"پاکستانی ڈرامے اور معاشرہ”

 

آفرینش عارف (نارووال)

جیسا کہ آج کل نیوز چینلز کی بھرمار ہے اس ہی طرح پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے بھی کافی ترقی کی ہے۔ ڈراموں کی پروڈکشن، کاسٹ، اور اسکرپٹ میں تبدیلیاں آئی ہیں جس کا ثبوت شائقین کے بڑھتے ہوئے رجحان سے دیکھا جاسکتا ہے۔

کہانیوں میں جہاں تھوڑی بہت تبدیلیاں آئی ہیں وہاں جو ایک بات زہن میں کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ بناوٹ کو بہت فروغ دیا جا رہا ہے۔ جو چیزیں ڈراموں میں دکھائی جا رہی ہوتی ہیں وہ اصل میں معاشرے میں نظر آتی ہی نہیں ہیں۔

جب کسی کو امیر دیکھایا جاتا ہے تو اس قدر امیر کہ جیسے مغلیہ دور کے بادشاہوں والا طرزِ زندگی اپنائے وہ انسان کسی اور ہی دُنیا میں جی رہا ہوتا ہے۔ جیسے دُنیا کی تمام طاقتیں اُسی ایک انسان میں دیکھا دی جاتی ہیں۔

جب کسی لڑکی کو ماڈرن دیکھایا جاتا ہے تو تنگ اور چھوٹے کپڑوں سے اُس کی ماڈرنزم کو دیکھایا جا رہا ہوتا ہے۔ وہ لڑکی کہیں بھی جائے شراب، جوا ، زنا ۔۔۔ یہ سب کرے وہ ماڈرن ہے۔ ماڈرن ہونے کا نظریہ ہی بدل دیا جاتا ہے ڈراموں میں ۔ حلانکہ ماڈرن انسان سوچ سے ہوتا ہے اور ایک ماڈرن سوچ کا انسان ایسی گھٹیا حرکات سے ہمیشہ دور رہتا ہے۔

جب کسی لڑکی کو غریب دیکھایا جاتا ہے تو ساتھ اُس کی عزت آبرو کی بھی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں کہ اب وہ غریب ہے تو کوئی بھی بلاوجہ اُسے تنگ کر سکتا ہے۔ ڈراموں میں اُس لڑکی کو جیسے گونگی بنا دیا جاتا ہے کہ اُس کے ساتھ کُچھ بھی غلط ہو رہا وہ بس خاموش رہتی ہے ۔ کوئی بھی اُس پر بُری نظر ڈال رہا بس وہ چُپ ہے۔

اب ایک چیز یہ کہ ہر غریب لڑکی کے لیے کوہ کاف کے امیر شہزادے ہی دیکھائے جاتے ہیں کہ ایک امیر زادہ آتا ہے اور وہ اُس غریب لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا. حلانکہ حقیقت میں ایسے واقعات 5 فیصد نظر آتے ہیں۔ حقیقت میں لوگوں سٹیٹس کو لے کر کُچھ زیادہ ہی تنگ نظر ہوتے ہیں۔

ساس بہو کے جھگڑے، دقیانوسی باتیں۔ گھروں میں فساد کے قصے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل ۔ بہن بھائیوں کی دشمنیاں ، ایک دوسرے سے جیلسی۔ رشتوں کے معاملے میں تنگ نظری۔ ہمارے ڈرامے انہی قصوں کے گِرد گھومتے ہیں۔

بات پیار و محبت کی کی جائے تو آجکل ڈراموں میں زیادہ تر دیکھایا ہی پیار ، عشق ، جنون جاتا۔ ہر گھر میں محبت کی داستانیں ۔ محبت میں بغاوت۔ ہر محبت میں قیدو کے کردار کے کُچھ رشتہ دار۔

اب اگر شائقین پر ان ڈراموں کے اثرات دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے کہ لوگ بناوٹی چیزوں کو اپنانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ پہننے، اوڑھنے سے زندگی گزارنے کے تمام طریقوں میں لوگ ڈراموں کے اسٹارز کو کاپی کرنے لگے ہیں۔ زیادہ تر لڑکیوں کی نظر اسی بات پر ہے کہ محبت صرف امیر زادوں سے ہی ہوتی ہے اور وہ امیر زادوں کے انتظار میں ہی اکثر مخلص اور پیار والے رشتوں کو بھی دھتکار دیتی ہیں۔

لڑکے بھی ڈراموں کا اس قدر کاپی کرتے ہیں کہ اُن کی نظر میں بھی محبت کے معنی ناجائز طرز سے ہی جنم لیتے ہیں۔ لوگ نشہ کرنا اصلحہ رکھنا ان سب چیزوں کو امیروں والی زندگی سمجھ کر اپنانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

اب چھوٹی چھوٹی عمروں میں لوگوں میں محبت کرنے کا جنون طاری ہو جاتا ۔ لوگ ہر جائز نا جائز طریقے کی محبتوں میں ملوث ہو کر اپنا زہنی سکون تباہ کیے بیٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ روحانی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ڈراموں میں کُچھ چیزیں اچھی بھی ہوتی ہیں مگر اگر ایسی بناوٹی چیزوں پر ڈرامے بنانے کی بجائے حقیقت پر مبنی سیریلز لوگوں کے سامنے پیش کیے جائیں تو یہ شائقین کی زندگیاں بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ لوگ اُس چیز کو کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُن کے سامنے دِکھایا جا رہا ہوتا ہے۔

Comments are closed.