حقیقی لکھاری کا سفر
آمنہ جبیں (بہاولنگر)
لکھاری وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے خیالات ,محسوسات اور جذبات کو قلم کے ذریعے اوراق کی زینت بنانے کا ہنر رکھتا ہے۔ لکھاری اپنی معاشرت کو پروان چڑھانے کے لیے اپنے ارد گرد کے موضوعات پر بات کر کے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اکساتا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی میں لکھاری اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ سچ کو سچ جھوٹ کو جھوٹ لکھنے کا ظرف رکھتا ہے۔ آج ہر لکھاری اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ قلم ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اس سے ظلمت کے سب اندھیرے دور کیے جا سکتے ہیں۔ تاریکیوں کو روشنیوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ہر لکھاری کا یہ ماننا ہے کہ قلم کے ذریعے انصاف قائم کیا جاسکتا ہے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے ڈھیروں ڈھیر لکھاری ہونےکے باوجود ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار کیوں ہے؟کیوں یہاں کا ہر غریب مجبور لاچار انصاف سے خالی ہے؟اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آج کی نوجوان نسل میں موجود نو خیز لکھاریوں سے لے کرمنجھے ہوئے ادھیڑ عمر لکھاریوں تک بہت سے لکھاری ایسے ہیں جو لکھنے کا ہنر تو رکھتے ہیں۔ خیالات، تصورات بھی بہت جامع اور عمدہ ہوتے ہیں۔لیکن آج کا لکھاری خود عمل سے خالی ہے۔ صرف لفظوں کو اوراق پہ بکھیرنے کا ہنر جانتا ہے۔جبکہ ان لفظوں کو پہلے دل میں سرائیت کروا کر اپنی شخصیت پہ لاگو کر کے انہیں اوراق کے سپرد کر دینا ہی ایک لکھاری کی حقیقی پہچان ہوتی ہے۔ایک طرف تو آج کا لکھاری اس بات پہ یقین رکھے ہوئے ہے کہ لکھاری ایک عام انسان نہیں ہوتا بلکہ وہ اللّٰه کی طرف سے منتخب شدہ ایک قلمی جہاد کا اہل خاص شخص ہوتا ہے۔ لیکن یہیں پہ کہیں نہ کہیں لکھاری خود کو عام بھی سمجھتا ہے کیونکہ اگر خاص سمجھتا ہے تو اس خاصیت کی لاج بھی رکھنے کی کوشش کرے ۔ مگر آج کے لکھاری پہ سوار شہرت کی دھن اور عمل کے بغیر نصیحت کی دھن اسے صرف عام نہیں بلکہ عام سے عام تر اور کھوکھلا بنا رہی ہے۔ جبکہ جس بات پہ عمل ہو اور وہ پھر لکھ کے دوسروں تک پہنچائی جائے وہ بات سب سے پہلے اثر دکھاتی ہے۔ کیونکہ وہ دل سے کہی جانے والی بات ہوتی ہے ۔
شاعر بھی کیا خوب کہتا ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حقیقی لکھاری قلم سے جہاد کرنے کے لیے منتخب ہوتا ہے اس لیے ایک لکھاری اپنی اس ذمہ داری کو آسان نہ سمجھے ایک لکھاری پل صراط کی مانند ایک ایسی باریک پگڈنڈی پہ قدم رکھ چکا ہوتا ہے۔ جس پہ سنبھل سنبھل کر چلنا پڑتا ہے ۔ ذرا سا قدم ادھر ادھر ہوا لکھاری کے ساتھ ساتھ معاشرے کا زوال شروع ہو جاتا ہے ۔ایک حقیقی لکھاری سب سے پہلے اپنے کام سے محبت عشق اور امانت داری کا ثبوت دینے والا ہوتا ہے ۔ وہ کسی صلے کی پرواہ کیے بغیر امن، بھلائی اور معاشرے کو متحرک کرنے کے لیے قلم کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کچھ لکھاری ایسے بھی ہیں جو کشیدگی اور اپنے اندر کی بھڑاس نکالنے کے لیے قلم کا غلط استعمال کرتے ہیں – اشتعال انگیز اور انسان کی’ میں’ کو ابھارنے والے انداز میں معاشرے سے محو گفتگو ہوتے ہیں۔ جو کہ سراسر لکھاری کے اپنے لیے اور اس معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس کے علاوہ ایسی تحاریر لکھی جا رہی ہیں جو محض جذبات پر مبنی ہیں اور قاری پڑھتے ساتھ ہی جذباتی ہو کر اپنے نفس کی قید میں چلا جاتا ہے اور جنسی بے راہ روی کو بڑھانے کے لیے کچھ غیر موضوع مواد بھی لکھا جا رہا ہے۔ یہاں پہ ایک لکھاری کو یہ بات ماننی اور سمجھنی چاہیے کہ ایک لکھاری سب سے پہلے اللّٰه کی طرف سے منتخب شدہ نمائندہ ہوتا ہے جو اپنے قلم سے معاشرت کی پروان چڑھاتے ہوئے روشنی کو مزید تیز اور اندھیرے کو ختم کر دیتا ہے۔جن لوگوں کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھاتا لکھاری اپنے قلم سے ان بے بسوں اور بے سہاروں کے لیے ان کی آواز اور انصاف کا ذریعہ بنتا ہے۔ایک لکھاری معاشرے کے دبے ہوئے پہلوؤں کو ابھارتا ہے۔لکھاری ایک انقلابی شخص ہوتاہے۔وہ اپنے لفظوں سے دوسروں کے لیے مرہم ، مسکراہٹ اور امید کی کرن بنتا ہے ۔کیونکہ وہ عام انسانوں کی طرح صرف آنکھ سے نہیں دل سے دیکھنے اور پرکھنے کا ہنر بھی رکھتا ہے۔ایک لکھاری ملک،قوم اور مذہب کو فقط اپنے قلم سے فتح کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر ترقی سے محروم قوموں کے لکھاری بیک وقت قلم کو متحرک کر لیں تو اس قوم کو بلندی سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔یہ ہیں ایک لکھاری کی خصوصیات جنہیں شاید خود ایک لکھاری بھی نہیں جانتا اور اسی وجہ سے وہ لکھاری سے حقیقی لکھاری بننے سے قاصر ہے۔ لکھاری کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ صرف کچھ حد تک نہیں بہت حد تک معاشرہ اس کے کندھوں پر استوار ہوتا ہے۔ جب ساری دنیا خود میں مگن ہوکر ہر چیز کو بھولی ہوتی ہے تو تب ایک لکھاری معاشرے کے نازک نکات پہ اپنے قلم کو متحرک کرکے پوری دنیا میں ہلچل مچا دیتا ہے۔ ایک لکھاری کا قلم اٹھانے سے پہلے اس بات سے آگاہ ہونا ضروری ہے کہ اسے کیا لکھنا ہے؟ سب سے بہترین لکھاری انصاف لکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے قلم کو رب کی طرف سے ودیت کیا گیا انعام سمجھتا ہے اور کبھی اس کا غلط استعمال نہیں کرتا۔ وہ تلوار کی طرح باطل کو کاٹنے اور چراغ کی مانند حق کو پھیلائے گا تو ہی وہ لکھاری کہلائے گا۔ معاشرتی پہلوؤں کے علاوہ لکھاری کو شاعری اور دوسری اصناف میں وہ الفاظ لکھنے چاہیے جو قاری کو پڑھتے ہی محسوس ہوں کہ وہ الفاظ ایک دلاسہ ہیں ایک امید ہیں اور پڑھنے والے کوان کی بہت ضرورت بھی ہے اور یہ لفظ قاری کے لیے ہی لکھے گئے ہیں ۔لکھاری کو وہ الفاظ لکھنے چاہیے جو مشعل راہ ہوں اس میں لکھاری کا اپنا کوئی ذاتی مفاد شامل نہ ہو بلکہ معاشرے اور لوگوں کی بھلائی اور احساس پر مبنی سچی اور کھری باتیں ہوں۔ ایک لکھاری کو ایسی تحاریر لکھنی چاہیے کہ بے شک وہ مزاح نگار کیوں نہ ہو لیکن اس تحریر کا کوئی ایک مقصد اور اس میں کوئی ایک مثبت چیز ضرور ہونی چاہیے۔لکھاری کو اپنی سوچ نہیں معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے قلم کو تحریک دینی چاہیے تا کہ رکا ہوامعاشرہ حقائق سے واقف ہو کر آگے بڑھ سکے اور اپنے بھولے ہوئے ورثے کو یاد رکھ سکے ۔کیونکہ سچے لکھاری کے بغیر کسی ملک کی ترقی نا ممکن ہے۔ ایک لکھاری کو اپنے کام میں ضم ہو کر اپنا آپ اپنی ‘ انا ‘ کو بھول کر صرف اپنے کام سے عشق کرتے ہوئے لکھنا چاہیے تاکہ اس کے الفاط تاثیر پکڑنے کے ساتھ ساتھ عمل تک بھی پہنچ سکے۔ لکھاری کو آندھیوں اور بگولوں میں سہارا ہونا چاہیے۔ طوفان اور بارش میں چھتری اور سائبان ہونا چاہیے ۔ کیونکہ لکھاری ایک ایسا شخص ہوتا ہے کہ دبا ہوا اور مجبور معاشرہ ہمیشہ اس کی رہنمائی اور الفاظ کی تلاش میں رہتا ہے ۔اس لیے لکھاری کو ہمیشہ متحرک سچا اور انصاف پسند ہونا چاہیے پہلے اپنی ذات میں پھر معاشرے کے لیے تا کہ اس کے لکھنے کا مقصد پورا ہو سکے ۔کیونکہ کچھ نہ کچھ تو سب ہی لکھتے ہیں مگر حقیقی لکھاری صرف انصاف لکھتا ہے وہ انتشار نہیں امن کا پیغام لکھتا ہے ۔وہ نفرت نہیں محبت کا درس دیتا ہے اور مذہب کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی قوم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کیونکہ لکھاری کو لکھاری ہونے کا عہدہ رب نے عطاء کیا ہوتا ہے اور اس کا صلہ بھی صرف اللہ کے پاس ہی ہوتا ہے اس لیے لکھاری کو ہر چیز سے بے نیاز ہو کر بس حق لکھنا ہوتا ہے۔ لکھاری پھول بنے تاکہ خوشبو بکھیر سکے لکھاری ڈھال بنے تاکہ معاشرے کی طرف اٹھنے والے تیراندازوں کا سر کچل سکے ۔ ایک لکھاری کو چاہیے کہ وہ اصلاحی اور فلاحی انسان بننے کے لیے بھرپور کوشش کرے تاکہ اس سے لوگ مثبت پہلو سمیٹ کر زندگی کی منفی سوچوں کو پیچھے چھوڑ سکے ۔ اللّٰه سے دعا ہے کہ اللّٰه پاک مجھ سمیت تمام لکھاریوں کو سچا کھرا ، منصف اور اپنے کام سے محبت کرنے والا بنا دے تا کہ معاشرے کا جو ستون ہمارے کندھوں پہ سوار ہے اسے قائم رکھتے ہوئے ہم قلم کا حق ادا کر سکیں ۔ کیونکہ قلم تھامنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ قلم کا حق ادا کیا جائے ۔ اللّٰه سب لکھاریوں کو ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین
Comments are closed.