نوجوان طبقہ اور بے روزگاری
نام : سدرہ کنول(سیالکوٹ)
کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی ناؤ لیے
چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہے
بے روزگاری ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ جو غریب اور ترقی پذیر ملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کر سکتی ہے. بے روزگاری معاشرے میں بے شمار مسائل پیدا کرتی ہے. پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ اس وقت بے روزگاری ہے. نوجوان نسل تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے.جس وجہ سے اخلاقی اور سماجی برائیاں پھیل رہی ہیں.
عصمت فروشی، چوری، ڈاکہ زنی اور بے ایمانی کے واقعات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ان جرائم کا ایک بڑا سبب بے روزگاری ہے. بے روزگاری کے انفرادی اور سماجی نقصانات کے علاوہ ایک بڑا نقصان ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے.
ورلڈ بینک کی 2016 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں بے روزگاری کی شرح 5.746ہے. جس میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.4ہے. یعنی پاکستان میں بے روزگاری کی شرح دنیا کی مجموعی شرح سے بھی زیادہ ہے.
اگر تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو آزادی سے پہلے ملک میں صرف پانچ یونیورسٹیاں تھیں لیکن آج ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہو چکا ہے. سکولوں اور کالجوں کی تعداد میں بھی مزید اضافہ ہو رہا ہے. نتیجتاً کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ہر سال جتنے طالب علم تعلیم حاصل کر کے نکلتے ہیں ان میں سے ٪10کو نوکری ملتی ہے. بیشتر نوجوان نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں. بے روزگار افراد میں کمی کے بجائے دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مسئلہ سنگین ہوتا نظر آ رہا ہے.
اس صورتِ حال کی ایک بڑی زمہ داری موجودہ تعلیمی پالیسی پر بھی عائد ہوتی ہے.ہماری بیشتر تعلیم محض نصابی ہو کر رہ گئی ہے. جو کہ عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں دیتی. بہت سی ڈگریاں کسی نوکری کے حصول میں مددگار ثابت نہیں ہو رہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی سطح پر ملکی ضروریات کا خیال رکھا جائے. تعلیم میں ایسا نصاب شامل کیا جائے جو طلباء کوعلم کے ہنر بھی سکھائے.
Comments are closed.