سرکار کی بدترین فضیحت کی گئی ہے

     سرکار کی بدترین فضیحت کی گئی ہے-

       ٩/ فروری ٢٠٢١ کو راجیہ سبھا کی کاروائی کے دوران بنگال ترنمول کانگریس سے تعلق رکھنے والی اور ممتا بنرجی کی چہیتی مہوا مترا کی تقریر ہوئی، جنہوں نے سرکار کو حقیقی آئینہ دکھایا، چاپلوسوں، غلط بیانیوں اور حکومت کی طرفداریوں کے دوران حق کا کڑوا گھونٹ پلایا، ویسے بھی ان کی Boldness، بہادری بھرا انداز، عمدہ لہجہ، صاف ستھری ادائیگی، حوصلہ افزا تیور، شاندار استدلال اور تاریخی معلومات کے ساتھ دوٹوک بیان بازی نے سبھی کو سکتہ میں ڈال دیا، وہ پہلے بھی اپنے اسی خاص انداز اور سلوک کی وجہ سے مشہور ہوچکی ہیں، سی اے اے کو لیکر ان کی کی گئی تقریریں اور سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈالنے؛ نیز سرکار کو فاشسٹ کا لیبل دینے تک وہ کہیں بھی ایک انوکھے لیڈر سے کم نظر نہیں آتیں، آج پھر انہوں نے کسان آندولن کے ساتھ کی گئی بربرتا پر بات کی، قانون پر ہٹ دھرمی اور گورنمنٹ کی اَنا پر لب کشائی کرتے یہاں تک کہہ دیا کہ غازی پور بارڈر سے راتوں رات کسانوں کو ہٹانے کی کوشش، دہلی سرحدوں پر کیلیں، جالیاں اور تار لگوا کر انہیں روکنے کی سعی، راستے میں خندق کھو دینے، آنسو گیس، واٹر کینن اور پولس فوج استعمال کرکے ان کے ساتھ کی گئی ستم ظرفیاں یہ سب ایک بزدل کے کام ہیں، جب کسی بزدل کو ہتھیار یا پاور مل جائے تو وہ اپنی بہادری دکھاتا ہے، جبکہ بہادر پر حال میں بہادر ہوتا ہے، وہ بغیر ہتھیار کے بھی شجاعت سے بھرا ہوتا ہے، یہ صاف صاف مودی سرکار اور ان کے تمام ارکان کو چیلنج تھا، انہیں منہ پر بزدل کہا گیا؛ لیکن وہ سوائے خموش رہنے کے کچھ نہ کرسکے، سی اے اے پر قوانین اور ضوابط بننے کے بہانے اسے ٹال مٹول کرنے پر سرکار کو گھیرا اور ان کی نیت پر حملہ کیا، یہ جتلا دیا کہ اگر یہ اہمیت رکھتا تو اب تک اس پر کارروائی ہوچکی ہوتی، سب سے زیادہ ہنگامہ تو تب مچا جب انہوں نے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو جنسی زیادتی کا ملزم بتایا، اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ چیف جسٹس ہونے کے بعد صدر کی کرم فرمائی پر راجیہ سبھا کی زینت بن گئے، اس پر بی جے لیڈران نے بہت ہنگامہ کیا، راجیہ سبھا کے ضوابط اور قوانین کی یاد دہانی کروائی اور یہ دعویٰ کیا کہ کسی ممبر پر ایسا الزام نہیں لگایا جاسکتا، اور کسی چیف جسٹس پر بھی یوں الزام تراشی نہیں کی جاسکتی، اس کے دفعات بھی پیش کئے گئے، اسپیکر گزارش کرتے رہے کہ مہوا مترا کچھ وقت کیلئے رک جائیں مگر وہ رُکتیں اور پھر بول پڑتیں، یہ عجب کشمکش کا وقت تھا، پھر اس دوران انہیں بالآخر بھاشن دینے سے روک بھی دیا گیا؛ لیکن یہ بتایا گیا کہ رنجن گگوئی اب کوئی چیف جسٹس نہیں بلکہ عام آدمی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے جنسی الزام نہیں لگایا بلکہ اسے اقتباس کے طور پر پیش کیا ہے، بہرحال جب دوبارہ تقریر شروع کی تو پھر سرکار پر حملہ کیا، کسی خونخوار شیرنی کے مثل ٹوٹ پڑیں، ایک ایک نکتہ کو لیکر سرکار کو اس کی پالیسیوں پر کھری کھوٹی سنائی، رابندر ناتھ ٹیگور کی نظم بھی سنائی، اور اپنی بات پوری کی؛ حیرت کی بات ہے کہ جس وقت ہر کوئی مَن کی بات کررہا ہے، الوداعی خطاب کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے، مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے، نام نہاد جمہوریت اور مسلمانوں کی حالت پر فاخرانہ جملے کَس رہا ہے، اور راجیہ سبھا کو شوک سبھا بنارہا ہے اس وقت ایک خاتون نے کھلے عام چیلینج کیا ہے اور پوری سرکاری منصوبہ بندی کو آڑے ہاتھ لیا ہے.*

       *سچ کہا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایسی بے عزتی اور ذلت پر کوئی خودادر شرم سے پانی پانی ہوجائے، چُلّو بھر پانی میں ڈوب مرے، ایوان چھوڑ دے یا کم از کم اسے ترکی بترکی جواب دے کر اپنی صفائی یوں پیش کرے کہ کچھ تو داغ کم ہو؛ لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ مہوا مترا کا حرف حرف درست ہے، بزدل کے سامنے جب ہمت کی ہوتی ہے تو ویسے بھی اسے پسینہ آنے لگتا ہے، اور شاید ہوسکتا ہے کہ انہوں نے داغ اچھے ہیں والا سلوگن اپنا لیا ہو، پھر بھی ان موٹی کھالوں پر اس کا اثر نظر آرہا تھا پوری سرکار پر سناٹا پسرا ہوا تھا؛ مگر ہمیں معلوم ہے کہ انہیں بزدل کہہ دیں یا کچھ اور بھی کہہ دیا جائے وہ وہی کریں گے جو ان کا منصوبہ ہے، وہ یہ قطعاً نہیں چاہتے کہ ملک میں جے جوان جے کسان کی بقا رہے، وہ صرف سیاست اور ہندو راشٹر کے ساتھ اپنی ہندوازم کی دکان چلانا چاہتے ہیں، زعفرانیت کو بڑھاوا دے کر پورے ملک کو ایک ہی رنگ میں رنگ دینا چاہتے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ ٢٦/ جنوری ٢٠٢١ کو اتنا بڑا حادثہ ہوگیا لیکن اب تک کوئی خاص کارروائی نہ ہوسکتی، لال قلعہ کی عزت یعنی ملک کا وقار مجروح ہوا پھر بھی حیران کن بے اعتنائی پائی جارہی ہے، بڑی مشکلوں کے بعد آج ایک شخص کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جس نے کسانوں کو بھڑکانے اور لال قلعہ میں گھسنے کے ساتھ ساتھ پوری بھیڑ کو بے قابو کرنے کی کوشش کی تھی، اکیسویں صدی میں اتنا وقت لگنے کا مطلب ہی یہی ہے؛ کہ وہ شخص سرکاری یارانہ رکھتا ہے، اس کی پہچان کرلینے کے بعد باقاعدہ اس کی تصاویر مودی اور دیگر اعلی سیاست دان کے ساتھ سوشل میڈیا پر گردش بھی کر رہی تھیں، بہرحال سرکار کیلئے آگے کا راستہ آسان نہیں ہے، راجیہ سبھا کا سیشن جاری ہے، جہاں ہر دن کوئی نہ کوئی ایسا مدعی اٹھایا جاتا ہے جس سے سرکار کی فضیحت ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ یہ سرکار اس دفعہ اپنی فضیحت کروانے کیلئے ہی کامیاب ہو کر آئی ہے، ٢٠١٩ کی شروعات سے لیکر اب تک لگاتار عالمی سطح پر اور ملکی پیمانے پر ان کی پول کھل رہی ہے، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ آر ایس ایس کے یہ گُرگے کتنے خطرناک اور اَن پڑھ ہیں، جو ملک کو داؤ پر لگا کر اپبے مفادات پورا کرنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ ٢٠٢٤ تک ان کی ہر پرت اکھیڑ دی جائے گی.*

 Mshusainnadwi@gmail.com

Comments are closed.