والدین
سدرہ کنول (سیالکوٹ)
آج مجھے جس موضوع پر لکھنے کا موقع ملا ہے اسے میں اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتی ہوں. کیونکہ والدین کا نعم البدل اس دنیا میں موجود نہیں ہے. ان کے دم سے ہی زندگی گلزار ہوتی ہے. والدین اولاد کے لیے ایک ایسے سایہ دار شجر کی مانند ہیں جس کے سایہ میں اولاد کو ہر طرح کے نا موافق حالات میں بھی کسی قسم کا خوف نہیں رہتا. والدین کی اہمیت کا اندازہ ہمیں قرآن سے ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :-
"اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ.” (القرآن)
حدیث میں ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-
"ماں باپ کی طرف محبت سے دیکھنا مقبول حج کے برابر ہے.”
والدین ہماری تخلیق کا سبب ہیں. اولاد کے لیے والدین اپنی خواہشات ترک کر دیتے ہیں. وہ ساری زندگی صرف اور صرف اپنی اولاد کے اچھے مستقبل کے لیے کوشاں رہتے ہیں. جس قدر مشکلات کا سامنا انہیں اولاد کی خاطر کرنا پڑتا ہے. اولاد ساری زندگی بھی وقف کر دے پھر بھی ان کے احسانات کا بدلا نہیں دے سکتی. والدین کی خدمت کرنا جہاد سے افضل عمل ہے.
ایک دفعہ ایک صحابی نے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے جہاد پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا، آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا گھر میں والدین میں سے کوئی موجود ہے؟ جواب ہاں میں آیا، تو آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ان کی خدمت کرو، یہ جہادِ افضل ہے.
والدین اپنی زندگی میں ہی نہیں بعد میں بھی اولاد کے لیے رحمت اور سکون کا باعث بنتے ہیں. حدیث میں ہے کہ
"والدین کے لیے دعائے مغفرت کرنا، وسعتِ رزق کا باعث ہے.”
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے لیے صدقہِ جاریہ بنائے. آمین
Comments are closed.