فیشن کے نام پے بےحیائی کا بول بالا

 

از قلم؛ ارم ناز(کھنڈہ، صوابی)

اچھا اور صاف ستھرا پہنا اوڑھنا اور اچھا دکھنا ہر فرد کا حق ہے اور پھر صفائی تو نصف ایمان بھی ہے تو یہ تو اور بھی اچھا ہے کہ انسان پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت وہ صاف ستھرے پہناوے پہن کر خود بھی صاف و شفاف رہ کر اچھے دکھے اور ایمان کا نصف حصّہ بھی پورا کریں۔جس سے اللّه تعالیٰ اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد ﷺ دونوں راضی بہ رضا ہوں گے۔کیونکہ صفائی تو حضور ﷺ کی سنّت ہے۔پھر اس میں تو کسی قسم کی کوئی ممانعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہاں میں ایک چھوٹا سا قصّہ پیش کرنا چاہوں گی اپنے ہی علاقے میں موجود ایک سفید پوش بزرگ کا جنہیں میں نے ہمیشہ ہی صاف ستھرے سفید کپڑوں اور اچھی طرح بنا سنورا ہی دیکھا تھا۔اُن کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں تھے لیکن اگر کوئی باہر کا بندہ آتا تو ہر گز اُس کو یہ پتہ نا چلتا کہ اُن کے مالی حالات اِس قدر خستہ ہیں۔ایک دن کسی نے اُن سے پوچھا بابا جی آپ کے مالی حالات اِس قدر خراب ہے پتہ نہیں آپ کھانے میں کیا کھاتے ہوں گے، کھاتے بھی ہے یا نہیں لیکن کپڑوں وغیرہ میں آپ کے کبهی کوئی خرابی یا گندگی نہیں دیکھی ہم نے تو ایسا کیسے ہیں اور کیوں ہے؟؟

یہ بات سن کہ وہ بابا جی مسکرائے اور کہا ہاں بیٹا جی تن کا جامہ پاک و صاف ہونا چاہیے باقی رہا پیٹ کا سوال تو پیٹ کے اندر نوالہ کس چیز کا گیا ہے یا گیا بھی ہے کہ نہیں اس کا کس کو پتہ چلتا ہے۔یعنی انسان کی شخصیت کا وقار اُس کے پہنے اوڑھنے کے سلیقے سے ہے، اچھا یا مرغن اور مہنگا کھانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

تو ثابت ہوا کہ سلیقے کے ساتھ اچھا پہنا اوڑھنا اچھی بات ہے اِس سے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔انسان کا اچھا لباس اُس کی شخصیت کو معتبر بناتا ہے اور اِس کی عزت میں اِضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔لوگ اُس سے مرعوب ہوتے ہیں اور اُس کی شخصیت کو پسند کرتے ہیں۔

لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہوتا ہے جب لباس اور پہناوے باعزت، باحیا اور بحیثیت مسلمان باپردہ ہو۔معاشرے کے رسم و رواج کے عین مطابق ہو۔ان سب باتوں کو مدِنظر رکھ کر جو لباس پہنا جائے وہی عزت و وقار میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔لیکن افسوس کہ آج کل کے زمانے کے لوگ ان سب باتوں سے ناآشنا ہو کر بے حیائی، بے شرمی اور بے پردگی کے اعلیٰ ترین مظاہرے کرنے والے لباس کو ہی عزت و وقار کا زریعہ سمجھتے ہیں۔آج کل کی عورتوں اور مردوں کے لباس دیکھ کر سمجھ ہی نہیں آتا کہ اُنہیں بالباس کہا جائے یا پھر بے لباس۔

آج کل کے دور میں عزت کا معیار انتہائی بے دردی کے ساتھ بدل دیا گیا ہے اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ اصل عزت و وقار پردے میں ہے پھر بھی وہ اِسی بے پردگی اور بے حیائی کے راستے پر چلے جا رہے ہیں۔لوگ اِسی بے پردگی اور بے حیائی کو پسند کرتے ہیں جس کا انجام جہنم کی آگ ہے اور کچھ بھی نہیں لیکن وہ یہ سب چھوڑنے کو تیار ہی نہیں کیونکہ اُن کے خیال میں یہ سب فیشن جو ٹھرا۔

لوگ روز بروز بے حیائی اور بے پردگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔آج کل جہاں بھی جاو کسی شادی کی تقریب وغیرہ میں تو لوگ ایسے ایسے لباس زیب تن کئے ہوئے ہوتے ہیں کہ اُنہیں دیکھ کر ایک باپردہ بندہ شرم سے پانی پانی ہو جائے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری بہت سی باپردہ خواتین جو اپنی روز مرہ کی زندگی میں پردے کا اِحتمام کرتی ہیں وہ بھی ایسی تقاریب میں فیشن کے نام پر بے پردہ ہو کر پردے کا مذاق اڑاتی ہوئی نظر آتی ہیں اور اُنہیں نہ تو اللّه کا خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی اُنہیں کسی قسم کی کوئی جھجک کا احساس ہوتا ہے اور اگر کوئی اُن سے کہہ دیں کہ یہ لباس ٹھیک نہیں اور شریعت کے خلاف ہے تو آگے سے کہتی ہیں کہ آپ کو کیا پتہ یہ تو آج کل کا فیشن ہے اس لئے آپ اپنے کام سے کام رکھے۔

ہک ہا یہ فیشن!! ارے میں پوچھتی ہوں کیسا فیشن اور کہاں کا فیشن؟ کیا بے پردہ ہونا فیشن ہے؟ کیا اپنے جسم کو کسی شو پیس کی طرح پیش کر کے اُس کی نمائش کرنا فیشن ہے؟

نہیں بلکل بھی نہیں یہ فیشن نہیں بلکہ یہ بے حیائی، بے شرمی اور بے پردگی کے ساتھ ساتھ خود کو جہنم کا ایندھن بنانے کا ذریعہ ہے۔

معزز قائرین یہاں میں بات صرف خواتین کی نہیں کر رہی کیونکہ آج کل مرد حضرات کا لباس بھی لباس کہلائے جانے کے قابل نہیں۔اگر ایک طرف خواتین بِنا آستین والی تنگ اور آدھی آدھی قمیضیں، مردانہ لباس، تنگ پاجامے، ٹائٹس اور آج کے دور کا ایک اور شاہکار یعنی پھٹی ہوئی جینز جو کہ ریپڈ جینز کہلائی جاتی ہے یہ سب پہن کر خود کو سرِعام رسوا کر رہی ہیں تو وہی پر مرد حضرات بھی کھلے ہوئے گریبان اور وہی جدید دور کی شاہکار یعنی ریپڈ جینز کے ساتھ ساتھ زنانہ طرز کے لباس پہنے گھومتے پھرتے خدائے تعالیٰ کی لعنت سمیٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اِن کھلے گریبانوں کو دیکھ کر ہمیشہ ذہن میں یہی سوال اُبھرتا ہے کہ اِن گریبانوں میں لگے بٹنز کا آخر کار مقصد کیا ہے؟ اور ساتھ ہی آج کل کے انتہائی ٹرینڈڈ ریپڈ جینز کو دیکھ کر اِس کے پہننے والوں پر ہنسی کے بجائے رحم آتا ہے اور افسوس بھی جو بیچارے اتنے اتنے پیسے دینے کے بعد بھی غریبوں سے كمتر کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں جو نہ تو اُن کے جسم کو چھپانے میں کامیاب ہو رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی اُن کے وقار میں اِضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ وہی لباس ان کا ایک عجیب و غریب قسم کا مضحکہ خیز حُلیہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن ایسے لباس پہننے والے لوگ تو سرِ عام ایسے گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے اُنہوں نے کوئی شاہی پوشاک زیب تن کیا ہوا ہو۔اُن لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اُن کا یہ فیشن اُن کو اللّه تعالیٰ کی لعنت اور ناراضگی کا مستحق بنا رہا ہے۔اُن لوگوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ کس طرح بے حیائی کے راستے پے چل کر جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں خود کے لئے ٹھکانہ بنا رہے ہیں لیکن وہ لوگ انجان بنے ڈھیٹوں کی طرح اپنی روش پر ڈھٹے رہ کر نصیحتوں اور دلائل کو جھٹلاتے ہوۓ بے حیائی اور بے پردگی میں ڈوبے ہو کر ہر وہ گناہ کرنے میں لگے ہوۓ ہیں جو ایک باحیا اور باپردہ اِنسان سوچ بھی نہیں سکتا۔

اِنہی لوگوں کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ؛

جب تم لوگ حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو (یعنی جب حیا ہی نہیں تو سب برائیاں برابر ہیں)۔

یعنی ثابت ہوا کہ بے حیائی اِتنی بڑی بُرائی ہے کہ اگر اِنسان اِس سے باز نہ آئے تو پھر اُس سے ہر قسم کی بُرائی کی اُمید کی جا سکتی ہے۔

بےحیائی کے بارے میں اِسی طرح کی مختلف احادیث اور آیاتِ کریمہ موجود ہیں اور مسلمانوں کو ہر بات کا پتہ بھی ہے لیکن پھر بھی وہ اٙندھے اور بہرے بنے ہوۓ ہیں اور فیشن کے نام پر خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو تباہی و بربادی کی طرف لیکر جا رہے ہیں۔

یہ جو والدین بچوں کو بچپن ہی سے آدھے ادھورے لباس پہنا کر اُن کے اندر موجود شرم و حیا کو مار دیتے ہیں تو پھر وہ بڑے ہو کر ننگے لباس پہنے میں عار محسوس نہیں کرتے اور پھر وہ ہر وہ بُرائی کرتے ہیں جو بے حیائی اور بے پردگی کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ اُن کے اندر بےحیائی کو برا سمجھتے والی حِس ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

ایسا سب پتہ ہے کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ انہیں بچپن ہی سے اپنے بڑوں کی طرف سے وراثت میں بےحیائی سے محبّت ملی ہوئی ہوتی ہے۔اِس لئے تو پھر انہیں نصیحتيں اور دلائل فرسودہ اور فضول لگتے ہیں۔اور وہ کہتے ہیں نا کہ "جب بےحیائی سے محبّت ہو جاتی ہے تب سچی باتیں اولڈ ورژن اور گندی باتیں ماڈرن ورژن لگتی ہے”۔اور یہی تو زوال ہوتا ہے نسلوں کا اور یہی سے تو تباہی شروع ہوتی ہے اقوام کی۔

تو میرے عزیز قائرين و ہم وطنوں آئیے ہم سب مل کر فیشن کے نام پے جاری اِس بے حیائی کا خاتمہ کریں۔اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بے حیائی اور بے پردگی کے اِس دلدل میں گرنے سے بچائے اور اُنہیں معاشرے میں موجود کالی بھیڑیوں کا لقمہ بننے سے پہلے پردے کی طرف راغب کریں تاکہ وہ اللّه تعالیٰ کی حفاظت میں آجائے۔اپنے بچوں کی تربیت اِسلام کے ایسے سنہرے اُصولوں کی بنیاد پر کریں کہ وہ حیا اور بےحیائی میں موجود فرق کو پہچان جائے۔آئیے ہم سب اُن تمام برانڈز اور کمپنیوں کے خلاف متحد ہو جائے جو ایسے ننگے لباس بنا بنا کر ہماری نوجوان نسلوں کو فیشن کے نام پر بے حیائی کی طرف راغب کر کے انہیں اپنے سنہرے اقدار اور رسم و رواج سے بیگانہ کر رہے ہیں۔

ہم سب کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر بےحیائی اور بےپردگی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ہم، ہماری آنے والی نسليں اور ہماری قوم اِس دلدل میں گرنے سے بچ جائے۔کیونکہ اگر ہم ابھی کچھ نہیں کریں گے تو وہ وقت دور نہیں کہ جب مغرب کی طرح کا رہن سہن ہمارے یہاں بھی رائج ہو جائے گا جو تقریباً ہو بھی چکا ہے اور یقیناً یہ ایک تباہ کن اور جہنم تک لے جانے والا راستہ ہے۔

اللّه تعالیٰ ہم سب پر اور ہمارے ملک و قوم پر اپنا خاص کرم فرماۓ اور ہمیں بے حیائی اور بے پردگی کے اس گہرے دلدل میں گرنے سے محفوظ فرماے آمین۔

آخر میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یہی کہوں گی کہ اسلام کو جاننے کی کوشش کرے اپنی زندگیوں میں اِسلام کو اولیّت دیں تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کہ زندگی کیا ہے اِسے کیسے گزارنا چاہیے اور اللّه تعالیٰ کی خوشنودی کیسے حاصل کی جاتی ہے۔اللّه تعالیٰ ہمیں اِسلام کے سنہرے اُصولوں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الٰہی آمین۔

والسلام!

Comments are closed.