دامن کی فکر

آمنہ صغیر (سیالکوٹ)

 

پتا نہیں کپڑے دھوتے ہوئے اپنے کپڑے گیلے ہونے سے کیسے بچا لیتے ہیں۔ میرے تو سارے کپڑے بھیگ جاتے ہیں اور ٹھنڈ سے برا حال ہو جاتا ہے ۔ پروین سخت سردی میں ہانپتی ہوئ بولی۔ارے! یہ ساتھ والی سکینہ بھی تو کپڑے اتوار اور بدھ کو دھوتی ہے ذرا چھت پر چڑھ کر نظر تو ڈالوں بھلا وہ بھی میرے جیسے ہی بھیگ جاتی ہے ۔ ساتھ کپڑوں والی ٹوکری بھی لے جائو گی کپڑے پیھلا کر، کندھوں کو دھوپ لگوا کر سکینہ پر نظر ڈال لو گی۔ ارے! یہ کیا سکینہ پر نظر پڑتے ہی وہ حیران رہ گئ اس کے کپڑوں پر ایک چھینٹ بی نا ہے۔ جبکہ پائوں گیلے نظر آرہے تھے۔سکینہ! سکینہ! سکینہ پروین کو دیکھ کر چھت پر آگئ ۔ کیا ہوا بہن! ارے میں نے بی کپڑے دھوئے اور تو نے بھی ذرا میرے کپڑے دیکھو اور اپنے بھی ۔ آج مجھے بتا دو تمہارے کپڑے کیو نھی بھیگتے ؟ سکینہ تو بڑی بھولی ہے ساری عمر گزر گئی کپڑے دھوتے دھوتے مگر ابھی تک کپڑے بچانا نہیں سیکھی۔ چل سن ذرا غور سے۔۔۔۔۔ جب پانی کی طرف جاتی ہوں تو اپنے دل میں ارادہ کر لیتی ہوں کہ پائوں بھی نھی بھیگنے دوں گی اور سارے کپڑے بغیر بھیگے دھوئوں گی۔ مگر تیرے پائوں تو گیلے ہے ۔ پروین فٹ سے بولی۔ پوری بات سن کر بولا کرو۔ بڑی جلد باز ہو۔ سکینہ تیوری چڑھاتے ہوئےبولی۔ اصل میں جب پائوں بچانے کی فکر کرتی ہوں تو بہت محتاط رہتی ہوں ۔ بہت احتیاط کرتی ہوں۔ اپنے آپ کو چھینٹوں تک سے بچاتی ہوں۔ تھوڑا کپڑوں سے دور رہ کر کپڑوں کو نتھارتی ہوں۔ اس سارے کام میں پائوں تو گیلے ہو ہی جاتے ہے ۔ مگر سارے کپڑے بچ جاتے ہیں ۔ اور سارے کپڑوں کا گیلا ہونے سے بچ جانا ہی میرا اصل مقصد ہوتا ہے جو پیروں کا خیال رکھنے کی وجہ سے پورا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اگر میں یہ سوچوں کہ پائوں تو گیلے ہونے ہی ہے باقی کپڑوں کی احتیاط کرو گی۔ تو پھر پانی تو پانی ہے میرے پیروں کے ساتھ ساتھ ٹخنوں کو بی بگھو ڈالے گا۔ سکینہ ٹخنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ اچھا! تو ساری بات احتیاط کی ہے۔ جتنی زیادہ احتیاط اتنا زیادہ فائدہ۔ پروین جو گھریلو کاموں میں تو اتنی سمجھدار نہ تھی سکینہ کی بات پر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ سکینہ کو خدا حافظ کہ کر نیچے تو لوٹ آئی مگر کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی پروین! تم پورے کپڑوں کو پانی سے بچانے کے لیے پائوں تک نہ بگھونے کا ارادہ کرتی ہو اور چھینٹ تک سے بچنے کی کوشش کرتی ہو جبکہ میں گناہوں سے بچ کر زندگی گزارنا چاہتی ہوں مگر اس سلسے میں چھوٹے چھوٹے گناہوں سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کیوں نہیں کرتی جس طرح تم پانی کے چھوٹے چھوٹے قطروں سے بچنے کی کوشش کرتی ہو۔ اتنے میں عصر کا وقت ہوا پروین نے پاک صاف لباس پہنا اور اپنے دامن کو گناہوں سے بچانے لیے اللہ کی یاد میں مشغول ہو گئی۔

Comments are closed.