کسان آندولن – کشمکش کے دور میں

 

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

 

راکیش ٹکیت ٹریکٹر کرانتی کی بات کر رہے ہیں، ملک بھر میں تشکیل کی جارہی ہے کہ ٹریکٹر کو ایک سمبل بنایا جائے اور اسی سے کرانتی کی شروعات کی جائے، کسانوں کا یہ انوکھا احتجاج ایک حیران کن طور پر بڑھتا جارہا ہے، دیش میں پنچایت قائم کی جارہی ہے جہاں کسانوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے، جس میں ذات پات کی کوئی تفریق نہیں ہوتی، ان میں یومیہ ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر انقلاب کی ایک فضا اور ایک نئی گونج سنائی دیتی ہے، یہ تو یقینی ہے کہ اب بھی آندولن ایک محدود دائرہ (خاص موضوع کسانی مراد ہے) میں ہے؛ لیکن ہمیں اس کی امید ہے کہ اس سے سرکاری پالیسیوں اور ہندوستانی سیاست میں ایسا بھونچال آئے گا جس سے نسلیں سنور سکتی ہے، آمریت پر نکیل کَس سکتی ہے، فی الوقت پولس اور کسان، حکومت اور عوام کے درمیان کی یہ رسہ کشی بھی جاری ہے، جَے جوان اور جَ کسان کو آپس میں ہی بھڑوا دیا گیا ہے، یہ کشمکش ریاستی سطح پر بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں کہیں بی جے پی سرکار ہے وہ صوبے تو پوری طرح اس زرعی قانون کے حق میں ہے اور وہاں کا سارا نظام کسانوں کے آندولن کو مسمار کرنے میں لگا ہوا ہے، مدھیہ پردیش، کرناٹکا، اور ان میں اتر پردیش تو پیش پیش ہے، تب بھی وہاں کے کسان خاص طور پر پر مظفر نگر کی جانب سے آنے والے جیالوں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے، اس میں بہار کا بھی ذکر ہونا چاہئے اس لئے کہ نتیش کمار کے ساتھ بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد یہ سمجھا جاتا ہے؛ کہ اس وقت اصلاً انہیں کی حکومت ہے، ذرا اندازہ لگائے کہ نتیش کمار نے انہیں دنوں ایک قانون پاس کیا ہے، جس کے مطابق اگر کوئی احتجاج کرتا ہوا پایا گیا تو اسے سرکاری نوکری سے محروم کردیا جائے گا، یا ایسوں کو سرکاری نوکری کیلئے درخواست دینے کی جازت نہ ہوگی، ظاہر ہے کہ ان دنوں مظاہرے اور احتجاج کا چلن ہے اور بالخصوص کسان آندولن کا زور ہے؛ ممکن تھا کہ کبھی بھی وہاں کسان اور بیروزگار نوجوان مل کر محاذ بناتے اور بہار میں ہی ایک طوفان برپا ہوجاتا، لیکن وقت سے پہلے ہی اسے کچل دیا گیا؛ مگر جن صوبوں میں بی جے پی حکومت نہیں ہے وہاں کسان آندولن کا زور دکھائی پڑتا ہے، پنجاب تو بہرکیف اس کا نشان امتیاز ہے، مگر مہاراشٹر کا بھی اس سلسلہ میں ذکر نمایا ہے؛ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی سرکار لگاتار ان عناصر کو ڈھونڈنے اور انہیں کمزور کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے جو کوئی اس احتجاج کو ختم کرنے یا پھر بدنام کرنے کے درپے ہوں.

راجیہ سبھا سنجے راؤت کا خطاب بھی اسی پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے، ویسے بھی جس وقت پاپ اسٹار ریحانہ کے ٹویٹ نے ہنگامہ مچایا اور اس کسان آندولن کو عالمی پلیٹ فارم پر دوگنی ترقی دی، ٹھیک اسی وقت بہت سی نام نہاد ہندوستانی نامور شخصیات نے اس کے ٹویٹ کا جواب دیا، اور اپنی جانب سے ایسے ٹویٹ کئے جن سے صرف حکومت کی حمایت ہی نہیں؛ بلکہ کسانوں کو غلط ٹھہرانے کی بھی کوشش معلوم ہوتی تھی، متعدد رپورٹس کے مطابق اس میں بی جے پی کے دباؤ، پیسہ یا پھر کسی قسم کا لالچ تصور کیا جاتا ہے، اسٹنگ آپریشن سے تو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسی ہستیاں صرف پیسوں کی بدولت ہی ٹویٹ کرتی ہیں، جن میں ان کی طرف سے خاص رقم محفوظ ہے، یہی وجہ ہے کہ آج مہاراشٹر کے گرہ منتری انِل دیش مکھ نے ان ہستیوں کے خلاف تفتیش کا حکم جاری کیا ہے؛ جنہوں نے اس آندولن کے سلسلہ میں کوئی ٹویٹ کیا ہے، ان میں خاص طور پر پر اکشے کمار، سچن تندولکر، اجے دیوگن وغیرہ کا نام سر فہرست ہے؛ نیز ان دنوں راجیہ سبھا کا سیشن شروع ہے، آج وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر تھی، اندازہ تھا کہ کسانوں کے متعلق اہم گوشوں پر روشنی ڈالی جائے گی؛ لیکن افسوس کی بات ہے کہ وزیراعظم نے راجیہ سبھا کو بھی مَن کی بات کا اڈہ بنا دیا ہے، کرونا وائرس کے دنوں میں ہندوستان کی کامیابیاں اور قہر کی وجہ سے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش ہی ہوتی رہ گئی، انہوں نے ہندوستان کو ایسے پیش کیا کہ گویا پوری دنیا صرف ہندوستان کیلئے ہی بنی ہے، ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی نظر کرونا وائرس کے دور میں ہندوستان پر تھی کہ کہیں یہ پچھڑ نہ جانے، پھر کسانوں کو بیوقوف اور سات سال کا بچہ سمجھ کر بہت کچھ کہا گیا، MSP پر یقین دہانی اور ان کے تئیں ہمدردی میں لچھے دار باتیں کہیں، حیرت کی بات ہے کہ ان کی ان سب باتوں پر سبھا کے لوگ تالیاں پیٹتے رہے؛ خیر وہ کر بھی کیا سکتے تھے، جو انہیں کی مہربانی اور سیاست کی دَین پر اس ایوان کی زینت بنے ہوں ان سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے، مگر راکیش ٹکیت سے بات کی گئی تو انہوں نے مزید سرکار کو ٹینشن دے دی، انہوں نے MSP کو قانونی حیثیت دینے کی بات کہی، ساتھ ہی بیرون ممالک سے آنے والے دودھ کا مسئلہ چھیڑا اور بتایا کہ ملک میں کسانوں کو کمزور کرنے کیلئے ایسا کیا گیا، حالانکہ کہ ملک کا کسان خود بڑی تعداد میں دودھ پیدا کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت پانی سے سستا دودھ ملتا ہے، اور ہمارے لوگ دودھ کی تجارت کرنے سے خود کو روک رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ جانوروں کی کمی پڑ رہی ہے، ایک اور بات یہ کہہ دی کہ مودی جی سانسدوں سے گزارش کردیں کہ وہ اپنی پینشن چھوڑ دیں؛ تاکہ ملک اور بہتر ترقی کرے اگر یہ کرسکتے تو کر کے بتائیں، کیوں کہ لوگوں سے گیس پر سبسڈی چھوڑ وادی گئی اور باقاعدہ اس کیلئے مودی جی نے کمپینگ کی؛ ایسے میں اس کی بھی کمپینگ کریں، بہرحال اس وقت یہ آندولن سرکار کی آنکھوں کا پھانس بنا ہوا ہوا ہے، دیکھتے جائیں وقت اور کیا کیا تماشہ دکھلاتا ہے، اور اس کشمکش سے ہندوستانی منظر نامہ کیسے اپنا رنگ و رُوپ بدلتا ہے.

 

 

 

Comments are closed.