے ہوئے ہیں- یونیورسٹیز میں لڑکے لڑکیاں اکٹھے بیٹھتے اٹھتے ہیں- پارک میں جاتے ہیں گھومتے پھرتے ہیں- گھر والوں کو کچھ بھی علم نہیں ہوتا آج ہمارے ملک پاکستان میں عورتیں برقعہ ایسا پہنتی ہیں جس میں جسم واضح ہوتا ہے –
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں با حیا اور با پردہ بنا دے آمین۔
Comments are closed.