مجبوری کا فائدہ
آفرینش عارف ( نارووال )
مجبوری زندگی میں تسلسل کے ساتھ پیش آنے والی ایک صورتحال ہے جس میں انسان کی جو تھوڑی بہت خود مختاریت ہے وہ بھی ختم ہوجاتی ہے اور انسان پوری طرح سے مجبور ہوجاتا ہے ۔ مجبور ہونا ایک تکلیف دہ احساس کو جنم دیتا ہے۔
جب انسان مجبور ہوتا ہے تو باقی دُنیا اُس کے ساتھ خُدا بن کر پیش آنے لگتی ہے۔ اُس کی محرومی کا فائدہ اُٹھا کر لوگ اُنہیں اپنے اشاروں پر ناچانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور بعض لوگ تو اُنہیں بُرائی کے رستوں پر دھکیلنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔
چند ماہ قبل میں ایک روز یونیورسٹی کے روڈ سے گُزر رہی تھی کہ میری نظر لڑکوں کے ایک گروہ پر پڑی میرا دھیان اُن کی طرف مرکوز کرنے کی وجہ اُن چار-پانچ لڑکوں کے دائرے میں کھری ایک 12 سال کی لڑکی تھی۔ میلے کپڑے، ننگے پاوں ، بکھڑے بال اور دھوپ میں جھُلسی کالی رنگت کی وہ لڑکی اُن لڑکوں کے لیے تماشے سے بڑھ کر کُچھ نا تھی۔ اُن میں سے ایک لڑکا جیب سے 10 روپے کا نوٹ نکالتا اور اُس لڑکی کو کہتا کہ فلاں گانے پر ڈانس کر کے دِکھاو۔ دس روپے کے نوٹ کی خاطر وہ لڑکی ڈانس کرنے پر مجبور ہو جاتی۔ پھر دوسرا لڑکا دس روپے کا نوٹ نکالتا اور بولتا کہ یہ ڈانس ٹھیک نہیں ہے کسی اور طرح کا ڈانس کر کے دِکھاو ۔ وہ لڑکی دوبارہ پھر سٹیپ بدل بدل کر ڈانس میں مشغول ہو جاتی۔ ایسے ہی چند پیسوں کے عوض سڑک پر اُس لڑکی کا اُن لڑکوں نے خوب تماشہ بنایا۔ جناب وہ لڑکی پیشہ ورانہ فقیرنی تھی جو مجبوری کہ تحت لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتی تھی مگر افسوس کہ وہ لڑکے یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس تھے جنہیں اُن کے علم نے بھی نہیں بدلا اور وہ اُس لڑکی کی مجبوری کا تالیوں اور قہقوں کے ساتھ خوب فائدہ اُٹھا رہے تھے۔
میرے گاؤں میں ایک گھر میں دو بھائی رہتے ہیں ۔ بڑا بھائی نارمل ہے مگر چھوٹا بھائی زہنی طور پر ذرا کمزور ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک ہماری برادری میں سے آدمی کی حویلی میں وہ زہنی کمزور آدمی روز جاتا ہے تا کہ وہ وہاں بیٹھ سکے کیونکہ وہاں بہت سارے آدمی مل بیٹھ کر باتوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ اُس انسان کی کمزوری کا فائدہ ایسے اُٹھایا جاتا ہے کہ وہ بیچارا وہاں سب کے لیے حُقہ بناتا ہے پھر کوئی بھی کام کروانا ہو تو وہاں اُس بیچارے کے ساتھ نوکروں والا برتاو کیا جاتا۔ اس کے علاوہ وہ بیچارا اکثر روٹی کی خاطر وہاں حویلی میں جانوروں کی بھی دیکھ بھال کرتا ہے۔
یہ تو چند ایک قصے تھے جو میرے زہن میں رقم تھے مگر ہمارے معاشرے میں یہ چیز عام دیکھنے کو ملتی ہے کہ دوسروں کی مجبوریوں کا خوب فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ ایک انسان زرا سا کمزور پڑ جائے تو سب اُس پر طاقت آزمائیوں میں لگ جاتے ہیں۔ کوئی کسی غریب کو قرض دے دو تو پھر اُس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس انسان نے مجھ سے قرض لے لیا ہے تو شاید اب یہ میرا غُلام ہی بن گیا ہے میں جس سمت میں چاہوں اس کا استعمال کروں۔ اگر کوئی جسمانی کمزور ہے تو اچھی صحت کے لوگوں کے لیے اُس انسان کی یہ مجبوری بھی تماشے سے کم نہیں ہوتی۔ مختلف صورتوں میں لوگ اپنی طاقت کا زیادہ تر استعمال غریب اور مجبور لوگوں پر ہی کرتے ہیں۔
اسلام نے راہ حق دکھائی، مجبور نہیں کیا ۔شرف و مجد کا یہ مرتبہ ہر انسان کو حاصل ہے، اس میں عقیدے اور رنگ و نسل کا امتیاز نہیں۔ یہ ساری کائنات جس میں عالم آفاق اور عالم انفس دونوں شامل ہیں، ہر لحاظ سے وحدت الٰہ کا مظہر ہے مگر اس طرح کہ کائنات میں موجود تمام ذی روح اور غیر ذی روح مخلوقات و موجودات کے درمیان ظاہری فرق بھی پایا جاتاہے اور ان کے درمیان ایک وحدت کا رشتہ بھی موجود ہے۔ کثرت میں وحدت اس تمام کائنات میں جاری و ساری وہ اساسی اصول ہے جس نے اسے اس کے لئے لازمی ترتیب و تنظیم بخشی ہے۔ وحدت کے اسی اصول کے تحت کائنات کے تمام اجزا ایک دوسرے کے ساتھ ایک باہمی ربط و انحصار کی بنیاد پر ہم رشتہ ہیں۔ خلائے بسیط میں موجود سیارے ایک دوسرے کے درمیان کشش کے تحت اپنے اپنے مداروں میں گردش کر رہے ہیں اور اسی طرح انسانی جسم کے تمام اجزاء اور اعضاء بھی ایک گہرے اندرونی ربط و ترتیب کی بنیاد پر زندہ و متحرک ہیں۔ قرآن ایک جگہ فرماتا ہے :’’یقینا ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں بنایا ہے ۔‘‘(التین) ۔ انسانوں میں الله تعالیٰ نے بظاہری فرق ضرور رکھا ہے مگر اس فرق کی ہرگز وجہ یہ نہیں تھی کہ اچھی صورت کے اور مالدار لوگ دوسرے لوگوں پر زندگی تنگ کر دیں۔ اس فرق و اختلاف کو اللہ نے اپنی نشانی قرار دیا:’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمان اور زمین کا بنانا اور طرح طرح کی بولیاں تمہاری اور رنگ ۔‘‘(الروم) ۔
جب الله تعالیٰ جو تمام جہاں کے خالق و مالک ہیں اُس پاک ذات نے تمام انسانوں کو برابر کے حقوق دیے ہیں تو انسان کی کیا اوقات ہے کہ وہ غریبوں، لاچاروں، بے بسوں پر تمسخر باندھے یا اُنہے بے جا تنگ کرے۔ کسی مجبور کو دیکھ کر اُس کی مدد کر کے تو انسان عظیم بن سکتا ہے مگر اُس کا تماشہ بنا کر انسان خود اعلیٰ ہونے کا دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا۔
Comments are closed.