صراطِ مستقیم
ایمان ملک اعجاز
صراطِ مستقیم پتہ ہے کون سا راستہ ہوتا ہے؟
وہ راستہ جس پر چلنے والے بہت مشکلوں کا سامنا کرتے ہیں پر کبھی ہارتے نہیں ان کا یقین بس اللہ ہوتا ہے۔ وہ چلتے رہتے ہیں چاہے انہیں کوئی منزل نظر نہ آئے پھر بھی وہ چلتے ہیں
چلتے ہیں اللہ کا نام لے کے بغیر رکے بغیر سوچے بس چلتے ہیں۔ یہ ہے صراطِ مستقیم۔
اور پتہ ہے کیا صراطِ مستقیم پر سب نہیں چل سکتے بس وہی چل سکتے ہیں جن کا یقین آسمان ہو جن کا صبر چٹان کی مانند ہو۔
ایمان یہ صراطِ مستقیم تو اللہ کا راستہ ہے نہ؟
بالکل!
تمہیں پتہ ہے فرح جب میں پانچ سال کی تھی ابا ہمیشہ ایک ہی بات سمجھاتے تھے کہ وہ کام کرو جو تمہیں صراطِ مستقیم تک لے جائے
اور کبھی کوئی ایسا کام نہ کرنا کے قیامت کے دن اللہ کو منہ نہ دکھا سکو۔
یہ بات تب سے دماغ میں نقش ہوچکی ہے۔
ہم لوگ بھی کتنے پاگل ہوتے ہیں نہ فرح وقتی محبتوں کہ، کبھی پیسے کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں پر کبھی بھی اللہ کے پیچھے نہیں بھاگتے
اور اصل سکون تو بس اللہ کی یاد میں ہے فرح۔
شام ہوگئی ہے
اب میں چلتی ہوں۔ کل ٹائم پے آجانا ورنہ حنا ناراض ہو گی۔ اچھا اچھا آجاوں گی ٹائم پر فرح نے اکتا کر جواب دیا اور دونوں اپنے اپنے گھر کو چلی گئی۔
اگلے دن حنا کی بارات تھی فرح ایمان کے گھر میں آگئ تھی اب دونوں اکٹھی تیار ہورہی تھی۔ ایمان نے جلدی جلدی بال بناۓ اور فرح کو بھی جلدی کرنے کو کہا۔ جس پر فرح اکتا کے بولی یار ایمان تم تو ہو ہی حسین مجھے بھی تھوڑا سا تیار ہو لینے دوں۔ کیا پتہ کوئی پسند آجاۓ۔
ایمان تحمل سے بولی فرح
*یہ دنیا ایک بازار ہے اور دنیا جے بازار میں سب سے سستا حسن بکتا ہے صرف چند میٹھے لفظوں کی مار ہے یہ سو اس پے کبھی بھی اتراتے نہیں ہے۔*
فرح تیار ہوگئی اور دونوں چل گئی۔ رات کو ایمان گھر آئی تو کافی تھکی تھی وہ آج کل صرف صراطِ مستقیم کو سوچ رہی تھی کہ آخر وہ ایسا کیا کرے کے وہ اس پر چل سکے۔
اسے دو سال پہلے کے حالات یاد آئے سب کچھ کتنا بکھرا ہوا تھا تب تو وہ صراطِ مستقیم کو جانتی بھی نہیں تھی تب تو بس ایک شخص کے گرد گھومتی تھی۔ اس وقت اس کا دل بہت برے منجدار میں تھا جب ہم کسی سے محبت کرے اور وہ ٹھوکر مار دے ہمیں تو وہ تکلیف برداشت نہیں ہوتی اس سے بھی نہیں تھی ہو رہی۔ مگر پھر اس نے قرآن کھولا اور اسے لگا پورا قرآن اسے حوصلہ دے رہا ہے پورا قرآن اس سے کہہ رہا ہے جب بهى دل بہت دکھا هو جب بهى اندھیرا بہت بڑھ جائے جب بهى مایوسیوں کے غلبے هونے لگ جائے تو تب تب یاد رکھ لینا اک مشکل دو آسانیوں کے بیچ هے
وه کریم هے کرم کرے گا
وہ رحمان ہے رحم کرے گا
وه اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا
وه اپنے بندوں پر اوقات سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا،
بس بندوں کو چاہیے اس_کى_رحمت_سے_مایوس_نا_هو
رحیم کریم رحمان هے وه اپنے بندوں کا ان سے بڑھ کر چاهنے والا هے بس اسکو پکارى جاؤ
وه پکارنے والے کى پکار نا صرف سنتا هے بلکے داد رسى بهى کرتا هے بس پکاروں اور سچے دل سے پکارتے هى چلے جاو
اور یاد رکھو وہ سنتا یے نوازتا بھی ہے بس صبر کریں.
کیا پتا ہم منزل سے ایک قدم دور ہو بس.
بس ہارنا نہیں ہے. ہا
مانگتے رہنا ہے اللہ سے کوئی جو بھی کہے کہنے دوں تم بس اللہ پر یقین رکھو وہ دے گا اور بہت جلد دے گا۔
قرآن نے ہر مشکل حالات میں اسے تھاما تھا۔ اسے زندگی سے کوئی گلہ نہیں تھا اب۔ اب بس اسے اللہ کو منانا تھا اور اللہ کو منانا ہی صراطِ مستقیم ہے۔ وہ سمجھ گئ تھی اسے صراطِ مستقیم کا راستہ مل . گیا تھا وہ سکون سے سوگئی تھی۔
Comments are closed.