امید کی کرن!!
اقراء اشرف(ظفروال)
آجکل کے دور میں ہم انسان اللہ پہ امید نہیں رکھتےاور پھر اگر زرا سی بھی زندگی میں اونچ نیچ ہو جائے تو کہتے ہیں اللہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں کرتا ہے جبکہ انسان خود اللہ کے دئیے سے کبھی خوش نہیں ہوا کبھی اس نے شکر ادا نہیں کیا کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے ہمیں اتنی نعمتوں رحمتوں سے نوازا ہمیں اولاد جیسی نعمتوں سے نوازا-انسان کبھی شکر بجا نہیں لایا-ویسے تو لوگ کہتے ہیں "امید پہ دنیا قائم ہے”لیکن یہ امید دنیا سے نہیں اللہ سے لگاؤ پھر دیکھنا وہ تمہیں وہ کچھ دے گا جس کا تجھے گماں بھی نہیں-وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کی امیدوں پہ پورا اترتا ہے اور اللہ ہی پورا اتر سکتا ہے انسان سے نہیں امید کی لُو اللہ سے لگا کے تو دیکھو وہ ہر امید پہ پورا اترتا ہے وہ بہت "غفورو رحیم”ہے-انسان ہمیں بس امید کا لارا لگانا جانتے ہیں وہ اگر پورا کر بھی سکتے ہوں اللہ نے اتنا دیا ہو پھر بھی وہ نہیں کرتے ہاں اگر ان کو اس میں کوئی اپنا فائدہ نظر آئے پھر وہ کرنے کا سوچتے ایسے بس وہ لارا لگانا جانتے ہیں- انسان انسان کی امید کو بڑے ہی احسن طریقے سے توڑنا جانتا ہے اس کو پورا کرنا نہیں -لیکن وہ اللہ ایسا کبھی نہیں کرتا اسے بندے سے کوئی مفاد نہیں وہ بس دیتا ہے اور کہتا ہے میں بھی تو دیکھوں میرا یہ بندہ میرا کتنا فرمانبردار ہے وہ کتنا شکر ادا کرتا ہے میرا وہ انسان سے لے کے اور دے کے بھی آزماتا ہے -جو اللہ کے نیک بندے یا جن کی رب سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ ہر حال میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں-امید کی کرن اللہ سے لگاؤ -امید کی کرن سے یاد آیا ایک عورت تھی اس کی چار بیٹیاں تھیں لوگ اسے باتیں کرتے اور وہ بھی انسان تھی کبھی کبھی رو بھی دیتی اور اپنے رب سے کہہ بھی دیتی کیا تھا یا اللہ اگر توں مجھے بھی ایک بیٹا دے دیتا-اس نے ہر بار یہی دعا کرنی لیکن جو اللہ کو منظور ہو ہوتا تو وہ ہے اس میں کبھی بھی انسان کو نا شکرا پن نہیں دیکھانا چاہیئے اس عورت کو اس بار بھی اللہ نے بیٹی دی وہ بہت روئی اور اس بار اس نے شکوہ نہیں کیا بلکہ اللہ کا شکر ادا کیا کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے بیٹی دی پتہ نہیں یا اللہ تو کتنا کہ خوش ہے کہ تو نے مجھے بیٹی جیسی رحمت سے نوازا- اللہ کو اس کی یہ ادا بہت پسند آئی-اس نے اپنی بیٹیوں کی بہت اچھے طریقے سے پرورش کی-ان کو دین اور دنیا کی تعلیم دلوائی-اللہ نے اس کی اسی ادا کو پسند کرتے ہوئے اس بار اللہ نے اس عورت کو بیٹا عطا کیا-یہی ہوتی ہے اپنے رب سے امید کی کرن-آج اس کی یہ امید کی کرن بھی پوری ہو گئ اس نے اپنے رب کا بے انتہا شکر ادا کیا اور کہا کہ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ بار شکر ادا کرتی ہوں تو نے مجھے بھی بیٹے جیسی نعمت سے مالا مال کیا-"وہ اللہ بہت غفورو رحیم ہے”یا اللہ تیری رحمتیں,تیری نعمتیں, بہت وسیع ہیں-اس سے انکار نہیں-
اے انسان کبھی بھی اپنے رب سے امید کا دامن نہ چھوڑو وہ اللہ ہے ہر کسی کی امیدوؤں کو پورا کرنے والا- (بے شک)
Comments are closed.