تیزترین 4G نیٹ ورک

 

مِصباح نواز(پِنڈدادنخان)

موبائل نیٹ ورک کا نام سنتے ہی جو پہلی چیز ذہن میں آتی ہےوہ یہ کہ یقیناً یہ موبائل نیٹ ورک ہی ہوگا۔ موبائل فون سے تو ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ آج کل ہر بچہ، بوڑھا، نوجوان کھاتے پیتے، چلتے پھرتے حتٰی کہ ٹی وی دیکھتے وقت بھی موبائل فون استعمال کرتا نظر آتا ہے۔ موبائل آج کے دور کی اہم ضرورت ہے لیکن ہم اسے ضرورت کے معیار سے بڑھا کہیں بہت دور لے گئے ہیں۔ آج بھی ہم اسے ضرورت کے طور پر استعمال تو کر رہے ہیں لیکن یہ وقت کے ضیاع کا بھی بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ نہ صرف وقت بلکہ یہ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی بُرا اثر ڈال رہا ہے۔ موبائل فون کی سہولت ہی اس لیے میسر آئی تھی کہ ہم اپنے پیاروں سے رابطے میں رہ سکیں۔ پچھلے وقتوں میں جب موبائل فون ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا تو لوگ پیغام رسانی کے لیے خطوط وغیرہ کو ترجیح دیتے تھے اُن میں سے بھی ان پڑھ طبقے کے افراد شادی اموات یادیگر پیغامات کی رسانی کے لیے گاؤں کے کسی فرد کو بھیجا کرتے تھے۔ جو کہ پیغام رسانی کا بہت ہی سست رفتار ذریعہ تھا۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر موبائل فون کی سہولت وجود میں آئی۔ اب تو شاید ہی کوئی عام موبائل فون استعمال کر رہا ہو۔ اب تو ہر طرف سمارٹ فون کا دور دورہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی جڑے تیز ترین نیٹ ورک جن کی بدولت ہر چیز ایک کلک کی دوری پر ہے۔ ہر وہ چیز چاہے ہم دیکھنا چاہیں یا نہیں وہ ہماری نگاہوں سے گزر جاتی ہے۔ اور ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی اخلاقی و غیر اخلاقی چیزوں نے ہماری ذہن سازی کو بھی متاثر کر دیا ہے۔

جیسا کہ پہلے پہل 2G تھا پھر 3G اور اب ہم 4G نیٹ ورک استعمال کر رہے ہیں اب عنقریب 5G نیٹ ورک کی بھی آمد ہو جائے گی۔ اس طرح ہم روز بروز نِت نئی سہولتوں کے سنگ پروان چڑھ رہے ہیں۔ پچھلے دور کے سست رفتار ذرائع کے ساتھ ایک بہت اچھی بات یہ تھی کہ بچوں کے ضد کرنے پر اُن کے ہاتھ میں تھمانے کے لیے موبائل نامی وبا نہیں تھی بلکہ والدین انہیں مطالعہ کے لے کوئی اچھی کتاب دے دیا کرتے تھے۔ ساتھ میں افادیت بھی بتا دی جاتی کتاب کے مطالعہ کی۔ جس سے بچے ذوق وشوق کے ساتھ مطالعے کے عادی بھی ہو جاتے۔ اور اس کے ساتھ ہی وقت اور ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے ضیاع سے بھی بچ جاتے۔ اب ذرا سی ضد پر اُن نومولود بچوں کے ہاتھ میں بھی موبائل دے دیا جاتا ہے جو ابھی ٹھیک سے چلنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی اُنہیں پرانے وقت کے والدین کی طرح یہ بتایا جاتا ہے کہ موبائل فون کی یہ افادیت ہے اور یہ اس کا غلط استعمال ہے۔ بچے موبائل پکڑتے ہی اپنے کام میں مصروف اور والدین اپنے کام میں۔ اس طرح بچے لاشعوری کی عمر میں ہی بہت کچھ جائز نا جائز سیکھ جاتے ہیں۔ ان سب عادتوں میں پڑ کر والدین کی نافرمانی ہی کرتے ہیں کئی بُری عادات پروان چڑھتی ہیں۔ پھر والدین شکایت کرتے ہیں کہ بچوں کو ہر سہولت دی، ہر ضد پوری کی پھر بھی اولاد بات نہیں مانتی۔ اب اس میں قصور کس ہے؟ والدین کا یا بچوں کا؟ میرے خیال کے مطابق سب سے زیادہ قصور والدین کا ہے۔ بچے تو ناسمجھ ہیں۔ لیکن والدین تو سمجھدار ہیں۔ ان کی سوچ سمجھ کو والدین نے پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ والدین نے دُنیا کے رنگ ڈھنگ دیکھے ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو جس انداز میں موڑنا چاہیں اُس کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں۔ جب تک ہر چیز کا مثبت اور منفی پہلو ان کے سامنے نہیں رکھا جائے گا وہ اچھے اور برے میں کیونکر تمیز کرسکیں گے۔ تو والدین کا یہ اولین فرض ہونا چاہیے کہ وہ بچوں کو موبائل کے بے جا استعمال کی طرف راغب ہونے سے دور رکھیں۔ یہ سب چیزیں بھی تربیت کا حصہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل اب وقت کی بہت ہی اہم ضرورت بن گٸی ہے۔ تعلیم ہو یا صحت کے مسائل، بلوں کی ادائیگی، چیزوں کی بُکنگ غرض دُنیا کا اب کوٸی ایسا پیشہ نہیں جو موبائل فون کے ذریعے ممکن نہ ہو۔ ہم انٹرنیٹ کے تیزترین نیٹ ورک کے ذریعے براہِ راست دُنیا کے کونے کونے میں ہونے والے واقعات سے باخبر رہتے ہیں۔ لیکن یہ کھلونا انسانی زندگی سے زیادہ ضروری نہیں۔ ہم آہستہ آہستہ اس کا شکار ہو کر خود کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم اپنے پیاروں کے ساتھ وقت نہیں گزارتے اُن کو دیا جانے والا وقت موبائل فون کی نظر ہو جاتا ہے۔ ااب اگر ہم ٹی وی آن کر کے اس کے سامنے بیٹھے ہیں تو موبائل کے استعمال کی تو کوٸی تُک نہیں بنتی۔ واٹس ایپ، فیس بُک، انسٹاگرام اور اس طرح کی کی ایسی بہت سی ایپلیکیشن فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ وقت کے ضیاع کی بھی بڑی وجہ ہیں۔ آپ خود سوچیے اگر ہم واٹس ایپ آن کرتے ہیں تو ایک کے بعد دوسری چیٹ اور پھر گپ شپ میں مصروف ہوئے وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور ہم گھنٹوں واٹس ایپ پر ہی گزار دیتے ہیں۔ یہی صورتحال فیس بُک اور دوسری ایپلیکیشنز کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہماری عبادات پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ ہم اس میں ایسے مگن ہوتے ہیں کہ ہمیں نمازوں کے اوقات اور دیگر عبادات کے وقت کا خیال ہی نہیں رہتا۔ تو خدارا اس کو صرف ضرورت کی حد تک محدود رکھیے۔ اسے اپنی ذاتی زندگی کا حصہ بنا کر اپنی دنیا اور آخرت برباد مت کریں۔

Comments are closed.